مافیاز کے اصول

babar-sattar-2

بعض وکلا کے رویے وکلا برادری کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ میں چند درجن وکلا پاکستان بار کونسل( جو ہمارے پیشہ ور انہ اصول اور ضوابط طے کرنے والی سب سے ارفع باڈی ہے) کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کے لئےجمع ہوئے ۔ اس بار کونسل کے خلاف ایک 70 سالہ خاتون نے درخواست دی تھی ۔ اُس خاتون کو 2016 ء کے اختتام سے اب تک اپنی گمشدہ بیٹی (اور اُس کے بچے) کی تلاش تھی۔ سماعت کے دوران توانا بازو رکھنے والے جوانوں نے سائل خاتون کی وکیل ، بے خوف اور نڈر، عاصمہ جہانگیر پر الفاظ کی بمباری شروع کردی۔ اُس سماعت کے موقع پر وہ تو عدالت میں موجود نہ تھیں، چنانچہ اُن وکلا نے اُن کی جواں سال وکیل ساتھی اور نحیف وناتواں سائل کو خوب رگیدا۔
اب ہم وکلا ایک دوسرے پر اپنے پنجے آزمانا رہے ہیں ۔ لیکن کیا کسی کو اس روئیے پر حیرت ہوگی؟ہم فطری طور پر قبیحہ اخلاق کے گندے جوہڑ میں گررہے ہیں۔ دامن پر لگے چھینٹوں پر حیرانی کیوں؟ اس اخلاقی دیوالیہ پن پر حیرت کیسی؟ ہم نے پولیس اہل کاروں ،ضلعی عدالتوں کے ججوں، صحافیوں اور عدالت میں درخواست گزاروں کی عدالتوں اور سڑکوں پر ٹھکائی کی ہے ۔ ہمیں قانون دانی سے زیادہ اپنی قوت ِ بازو پر ناز رہا ہے ۔ وکلا برادری کے لیڈران پاکستان کے پیشہ ورانہ اشرافیہ کے سرخیل کہلاتے ہیں۔ لیکن ہمیں کبھی معاشرے نے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا(شاید ایک مختصر عرصے کے لئے ہماری توقیر کی گئی تھی جب وکلا تحریک کے دوران قوم نے سمجھا کہ ہم آئین اور قانون کی سربلندی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے لڑرہے ہیں)۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں مجموعی طور پر ایک ایسی مصیبت سمجھا جاتا ہے جس کے منہ کوئی بھی لگنا پسند نہیں کرتا۔
جائیداد کے مالک ہمیں کرائے پر مکان نہیں دیتے ، کیونکہ ہم عدالتی طریق ِ کار میں جھول تلاش کرکے کرائے نامے کی پاسداری کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ بنک ہمیں کریڈٹ کارڈ نہیں دیتے ، کیونکہ ان کی فہرست میں وکالت کا شمار منفی پیشوں میں ہوتا ہے ۔ شادی کے لئے رشتوں میں ترجیح پر پھر کبھی بات سہی۔ ہماری پرانی روایت ہے کہ وکلا اپنے ساتھی وکلا کے خلاف کچھ سننا برداشت نہیں کرتے ۔ ہم خود کو عدالت کے افسران میں شمار کرتے ہیں، قانون کی بالا دستی، انصاف کی فراہمی اور حقوق کے لئے بلند وبانگ نعرے لگاتے ہیں، لیکن جن وکلا پر خود سنگین جرائم( جیسا کہ دہشت گردی یا آبروریزی وغیرہ) کے مقدمات ہوں، اُن کی طرف کسی کو انگلی تک نہیں اٹھانے دیتے ۔ نعرہ بازی کی حد تک ہمارے اصول بہت اچھے ہیں تاوقتیکہ وہ ہم پر ہی لاگوہوں۔
لیکن کیا ہم معاشرے کی دیگرخرابیوں کے زیادہ شکار ہیں؟ہم اپنے روئیے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم عزت اور استثنا کے زیادہ حقدار ہیں، بالکل جس طرح دیگر شعبوں کی اشرافیہ۔ اگر ایک ٹریفک وارڈن کسی فوجی افسر یا ایم این اے کا چالان نہیں کرسکتاتو اُس وارڈن کی کیا جرات جو وہ کالے کوٹ والوں کا چالان کرے ۔ اُسے ایسا کرنے کی جسارت کا مزہ چکھنا ہوگا۔کیا تھانے اور کچہری میں خصوصی سلوک کی توقع نہیں رکھی جاتی؟کیا ہمیں سائل سے زیادہ اپنے قبیلے کے حقوق کا احساس نہیں ہونا چاہئے ؟ ہمارے ہاں اسی کو تو وفاداری کہتے ہیں۔ اس وفاداری کے سامنے اصول و ضوابط کی کیا حیثیت؟کیا ہم سائل کو اجازت دے دیں کہ وہ ہمارے ہی کسی بھائی کے خلاف درخواست دائر کردے؟ہم ایسا اندھیر نہیں ہونے دیں گے ۔
ہماری روایت اسی نہج پر چلی ہیں۔ لیکن ٹھہریں، ہم وکلا کا یہ احساس، تفاخر اور استثنا اتنا خطرناک کیوں ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم قانونی نظام کا اہم عناصر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جب ہم پیشہ ورانہ استحقاق کا نعرہ لگاکر منفی اخلاقیات کا مظاہر ہ کرتے ہیں تو قانون اور اس کی فعالیت کے درمیان خلیج وسیع ہوکر منافقت کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے ۔ ایک عام شہری جسٹس سسٹم کو قابل ِ نفرت کیوں نہیں سمجھتا؟ پاکستان بار کونسل کے ایک رکن اور بار اور بنچ کے رد ِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیوں ہمارے جسٹس سسٹم کو گلا سڑانظام قراردیا جاتا ہے اور کیوں اس کی اصلاح کی نوبت نہیں آتی ۔
انصاف کی فراہمی سے بات شروع کرتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کا مطلب قانونی مساوات کے وعدے کی پاسداری ہے ۔ لیکن معاشرے میں موجود سماجی اور معاشی ناہمواری نظام ِ انصاف کے اندر براہ ِ راست قانونی عدم مساوات کی صورت دکھائی دیتی ہے ۔ اگر آپ کے پاس بازوں کی قوت موجود ہے جو نظام کی قوت کی نفی کرسکتی ہوتو پھر آپ کو اس سے خائف ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟اگر دونوں پارٹیاں عدالت کے باہر اپنے بازوں کا مظاہرہ کرنے کی سکت رکھتی ہوں تو پھر تنازعات کو قانون اور اصولوں کی بنیادپر حل کرنے کیا ضرورت ؟
Habeas corpus کے استعمال سے ایک سائل عدالت کے ذریعے کسی کو غیر قانونی حراست سے رہا کراتا ہے ۔ اگر وہ سائل اتنے طاقتور بازو جمع کرسکے جو حراست میں رکھنے والی قوت کو زائل کردیں تو بھی اُس شخص کو غیر قانونی حراست سے رہا کرا لیا جائے گا، چاہے اسے جنگل کا قانون کیوں نہ قرار دیا جائے ۔ ایک طاقتور اور کمزور کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوتی ۔ ظلم البتہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ جب یہ معاملہ عدالت میں لے جایا جاتا ہے تو مظلوم عدالت کی طاقت کے ذریعے طاقتور بازو کو بے اثر کرکے انصاف کا طلب گار ہوتا ہے ۔ اگر ایسا نہیں ہوتااور عدالت میں بھی مظلوم نے طاقتور سے خود ہی نمٹنا ہے تو پھر عدالت کا کیا مقصد ؟بازوں کا انصاف تو عدالت سے باہر بھی ہوسکتا ہے ۔
خوشامد پرستی اور جی حضوری کی عدم مساوات کے شکار معاشرے میں توانا ہوتی ہوئی روایت سے عدالتیں بھی مبرا نہیں۔ جب آپ عدالت کا حکم مانتے ہیں تو آپ ایک جج کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ اگر آپ کوئی دلیل دیتے ہوئے جج کی تردید کرتے ہیں تو آپ کو فوراً ہی عدالت کی طاقت یاد دلائی جاتی ہے ۔ توہین کے قانون کی جھلک ارزاں کی جاتی ہے ۔ ہماری عدالتوں کی تنک مزاجی کوئی راز نہیں ہے ۔ لیکن کیا اُس وقت عدالت کو برہم نہیں ہونا چاہئے جب اس کی نظروں کے سامنے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہوتی ہے ؟
اگر توہین کا قانون ایک جج (یعنی ایک انسان) کے وقار کے تحفظ کے لئے ہے تو پھر یہ قانون ایک طاقت ور شخص کے خلاف استعمال کیوں نہیں کیا جاتا جو قانونی نظام کو بے توقیر کررہا ہوتا ہے ؟ آرٹیکل 204 کا کیا مقصد ہے اگر ایک جج اسے اُس وقت بھی استعمال نہ کرے جب ایک سائل اور اس کے وکیل کو اُس کے سامنے عدالت میں دھمکایا جارہا ہو؟چند سال پہلے لاہور ہائی کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کاصدر ساتھیوں سمیت اندر داخل ہوا اور جج کو سماعت منسوخ کرنے کی ’’ہدایت ‘‘ کی کیونکہ ہڑتال کی جارہی تھی ۔ اس پر جج صاحب کی پیشانی قطعاً شکن آلود نہ ہو ئی اور وہ سماعت کو موقوف کرکے اپنے چیمبر میں چلے گئے ۔
آپ جج حضرات سے بات کریں تو وہ اس بات کو تسلیم کریں گے کہ بار ایسوسی ایشنز کا عدالتوں کو کنٹرول کرنا قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ، لیکن وکلا کے نمائندوں کے ساتھ لڑائی مول لینا بھی دانشمندی نہیں۔ ایک عام شہری تو یہ کہنے پرمجبور ہے کہ ہمارا نظام ِ انصاف انتہائی تعفن زدہ ہے ۔ بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ اس کی اصلاح کیوں ممکن نہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ نظام کے عناصر خود اس کی اصلاح نہیں چاہتے۔ خیر وہ لوگ غلطی پر ہیں جو کہتے ہیں ہم وکلا اصلاح نہیں چاہتے۔ ہم ہر کسی کی اصلاح کرنے پر تلے رہتے ہیں۔ ہے کسی کی مجال جو اصلاح کرانے پر راضی نہ ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم خود اصلاح کے لئے تیار نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *