چوروں کی نانی!

abrar nadeem

جب سے ہوش سنبھالا ہے وطن عزیز میں احتساب کے نام سےایک ہی فلم بار بار دیکھ رہے ہیں ۔یقیناً یہ فلم ہماری ہوش سے بھی پہلے کی چل رہی ھے لیکن اس کا اسکرپٹ اتنا شاندار اور اداکار اتنے منجھے ہوئے ہیں کہ پچاس ساٹھ برس کے بعد بھی یہ فلم اترنے کا نام نہیں لے رہی۔ہمارے لوگ اتنے سادہ ہیں کہ ہر بارسینما کے باہر لگے فلم کے تشہیری بورڈ کے نئے انداز،رنگ روغن اور نئےچہروں
سے دھوکہ کھا کر بڑی کھجل خواری سے مہنگے داموں ٹکٹ خرید کر ایک ہی فلم بار بار دیکھ رہے ہیں ۔مزے کی بات یہ ھے کہ انہیں ایک لمبے عرصے کے بعد پتا چلتا ھے کہ ڈائریکٹر اُن کو "چونا"لگا گیا ھے اور کچھ تو ایسے معصوم ہیں کہ بار بار فریب کھا کربھی انہیں آج تک اپنے ساتھ ہونے والے "ڈرامے" کی سمجھ نہیں آئی اور اگر کوئی خیر خواہ غلطی سے ان "بھولے پنچھیوں" کو ان کےساتھ ہونے والے فراڈ یعنی فلم کی اصل حقیقت بتانے کی کوشش کرے تو الٹا یہ اس کے گلے پڑ جاتے ہیں اور ایک منٹ میں اس کی "ماں بہن ایک "کر دیتے ہیں ۔ یہی وہ "خدائی خدمتگار" ہیں جو شہر شہر گاوں گاوں اپنے تئیں قومی خدمت کے جذبے کے تحت عوام میں اس انداز سے اس فلم کوبڑھا چڑھا کر اس کی تشہیر کرتے ہیں کہ آج بھی یہ فلم اسی طرح رش لے رہی ھے جس طرح پہلے دن سے تھا مگر ایک محبٰ وطن عام پاکستانی کی حیثیت سے میرا یہ حق بنتا ھے میں یہ سوال پوچھوں کہ حضورِ والا! یہ ملک جو میرے پرکھوں نے لاکھوں جانوں ،عزتوں اور مال اسباب کی قربانیاں دے کر بنایا تھا اس میں ہمارے دکھوں کا مداوا کب ھوگا نسل در نسل مسلسل اذیت میں گزرتےہمارے روز شب کب تبدیل ہونگے۔ہمیں کبھی احتساب،کبھی نئے پاکستان اور کبھی اسلامی پاکستان کے نام پر کب تک خواب دکھائے جائیں گے۔سادہ سی بات ھے مجرموں کااحتساب ضرور ھونا چاہئیے !لیکن احتساب سب کے ساتھ اور احتساب بقدر جرم ھونا چاہئیے۔سوال یہ ھے کہ آپ اُن کا احتساب کیوں نہیں کرتے جو قیام پاکستان کے فوری بعد سے آج تک حقیقی معنوں میں کسی شراکت کے بغیراقتدار اور اختیار کےمزے لوٹتے رہےہیں۔یہ بات تو آپ مانیں گے کہ درست معنوں میں احتساب وہ ھوتا ھے انصاف وہ ہوتا ھےجو کسی تعصب اور مصلحت کے بغیر پوری غیر جانبداری کے ساتھ نہ صرف کیا جائے بلکہ ہر کسی کو انصاف ھوتا نظر بھی آئے۔کسی ماڑے ،کمزور اور نہتے کو تو آپ ہلدی،نمک اور مرچوں کی چوری پر بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرکے اُس کی اگلی پچھلی نسلوں کا "کچومر"نکال دیں اور اُن بڑے چوروں اور لٹیروں کو جو ملک اور قوم کے اصل "دین دار" ہیں ان کے سامنےآپ ہر بار مصلحت کا شکار ھو جائیں یہ ھرگز انصاف نہیں ھے ۔یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ آئین اور قانون کی بالادستی صرف اسی صورت میں ممکن ھے جب انصاف یا احتساب کرتے وقت کسی کو بھی استثنیٰ نہ دیا جائے حتیٰ کہ "ملک کے وسیع تر مفاد " میں بھی نہیں ۔ کسی ڈر ،خوف اور لالچ کے بغیرجو جتنا ذمہ دار اور بااختیار ہے اس سے اسی کے مطابق حساب لیا جائے اور اسے عدالت کے کٹہرے میں ایک عام آدمی کی طرح کھڑا کیا جائے بصورتِ دیگر آپ احتساب در احتساب کرتے جائیں اس سےعوام کی حالت نہ پہلے بدلی ھے نہ آئندہ بدلے گی۔ حقیقی احتساب کرنا ھے تو اب کی بار صرف چوروں کا نہیں چوروں کی نانی کا بھی احتساب کریں جو ان چوروں کو جنم دیتی ھے اور ہماری اصل مجرم ھے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *