میں صرف ’’رب خیر کرے‘‘ کی دعا ہی مانگ سکتا ہوں

photo-nusrat-javed-sb-6-2

5 جولائی 2017ء کی صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھنے بیٹھا ہوں تو آج سے عین 40 سال پہلے والی 5 جولائی یاد آ گئی۔ گھر میں پھینکے ہوئے اخبار نے شہ سرخیوں کے ساتھ دعویٰ کیا تھا کہ بالآخر طویل مذاکرات کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اور نو جماعتوں پر مشتمل حزب ِ مخالف کے مابین سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ اس سمجھوتے کے نتیجے میں نئے انتخابات ہوں گے۔ اس سال مارچ کے پہلے ہفتے سے شروع ہوا ’’بحران‘‘ لہٰذا خیر و عافیت سے ختم ہوتا محسوس ہوا۔
ریڈیو پر لیکن جنرل ضیاء کی تقریر بھی ہو چکی تھی۔ ملک کو ’’خانہ جنگی سے بچانے کے لئے‘‘ فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اپنی تقریر میں چیف آف آرمی سٹاف نے یقین دلایا کہ وہ اور ان کے رفقاء اقتدار پر قابض رہنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ 90دنوں کے دوران ’’صاف شفاف اور غیر جانبدار‘‘ انتخابات کروا دئیے جائیں گے۔ جن کے نتیجے میں سامنے آئے عوام کے حقیقی نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے کے بعد فوج بیرکوں میں واپس چلی جائے گی۔
جنرل ضیاء کے اس فیصلے کے بارے میں سب سے زیادہ مطمئن مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے جیالے نظر آئے۔ انہیں یقین تھا کہ نئے انتخابات کے دوران بھی عوام کی بے پناہ اکثریت پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دے گی۔ ’’حقیقت‘‘ مگر ان کے مخالفین کے لئے ہضم کرنا ممکن نہیں تھا۔ بہت ہی ’’ذہین‘‘ سمجھے ذوالفقار علی بھٹو نے لہٰذا اپنے ہی لگائے جنرل ضیاء کو (جو شکل سے بڑا مسکین اور تابعدار نظرآتا ہے) اقتدار پر قابض ہونے کے لئے ’’راضی‘‘ کر لیا۔ بھٹو کے مخالفین کے لئے اب نئے انتخابات میں حصہ لے کر شکست سے بچنے کا کوئی ذریعہ اور بہانہ باقی ہی نہیں رہا تھا۔ بھٹو ان سب سے زیادہ چالاک ثابت ہوا۔
سیاست اور اقتدار کے کھیل کو میں ان دنوں بالکل نہیں سمجھتا تھا۔ مارچ 1977ء سے جولائی 1977ء کے دوران چلی بھٹو مخالف تحریک کو مگر میں نے تواتر کے ساتھ لاہور اور کراچی میں قیام کے دوران بہت قریب سے دیکھا تھا۔ اس تحریک سے نبردآزما ہونے کے لئے لاٹھی، گولی اور آنسو گیس کے بے رحمانہ استعمال کے بعد کرفیو لگا دیا جاتا تھا۔ یہ کرفیو شہروں کی قدیم گلیوں اور محلوں میں ہرگز مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔ وہاں کھانے پینے کی دکانیں کھلی رہتی ہیں۔ چائے خانوں میں گپ بازی بھی جاری رہتی ہے۔ ان گلیوں اور محلوں میں کرفیو کی ’’پابندیوں‘‘ کے دوران گھومتے پھرتے میں نے جبلی طورپر یہ سمجھ لیا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے آئندہ کچھ سالوں کے دوران اقتدار میں لوٹنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ان کے علاوہ لیکن کوئی ایک سیاست دان اس قابل بھی نظر نہیں آ رہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے توانا متبادل کی صورت ابھر کر سامنے آئے۔
ہمارے بہت ہی پڑھے لکھے اور ’’روشن خیال‘‘ سمجھے لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو مگر یہ گمان تھا کہ صاف ستھری شہرت کے حامل اصغر خان میں بھٹو کا متبادل ثابت ہونے کی تمام صلاحتیں پائی جاتی ہیں۔ وہ ایئرفورس کے ریٹائرڈ چیف تھے۔ بھٹو مخالف تحریک کے دوران انہوں نے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کو ایک ’’کھلا خط‘‘ بھی لکھا تھا۔ اس کے ذریعے عسکری قیادت کو یہ سمجھانے کی کوشش ہوئی کہ انہیں اپنی قوت کو ’’صرف ریاست‘‘ کے تحفظ کیلئے استعمال کرنا ہوتاہے۔ کسی سیاست دان کی حکومت کو اس کے مخالفین سے بچانا ان کا فریضہ نہیں۔
اصغر خان کے اس خط کے بعد پاک فوج کے تین سینئر بریگیڈئروں نے مختلف شہروں میں بھٹو مخالف مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کر دیا تھا۔ ان میں سے ایک بریگیڈئر نیاز جنرل مشرف کے ایام میں بہت مشہور بھی ہوئے تھے۔ اسلام آباد کی ایمبیسی روڈ پر بنائی ان کی وسیع و عریض کوٹھی کے باہر گاڑیوں کی ایک لمبی قطار نظر آیا کرتی تھی۔ جنرل مشرف ان کو اپنا مہربان تصور کرتے تھے۔ دوستی سنا ہے ان کی شہباز شریف صاحب سے بھی بہت تھی اور پیپلز پارٹی کے کم از کم چودھری احمد مختار اکثر ان کی شان میں رطب اللسان رہتے۔
میری ان بریگیڈئیر صاحب سے لیکن صرف ایک ملاقات ہوئی تھی۔ یہ ملاقات افتخار چودھری کی بحالی کے لئے چلائی تحریک کے دوران ہوئی۔ ایک مہربان دوست کے اصرار پر ان سے ملنا ضروری ٹھہرا۔ اس ملاقات کے دوران مجھے وہ جنرل مشرف،جسے وہ مسلسل ’’میرا دوست‘‘ کہتے رہے، کی ’’مدد‘‘ کرنے کے طریقے پوچھتے رہے۔ میرے پاس ان کی تسلی کے لئے کوئی نسخہ موجود نہیں تھا۔ انتہائی ادب سے ان کی باتیں سننے کے بعد خاموشی سے گھر لوٹ آیا۔
اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے یاد صرف یہ کرنا ہے کہ ہمارے ملک کے بہت ہی پڑھے لکھے اورروشن خیال سمجھے جانے والے لوگوں کی اکثریت کو 5 جولائی 1977ء ہو جانے کے بعد بھی پورا یقین تھا کہ ’’فوج اپنے تئیں‘‘ اقتدار پر قابض نہیں رہ سکتی۔ نئے انتخابات کو زیادہ دیر تک ٹالا ہی نہیں جا سکتا۔ مقامی طورپر پاکستانیوں کی اکثریت نے مارشل لاء کی طوالت کو ہضم کر بھی لیا تو جمی کارٹر کا امریکہ ایسا ہونے نہیں دے گا۔
جمی کارٹر دنیا بھر میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام والے نظام کو قائم کرنے پر بضد تھا۔ ہمارے ہاں کئی لوگوں کا یہ خیال بھی تھا کہ جمہوری نظام سے اپنی اس ’’لگن‘‘ کی وجہ سے ہی جمی کارٹر کی حکومت امریکہ کے اس خطے میں سب سے زیادہ وفادار شاہ ایران کی حکومت کو بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھارہی تھی۔ ایران میں جاری ’’شاہ مخالف جمہوری تحریک‘‘ کے ہوتے ہوئے پاکستان میں مارشل لاء کا بہت دیر تک برقرار رکھنا ممکن ہی تصور نہیں کیا جا رہا تھا۔ چونکہ ’’نئے انتخابات‘‘ کا ہونا اٹل ٹھہرا دیا گیا تھا اس لئے ہمارے پڑھے لکھے روشن خیال لوگوں کی اکثریت کو گماں رہا کہ جنرل ضیاء کا مارشل لاء درحقیقت پاک فضائیہ سے ریٹائر ہوئے اور ذاتی طورپر انتہائی ایمان دار مانے اصغر خان کو اس ملک کا نیا وزیراعظم بنانے کی راہ ہموار کرنے کے لئے لگایا گیا ہے۔
دریں اثناء ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کا مقدمہ بنا دیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ سے انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ اس سزائے موت کو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے بھی جائز ٹھہرایا۔ ’’عدالتی فیصلے کا احترام‘‘ کرتے ہوئے جنرل ضیاء نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ ہمارے ملک میں اس وقت بھی ’’تاریخ میں پہلی بار‘‘ یہ پیغام ملا کہ ’’قانون طاقت ور اور کمزور کے لئے برابر ہوتا ہے‘‘۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد اصغر خان کے وزیراعظم منتخب ہو جانے کی راہ میں بظاہر کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر مگر ہمارے سیاسی اُفق پر نمودار ہو چکی تھی۔ شاہ ایران بھی فارغ ہو گیا تھا ۔اس کی جگہ ’’جمہوری نظام‘‘ نہیں بلکہ ’’اسلامی انقلاب‘‘ نمودار ہوا۔ اس انقلاب کے جواب آں غزل کی صورت افغانستان میں ترہ کئی کا لایا ’’کمیونسٹ انقلاب‘‘ برپا ہو گیا۔
جنرل ضیاء ایران اور افغانستان کے تناظر میں امریکہ کی ضرورت بن گئے۔ اصغر خان کو ان کے ایبٹ آباد والے گھر میں نظربند کر دیا گیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ سیاسی عمل پر بضد کارکنوں کو برسرِعام کوڑے لگا کر خاموش رہنے پر مجبور کر دیا گیا اور صرف نوے روز تک آنے والے جنرل ضیاء نے 4 جولائی 1977ء سے 17 اگست 1988ء تک اس ملک پر گج وج کے راج کیا۔
قانون، ان دنوں دوبارہ ’’طاقت ور اور کمزور پر‘‘ یکساں لاگو ہونے کو بے چین نظر آ رہا ہے۔ ہمارے بہت ہی پڑھے لکھے روشن خیالوں نے ’’ذاتی طور پر ایک انتہائی ایمان دار رہ نما‘‘ بھی دریافت کر لیا ہے۔ اس لئے ماضی کو یاد کرتے ہوئے میں صرف ’’ربّ خیرے کرے‘‘ کی دُعا ہی مانگ سکتا ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *