مریم نوازبمقابلہ بلاول بھٹو!

naeem-baloch1
پانچ جولائی کا دن پاکستان کی تاریخ میں پہلے بھی بڑی اہمیت کا حامل تھا ۔ پاکستان کے موجودہ مسائل کا بیج پانچ جولائی ہی کو بویا گیا تھا جب پاکستان کے پانچویں پاکستانی سپہ سالارجنرل ضیأالحق نے اپنے ہی ملک کے آئین کی صریحاًخلاف ورزی کرتے ہوئے خصوصی دستوں کی مددسے بغاوت کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو فتح کیا اور اس کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قید کر لیا ۔اور آئین کی تشریح و وکالت کرنے والے سب سے بڑے ادارے سپریم کورٹ نے اس باغی پر قانون میں لکھی سزانافذ کرنے کے بجائے اس کو نظریہ ضرورت کی ڈھال پہنا دی ۔ لیکن آج کا دن ملکی تاریخ میں ایک دوسرے پہلو سے اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔
اسی سپریم کورٹ کے معزز ججوں کے فیصلے کے مطابق ایک تفتیشی ٹیم کے سامنے وزیراعظم اور اس کے خاندان کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اسی سلسلے میں آج مریم نواز شریف قریباً دو گھنٹے تک سوالات کا جواب دیتی رہیں ۔ان کی پیشی پر بہت شور مچا۔ مخالفین نے اسے اپنی فتح قرار دیا کہ ہماری کوششوں کی وجہ سے آج سارا حکمران خاندان کٹہرے میں کھڑا ’ تلاشی ‘‘ دے رہا ہے ۔دوسری طرف خوشامدی طبقہ اس پر بلاوجہ واویلا کرنے لگ گیا ۔مقصد واضح تھا کہ عوامی ہمدردی حاصل کی جائے ۔ یوں یہ موقع ایک مختلف قسم کے دنگل کا تھا۔ دیکھنے والے اس انتظار میں تھے مسلم لیگی کارکن کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں؟ نازو نعم میں پلنے والی وزیراعظم کی بیٹی اس موقع پر کس رویے کاا ظہار کرتی ہے؟ اور اس کے مخالف اس کی متوقع گھبراہٹ پر کیا باتیں بناتے ہیں ؟
Image result for ‫مریم نواز اور بلاول‬‎پانامہ کیس کے فیصلے کا اعلان تو سپریم کورٹ جب کرے گی ،سب کے سامنے آجائے گا لیکن آج کے اس دنگل کا نتیجہ سب سے سامنے ہے ۔ پہلے تو حکمران جماعت کو اس درست تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ اتنے لاؤ لشکر کے ساتھ تفتیشی مرکز پہنچنا کسی طور مناسب نہیں تھا ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جس طرح حسن اور حسین نواز آئے تھے، اسی طرح وہ بھی قدرے نارمل طریقے سے آتیں ، یوں ٹریفک رکنے سے شہری بھی خوار نہ ہوتے ۔ یہ کہنا اگرچہ درست ہے کہ عمران خان ، بلاول بھٹو اور دیگر حکمران خاندان کے لوگ سرکاری پروٹوکول بے دھڑک استعمال کر چکے ہیں لیکن اگر مریم نواز شریف سادگی سے آتیں ، شہری پروٹوکول کی وجہ سے دربدر نہ ہوتے تو یہ ان کی بہت بڑی اخلاقی فتح ہوتی اور اس سے ان کا سیاسی قد بھی بلند ہوتا لیکن افسوس ہمارے ہاں سیاسی روایات اتنی میچور نہیں ہوئیں ۔ابھی لاؤ لشکر اور وی آئی پی کلچر سیاسی تفاخر کی نشانی سمجھا جاتا ہے ۔ البتہ وزیر اعظم کا معمول کے مطابق بیرون ملک دورے پر جانا قابل تعریف ہے جبکہ عمران خاں صاحب کی یہ منطق بالکل بچکانہ ہے کہ پولیس افسر نے انھیں سیلوٹ کیوں کیا؟بھئی جب آپ دھرنا دینے اسلام آباد ’’انتہائی مقدس ‘‘ مشن پر تشریف لائے تھے اور بیسیوں پولیس والوں نے آپ کو سیلوٹ مارا تھا اور آپ خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے کہ پولیس بھی اس احتجاج میں آپ کے ساتھ ہے ، اسی طرح یقینایہ خاتون پولیس اہلکار بھی مریم نواز شریف کی فین ہو گی اور اس پر خوش ہوگی کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ حاضر وزیر اعظم کی بیٹی ایک ماتحت ادارے کے بلانے پر بے چون و چرا آگئی ہے تویہ ایک قابل تعریف بات ہے ۔اور اب آئیے اصل موازنے کی طرف !
جہاں تک مریم نواز شریف کی تقریر کا تعلق ہے تو میرا تاثر یہی ہے کہ وہ ایک بہترین مقررہ ہیں ۔ ان کے ایک ایک جملے سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ مشرقی روایت سے جڑی ہوئی ہیں ۔ان کی تربیت ایک مسلمان گھرانے میں ہوئی ، انھیں اپنے اعصاب پر مکمل کنٹرول ہے ، وہ الفاظ کے انتخاب ، اسلوبِ بیان کے تقاضوں اور اپنے مافی الضمیر کے اظہار پر حیران اور متاثر کن عبور رکھتی ہیں ۔ آپ ذرا بلاول بھٹو کی تقریر کو سامنے رکھیں ، کسی بھی پہلو سے کوئی مقابلہ ہے ؟یہی لگا  تھا کہ بلاول برطانوی آقاؤں کے کسی گم شدہ قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور سیر سپاٹے کے لیے اس سر زمین پر آیا ہے لیکن اقتدارکا ’’ ہما‘‘ اس کے سر پر بیٹھ گیا اور جاہل رعایا اس کے سر پر تا ج رکھنے پر مصر ہے اور اسے مقامی زبان کے دو چار جملے رٹوا کر تقریر کے لیے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے ۔ دوسری طرف آپ عمران خان کی نفرت انگیز، اخلاق شکن اور آگ اگلتی تقاریر کو سامنے رکھیں، حتیٰ کہ آپ شہباز شریف کا ڈرامائی اور جذباتی انداز سامنے رکھیں ، سچی بات ہے کہ مریم نواز کی تقریر کا نوے فی صد حصہ فی البدیہ ہونے کے باوجود انتہائی شان دار اور متوازن تھا۔ تقریر میں کئی جذباتی مقام ایسے آئے جہاں لگا کہ ان کے آنسو نکل آئیں گے لیکن انھوں نے ثابت کیا، جمع خاطر رکھیں ، مائنس نواز شریف فارمولا اگر کسی کی جیب میں ہے تو نواز شریف کے پاس ایک خالص اور سچی ’’ دختر مشرق ‘‘ ہے ۔وہ بہت توانا اور باوقار سیاسی لیڈر ثابت ہو سکتی ہے !
معلوم نہیں کہ دس تاریخ کے بعدجے آئی ٹی کیا رپورٹ دیتی ہے لیکن آج کا میدان تو مریم نواز شریف نے بڑی واضح برتری سے جیت لیا ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *