کھائی اور سمندر کے درمیان

babar-sattar

اس تنازع میں جمہوریت اور احتساب کے حامی ایک غیر جانبدار پاکستانی شہری کے لئے کیا ہے ؟اس کے سامنے ایک متناقضہ (paradox) ، ایک الجھن، ہے ۔ اکنامکس کی اصطلاح میں اس کی سپلائی سائیڈ یہ ہے کہ سول ملٹری عدم توازن کو جواز بنا کر فوجی مداخلت کو ضروری قرا ر دیا جائے کہ وردی پوش نہایت احسن طریقے سے طاقت کا توازن قائم کردیں گے ، کیا ہوا اگر اس عظیم مقصد کے لئے چھوٹی موٹی قربانی دینا پڑجائے، جیسا کہ آئین کو معطل کرنا یا ایک منتخب شدہ حکومت کو گھربھیجنا ۔ ڈیمانڈ سائیڈ یہ ہے جب منتخب شدہ حکومت آمرانہ روش اپنا کراور بددیانتی کو اپنا شعار بنا کر عوام تک جمہوریت کے ثمرات نہیں پہنچنے دیتی تو پھر فوجی مداخلت کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے ۔ ہم’’ ڈیمانڈ اور سپلائی ‘‘ کا یہ ماحول پید اکرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔
کیا پاناما سرکس کو دیکھتے ہوئے جمہوریت کے لئے پریشان افراد کے ذہن میں کوئی تصور موجود ہے؟ہوسکتا ہے کہ ایسا ہی ہو۔ لیکن ایسے تصورات پر ہماری تاریخ اور اس کے دہرائے جانے کا خوف سوار رہتا ہے ۔ درحقیقت پاکستان میں جمہوریت کا سفر کبھی شروع ہوا ہی نہیں۔ 1954 کے بعد سے سول ملٹری عدم توازن دکھائی دینے لگاتھا ۔ 1958 ء سے لے کر 1969 ء تک ہم نے ایوب اور پھر چند سال کے لئے یحییٰ خان کا دور دیکھا ۔ 1977 ء سے لے کر 1988 ء تک ضیا دور کو بھگتا۔ مشرف نے 1999 ء میں جمہوری حکومت کو چلتا کرکے اقتدار سنبھالا جو 2008ء تک جاری رہا۔ اس کم و بیش تسلسل کے دوران جب ہم نے گاڑی کا رخ جمہوریت کی طر ف موڑا تو بھی اس کا اصل کنٹرول وردی پوشوں کے ہاتھ میں ہی رہا ۔
ہر فوجی مداخلت سے پہلے ہم باتیں سنتے رہے کہ اب کوئی بھی فوجی حکومت نہیں چاہتا(خود فوجی بھی اس دلدل میں نہیں اترنا چاہتے )، نیز اب فوجی مداخلتوں کا زمانہ گزر چکا۔ آج کے دور میں ایسا کرنا ناممکن ہے ۔ کوئی بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ جنرل ضیا بھٹو کو منصب سے ہٹانے یا اُنہیں پھانسی پر لٹکانے کی صلاحیت یا جرات رکھتے ہیں، لیکن ایسا ہی ہوا۔ 1999 ء میں شریف حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت تھی جو ایک عشرے میں چوتھی مرتبہ ہونے والے الیکشن میں حاصل ہوئی تھی ۔ بہت سے افراد کو یقین تھا کہ اب مارشل لاایک قصہ ٔ پارینہ بن چکا ۔ لیکن پھر مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور یوںمزید ایک عشرہ فوجی اقتدار کی نذر ہوگیا۔
ہم نے حال ہی میں مصر میں ایک جنرل کو جمہوری حکومت کا تختہ الٹتے دیکھا ۔ ترکی میں شب خون مارنے کی ناکام کوشش کی گئی ۔ ہماراخطہ افغانستان سے لے کر مشرق ِوسطیٰ تک افراتفری اورعدم استحکام کا شکار ہے ۔ چنانچہ یہ دلیل بہت کمزور اور بعید ازحقیقت ہے کہ چونکہ عالمی برادری فوج کے اقتدارسنبھالنے کو قبول نہیں کرے گی ، اس لئے پاکستان میں فوجی مداخلت کا کوئی امکان نہیں۔ ہمارے فوجی آمروں نے ہر شب خون کے موقع پر اپنے’’ عزیز ہم وطنو‘‘ کو باور کرایا ہے کہ وہ آمریت نہیں، ’’حقیقی جمہوریت ‘‘ متعارف کرارہے ہیں، چنانچہ دنیا کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے ۔
90 کی دہائی میں جمہوریت کی ڈور پس پردہ وردی پوشوں کے ہاتھ میں تھی ۔ اصغر خان کیس ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح آئی ایس آئی نے اسلامی جمہوری اتحاد(آئی جے آئی) کو تشکیل دیا۔ اُس وقت ہم خوف کے مارے یہ بات زبان پر نہیں لاسکتے تھے ۔ 2008 ء کے بعد ہم نے دیکھا کہ جنرلوں نے کیری لوگر بل رکوا دیا (کیونکہ وہ ڈیل کا حصہ نہ تھے )۔ اس کے بعد ہم نے میموگیٹ دیکھا اور پی پی پی 90 ء کی دہائی کے سوئس کیسز میں الجھی دکھائی دی ۔ 2013 ء کے بعد دھرنا نمبر ون اور دھرنا نمبر ٹو ، ڈان لیکس اور اب پاناما کیس کا ارتکاز شریفوں کے ماضی بعید کے افعال پر ہے ۔
اگر بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہمیں اذیت پہنچاتا ہے تو پھر اصغر خان کیس پر عمل درآمد ہمارا ایشو کیوں نہیں؟اگر حکمرانوں کا احتساب ترجیحی بنیادوں پر کیا جانا ہے تو پھر ہم نے مشرف غداری کیس کوپاکستانی قانون کا مذاق اُڑانے کی اجازت کیوں دی ؟سوئس کیسز اور لند ن فلیٹس واقعی سنگین ایشوز ہیں لیکن پھر مشرف کے لاکھوں ڈالرزسے بھی اغماض نہ برتیں۔ اُن کا مہربان کون تھا اور کیوں ؟اسامہ بن لادن، ریمنڈ ڈیوس اور ’’تھینک یو راحیل شریف ‘‘ (جو اب سعودیوں کی ملازمت کررہے ہیں) پر کوئی قومی بیانیہ کیوں تشکیل نہ پاسکا؟
پاکستان میں عظیم اور بلند آہنگ بیانیے کیسے تشکیل پاتے اور پھیلتے ہیں؟ ہم نے آنکھ کھولتے ہی یہ بیانیہ سنا کہ سیاست دان بدعنوان ، نااہل اور بے سلیقہ ہوتے ہیں۔ این آر او نافذہ کیس (NRO Implementation case) نے 90 کی دہائی کے پی پی پی کے گڑے مردے اکھاڑ کر اس تاثر کو تقویت دی ۔ موجودہ دور میں پاناما لیکس نے شریف فیملی کی لندن فلیٹس کی خرید (90 کی دہائی کا ایک اور کیس)کے معاملات کی چھان بین کرتے ہوئے اس تاثر کو مزید توانا کردیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس حمام میں صرف عمران خان کو ہی جامہ پوشی کی سہولت حاصل ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اُنھو ں نے گردونواح کے گندے کپڑے اپنی گٹھڑی میں بھر کر بیچ چوراہے میں ان کی دھلائی شروع کردی ہے ۔ لیکن ٹھہریں، بدگمانی اچھی بات نہیں۔ وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں ایسا کررہے ہیں۔
سول ملٹری چکر ہمارا جانا پہچانا ہے ۔ جب ایک فوجی آمر غیر مقبول ہوتے ہوتے ہر کسی ، بشمول اپنے ادارے، پر ایک بوجھ بن جاتا ہے تو ہمیں جمہوریت کی یا دستانے لگتی ہے ۔ ہم جمہوریت کی گاڑی دوبارہ پٹری پر چڑھاتے ہیں۔ لیکن ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سویلین حکومت تو قائم ہوچکی لیکن ویٹو پاور افسران کے ہاتھ میں ہی ہے ۔ اس کے بعد وہ سیاسی ایشوز اور اداروں کے تنازعات طے کرنے والے منصف بن جاتے ہیں۔ وہ پردے کے پیچھے سے معاملات پر اثر انداز ہونے کے فن میں طاق ہیں۔ تاہم کچھ دیر کے بعد وہ محسوس کرتے ہیں کہ اُن کا کنٹرول کمزور ہوگیا ہے اور طاقت سویلینز کی طرف منتقل ہورہی ہے تو یہ وہ وقت ہوتا ہے جب فوج نے ادارے کی سطح پر ایک فیصلہ کرنا ہوتا ہے ۔ کیا حالات کو قابوسے باہر ہونے دیا جائے یا ان پر کنٹرول رکھا جائے؟
2008 ء کے بعد سے جمہوری حکومتوںکو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملا ہے ۔ اگر نواز شریف میں خرابی ہے ، وہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے جیسے عجیب و غریب تصورات رکھتے ہیں یا ابھی بھی وہ 1999 ء کا حساب برابر کرنے کے خبط سے باز نہیں آئے ، جس کے لئے مشرف ٹرائل ، حامد میر اور ڈان لیکس کی مثال دی جاتی ہے، تو کیااس بات کو یقینی بنانا قومی مفاد میں نہیں کہ 2018 ء کے عام انتخابات سے پہلے ہر کسی کو یکساں کھیلنے کا موقع ملے ؟اگر نواز شریف چوتھی مرتبہ منتخب ہوجاتے ہیں تو کیا وہ ناقابل ِ برداشت نہیں ہوں گے ؟اگر آپ ایسا ادارہ ہیں جو یقین رکھتا ہے کہ اسی نے پاکستان کو اکٹھا رکھا ہوا ہے تو کیا یہ خواہش غیر حقیقی ہے کہ آپ ملک کی درست سمت رہنمائی کریں؟
اس اصول پر کوئی معترض نہیں کہ اگر کسی وزیر ِاعظم نے ملکی دولت لوٹی ہے تو اُس کا احتساب ہونا چاہیے ۔مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم خو د اپنے نمائندوں کا احتساب نہ کرسکیں جو پاکستانی عوام کے تفویض کردہ اختیار کا منفی استعمال کرکے اپنے وسائل میں اضافہ کرتے ہیں تو پھر یہ مطالبہ سامنے آئے گا کہ فوج کو قدم بڑھانا چاہیے ۔ اگر تمام جمہوری عمل اور اس کے تسلسل کا تقاضا یہی ہے کہ بدعنوانوں کو حکومت کرنے دیںتو یہ جمہوریت کے تصورکی نفی ہے ۔
لیکن اس دوران کیا ہم یہ بات بھول جائیں یا نظر انداز کردیں کہ احتساب کون کررہا ہے اور کیوں ؟
اگر کوئی ’’حاضرسروس ‘‘ وزیر ِاعظم شفاف مقدمے اور بے داغ ٹرائل کے نتیجے میں مجرم قرار پاتے ہوئے نااہل ہوجاتا ہے تو ہم ایسے فیصلے پر قانون کی بالادستی اور شہریوں کی طاقت کے اظہار کا جشن منائیں گے ۔ لیکن اگر ایک وزیر ِاعظم مشکوک طریقے سے منصب سے ہٹادیا جاتا ہے ،اور اس کے نتیجے میں کسی اور دھڑے کو طاقت دی جاتی ہے تو یہ پیش رفت عوام کے حکومت سازی کے حق کی نفی کرے گی۔ کیا بہتر نہ ہوتاکہ مرکزی اپوزیشن پارٹی (پی ٹی آئی ) کی کوششوں سے ایک آئینی ادارہ (سپریم کورٹ) منتخب وزیر اعظم کا احتساب کررہا ہے تو اس میں خاکی وردی پوشوں کا اثر دکھائی نہ دے ؟اپنی آئینی تاریخ ، سول ملٹری عدم توازن، محدود جمہوری اختیار اور نادیدہ ہاتھوں کی فعالیت کو دیکھتے ہوئے کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تمام کیس خفیہ اداروں کے بغیر ہی سرانجا م پارہا ہے ؟کیا جے آئی ٹی کے معاملات شفاف نہیں بنائے جاسکتے تھے ؟
ایک طرف پاناما کیس اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا ایک منتخب شدہ وزیر ِاعظم نے واقعی اپنے اعلانیہ وسائل سے بڑھ کر اثاثے جمع کیے تھے ؟ وزیر اعظم نے ہنوز اس الزام کا جواب دینا ہے ۔ قطری دفاع کمزور ہے ۔ نیز حکمران خاندان کی طرف سے پی ایم ایل (ن) کو جے آئی ٹی کو تنگ کرنے کی اجازت دینا بھی ناروا بات ہے ۔ تاہم بلند تر سطح پر پاناما ہمارے آئینی خدوخال کی بابت ہے کہ ریاستی اداروں ، جیسا کہ ایگزیکٹو، قانون سازاور عدلیہ کے درمیان توازن کیسے پید اکیا جائے ؟ یہ جانچ ایک غیر منتخب شدہ ادارے (عدلیہ) کے سامنے ہونی ہے۔ اس کے لئے بنیادی اور اہم ترین شرط فیئر ٹرائل ہے ۔ اس کے بعد ہی عدلیہ وزیراعظم یا کسی عام شہری کو مجرم قرار دے سکتی ہے ۔ عملی سطح پر پاناما کیس کا تعلق نتائج سے ہے۔ کیا یہ عمل قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے تصور کو تقویت دے گا؟ کیا اس سے عام شہری کے حقوق کا تحفظ ہوگا، یا اس کیس میں وہ غیر اہم ہے ؟کیا اس سے وسیع تر اور بے لاگ احتساب کا دور شروع ہوتا ہے یا یہ صرف ایک ’’گردن زنی‘‘ تک ہی محدود رہے گا؟ کیا اس کے بعد قائم ہونے والے قانون کی بالا دستی کے دور میں کوئی مقدس گائے تو نہیں سمجھا جائے گا؟
جب جے آئی ٹی رپورٹ کو حتمی شکل دے کر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرنے جارہی ہے تو اُنہیں ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ وہ ایک مثال قائم کرنے جارہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی ججمنٹ کی بھی ججمنٹ ہوگی، صرف عوامی حلقے ہی نہیں تاریخ بھی اس پر منصف بنے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *