بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ

mujeeb-ul-rehman
رمضان المبارک کہ اب رخصت ہو رہا ہے، اہلِ پاکستان اور اہلِ کشمیر کو ایک ایسی خوشی دے گیا ہے، برسوں جس کی حلاوت محسوس ہوتی رہے گی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم عالمی چیمپئن بن گئی، اور تبصرہ نگاروں کی بھاری تعداد کی نو نو گز کی زبانیں گنگ ہو کر رہ گئیں۔ بہت ہی کم لوگ ان نوجوانوں سے خیر کی توقع لگائے ہوئے تھے۔ جس طرح ہمارے سیاسی تجزیہ کاروں اور دانشوروں کو کیڑے نکالنے، اور جہاں موجود نہ ہوں، وہاں جیب سے نکال کر ڈال دینے کا مرض لاحق ہو گیا ہے، ایسا ہی معاملہ کرکٹ کے ساتھ ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ سیاست اور کرکٹ دو ایسے شعبے ہیں جہاں چنگ چی والے سے لے کر ہوائی جہاز میں سفر کرنے والے تک، ہر شخص مہارت بلکہ تخصص کا دعویٰ رکھتا ہے۔ گائودی سے گائودی بھی اپنے آپ کو ارسطوئے زماں اور غزالی ٔ دوراں قرار دینے سے نہیں چوکتا۔ اگر پاکستان کا عدالتی نظام مستحکم ہوتا، اور پاکستان کی عدالتیں لوگوں کی عزت اور حرمت کے معاملات کو کسی ترجیحی درجے میں رکھ رہی ہوتیں تو پوری ذمہ داری سے کہا جا سکتا ہے کہ کئی میڈیا ادارے دیوالیہ ہو چکے ہوتے اور کئی طرّے باز حوالہء زنداں ہوتے یا جائیدادیں قرق کرا چکے ہوتے کہ الزامات کی آندھی اٹھانا اور تہمتوں کی بارش برسانا ان کو مرغوب ہے۔ ایسے بھی ہیں جو ہاتھ میں تسبیح رکھتے اور اولیاء اللہ سے قریبی تعلقات کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اپنے ناپسندیدہ افراد کا ذکر اس حقارت اور تعصب سے کرتے ہیں کہ تقویٰ و طہارت منہ چھپانے کی جگہ تلاش نہیں کر پاتے۔ زعم پارسائی رکھنے والے نقطہ نظر کے اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدلتے اور خیالات کا تجزیہ کرنے، اور دلائل کا بودا پن واضح کرنے کے بجائے شخصیات پر حملہ آور ہوتے، اور ان پرکالک انڈیلنے کو کمالِ فن قرار دیتے ہیں۔
مجھے بھی قدم قدم پر ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، اور ہمارے کئی باکردار اور باوقار دوستوں کو بھی مزا چکھنا پڑتا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے سدھائے ہوئے اس کے علاوہ ہیں، وہ سوشل میڈیا پر اودھم مچائے رہتے ہیں۔ کمینگی، رذالت اور اتہام و دشنام کے ایسے ایسے مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں کہ بس اپنے رب ہی کو پکارنا پڑتا ہے۔ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ تحقیق کے بغیر الزام لگانا تو کوئی عیب ہی نہیں رہا۔ رئوف کلاسرا کہ جن سے اکثر مجھے اختلاف رہتا ہے، ایک صاف ستھرے شخص ہیں۔ حرص اور خوف اُنہیں چھو کر نہیں گزرے۔ اسی طرح ہر دلعزیز کامران خان ہیں کہ جن کی فراست اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت لاجواب ہے۔ وہ پاکستانی میڈیا کا فخر ہیں کہ ان کے دم سے تحقیق و جستجو کی دُنیا آباد ہے۔ برادرم سہیل وڑائچ، حامد میر، طلعت حسین اور شاہ زیب خانزادہ پر بھی پاکستانی ہی نہیں بین الاقوامی میڈیا ناز کر سکتا ہے۔ وہ ایسے چاند ہیں کہ جن پر تھوکا فوراً منہ پر آ کر گرتا ہے۔ سلیم صافی، جاوید چودھری، ندیم ملک، کاشف عباسی، خورشید ندیم اور نصرت جاوید تجربے اور تجزیے کی اپنی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں کوئی ورغلا اور اپنے راستے سے ہٹا نہیں سکتا۔ یہی حال ہمارے ابھرتے ہوئے باکمال تجزیہ کار و کالم نگار حبیب اکرم کا ہے کہ جن کی ذہانت، دیانت میں گندھی ہوئی ہے۔ کامران شاہد بھی اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں، ان کے پیشہ ورانہ کردار پر تہمت لگانا گناہِ کبیرہ کے مترادف ہے۔ عزیزم اجمل جامی ایک کھرے نوجوان ہیں۔ ان کی نیت میں کھوٹ تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی بدبخت کعبے میں جا کر بت تلاش کرے۔ انصار عباسی، عمر چیمہ، احمد نورانی اور ان کے ساتھی اگر نہ ہوں تو بے تدبیریوں اور بے خبریوں کے اندھیرے ہمیں اپنی لپیٹ میں لئے رکھیں۔ ان جگنوئوں کی بدولت ہی ہمیں آگے بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔ ایثار رانا بھی ایثار اور پیشہ ورانہ دیانت کی مثال ہیں۔ ایاز امیر اور ارشاد احمد عارف کے غم و غصے میں بھی حالات کو بدلنے کی سچی آرزو تلاش کی جا سکتی ہے۔ قلم برداشتہ چند نام زبان پر آ گئے ہیں، وگرنہ ہمارے شعبے میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیرے موجود ہیں۔ عرض یہ کرنا مقصود تھا کہ باکردار میڈیا پر بد کرداروں نے یلغار کر رکھی ہے اور نئے سے نیا جھوٹ گھڑ کر لاتے اور پھیلاتے ہیں۔ خود میرے بارے میں ایک ایسے چینل پر بیٹھ کر وہ کچھ کہا جاتا ہے کہ الحفیظ و الامان۔ جھوٹ کا لفظ اس کے لئے چھوٹا پڑ گیا ہے۔ یہ چینل وہ ہے جو ہتک عزت کی پاداش میں برطانیہ سے اپنا بوریا بستر لپیٹنے پر مجبور ہوا ہے۔ پاکستان کے فاضل اور عالی دماغ چیف جسٹس ثاقب نثار اگر اپنی عدلیہ کو ازالۂ حیثیتِ عرفی کے مقدمات کی تیز تر سماعت کا حکم دیں اور اسے احساس دلائیں کہ توہینِ عدالت کے ساتھ ساتھ توہینِ انسانیت بھی بڑا جرم ہے، اور شرفِ انسانی کی حفاظت بھی اس کی اولین ذمہ داری ہے تو پاکستانی سیاست اور معاشرت کی کایا پلٹ سکتی ہے، اور ہمارا معاشرہ اپنے باطنی نکھار کو عیاں کرکے دکھا سکتا ہے۔
بات کرکٹ سے شروع ہوئی تھی۔ کراچی کے ضلع وسطی کے ایک عام گھرانے میں آنکھیں کھولنے اور پلنے بڑھنے والے نوجوان سرفراز کی قیادت میں ہماری ٹیم نے ہمیں جیت سے سرفراز کر کے وہ خوشی دی ہے جس کی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ میر واعظ عمر فاروق نے کیا عمدہ بات کہی کہ اہلِ کشمیر کی عید سے پہلے عید ہو گئی ہے۔ ہمارے نوجوان کشمیری دوست مرتضیٰ شبلی نے یہ کہہ کر دِل لوٹ لیا کہ کشمیریوں کو برسوں سے خوشی منانے کا کوئی موقع نہیں ملا تھا، کرکٹ ٹیم کی جیت اور بھارت کی عبرتناک شکست نے اُنہیں مسکرانے ہی نہیں قہقہہ لگانے کا موقع دے دیا ہے۔ مرتضیٰ شبلی اور ہمارے تمام کشمیری بھائی، کرکٹ ٹیم کی فتح کو اپنے نام کر سکتے اور اسے مستقبل کا مژدۂ جانفرا سمجھ سکتے ہیں۔ جس طرح بھارت کی ناک اوول کے میدان میں رگڑی گئی ہے، انشاء اللہ اِسی طرح سری نگر کی وادیوں میں بھی رگڑی جائے گی اور اسے دُم دبا کر بھاگنا پڑے گا۔ کرکٹ ٹیم کی فتح میں ہم پاکستانیوں کے لئے بھی پیغام ہے کہ پاکستان انشاء اللہ ترقی اور کامیابی کا سفر جاری رکھے گا۔ آج بادل چھائے ہوئے ہیں، پاناما کے حوالے سے ہماری اجتماعی زندگی کو گدلا کِیا جا رہا ہے، اس میں زہر گھولی جا رہی ہے۔ ہمارے بلند ہمت ساتھیوں کو بھی ڈرایا جا رہا ہے کہ ''پارٹی از اوور‘‘ یعنی سب کچھ زیر و زبر ہونے والا ہے۔ پاکستان ایک بار پھر وہاں پہنچنے والا ہے، جہاں اسے 1954ء، 1958ء، 1969ء، 1977ء اور 1999ء میں پہنچایا گیا تھا۔ لیکن کرکٹ ٹیم کے نوجوان یہ بتا رہے ہیں کہ 2017ء کو پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا۔ پارٹی جاری رہے گی، بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ یہ تو ابھی شروع ہوئی ہے۔ قانون اور سیاست کی اپنی اپنی دُنیا ہے۔ پاکستانی قانون زبردست کے سامنے بھیگی بلی بننے اور زیر دست پر شیر بن کر جھپٹنے کی اپنی تاریخ رکھتا ہے لیکن جو سیاست عوام کے ذریعے فروغ پاتی، ان کے سامنے جوابدہ ہوتی، ان کی خدمت کرتی اور ان سے رشتہ جوڑے رکھتی ہے، اس کی راہ کوئی کھوٹی نہیں کر سکتا، ملازمت پیشہ تو بالکل نہیں کر سکتے۔ تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے تمغے اور ٹوپیاں، وگیں اور چوغے اس کی شہادت دے رہے ہیں ؎
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *