’’مستقبل کیلئے ہمارا بڑا عہد‘‘۔۔۔۔۔گیٹس کا سالانہ خط2015ء....( قسط نمبر 9)

بل اور ملنڈا گیٹسbilmalinda2

لیکن اگلے15برس میں، ڈجیٹل بینکاری غریبوں کو اپنے اثاثوں پر مضبوط گرفت عطا کرے گی اورانہیں اپنی زندگیاں بدلنے میں مدد دے گی۔
اس انقلاب کی کنجی موبائل فونز میں بند ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں پہلے ہی درست انضباطی فریم ورک کے ساتھ، لوگ اپنے فونز میں ڈجیٹل طریقوں سے پیسے محفوظ کر رہے ہیں اور خریداریوں کیلئے اپنے فونز استعمال کر رہے ہیں، جیسے کہ گویا ان کے فونز ڈیبٹ کارڈز ہوں۔ 2030ء تک، 2بلین لوگ، جن کے پاس آج بینک اکاؤنٹ نہیں ہے، وہ اپنے پیسے موبائلز میں پیسے جمع کر رہے ہوں گے اور انہی کے ذریعے ادائیگیاں کر رہے ہوں گے۔اور تب تک، موبائل رقوم فراہم کرنے والے، مالی خدمات میں شامل تمام سروسز فراہم کر رہے ہوں گے، سودی سیونگ اکاؤنٹس سے لے کر کریڈٹ اور انشورنس تک۔
روایتی بینک خدمات پر آنے والی لاگت کے سبب غریبوں کی خدمت کا بوجھ اٹھا ہی نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ 2.5بلین بالغ افراد کے پاس اس وقت اپنا بینک اکاؤنٹ موجود ہی نہیں ہے۔ دیہاتوں میں، جہاں لوگ نہایت چھوٹی چھوٹی رقوم بچاتے یا ادھار لیتے ہیں، وہاں کسی بینک کی برانچ بنانا اور چلانا کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ اور جب زیادہ تر لوگ بالخصوص غریبوں کیلئے مطلوب مالی خدمات کے متعلق سوچتے ہیں تو ان کے ذہن میں مائیکروکریڈٹ کا خیال آتا ہے، مثلاً غریب ممالک میں کاروباری خواتین کو مطلوب چھوٹے قرض۔واقعی، چھوٹے قرضوں نے لاکھوں لوگوں کی مدد کی ہے لیکن قرض، غریبوں کو مطلوب مالی خدمات میں سے صرف ایک ہے۔ ایک تو ان بینکوں میں شرح سود بہت بلند ہے اور دوسرا یہ کہ یہ خدمات غریب ترین لوگوں کے محض ایک چھوٹے سے طبقے تک پہنچ رہی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *