عمران خان دوسروں کی چوریاں پکڑنے کا کہتے ہیں، ان کے اپنےلیے بھی یہی اصول ہونا چاہیے، چیف جسٹس

saqib nisar

چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عمران خان دوسروں کی چوریاں پکڑنے کا کہتے ہیں، ان کے اپنے لیے بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔حنیف عباسی کی درخواست پرعمران خان نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف نے متفرق درخواست کا جواب نہیں دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کچھ خلاء موجود ہیں جنہیں پر کرنا ضروری ہے، الیکشن کمیشن کے جواب میں جواب الجواب پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت نے کہا تھا عمران خان جواب دینا چاہیں تو دیں۔پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ تاریخ لینے پرعدالت سے معذرت خواہ ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صرف معذرت کرنے پر کچھ نہیں ہوگا، ججز اپنی چھٹیاں کم کرکے کیس سن رہے ہیں، انورمنصور چھٹی پرہیں، وہ جواب جمع کرا کے نہیں گئے، عمران خان عدالت آکر بتائیں کہ وہ کسی اور کو وکیل کررہے ہیں یا نہیں۔فیصل چوہدری نے کہا کہ انور منصور کی طبیعت خراب ہے، چیک اپ کے لیے امریکا گئے ہیں، وہ ذمہ دار آدمی ہیں، ایسانہیں ہوسکتا کہ کیس لگے اور وہ نا آئیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ انور منصور سے رابطہ کرکے کل تک بتادیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جس رقم سے فلیٹ خریدا گیا وہ پیسے کہاں سے آئے؟ نعیم بخاری نے کہا اس کا جواب دے چکے ہیں، وہ کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں بتائیں بچت کتنی تھی، بینک اکاؤنٹس کے ذریعے آئے، ڈاکومنٹس کہاں ہیں؟نعیم بخاری بولے عمران خان اس وقت پبلک فگر نہیں تھے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب عمران خان پبلک فگر ہیں اور کہہ رہے ہیں چوری پکڑنی ہوگی، عمران خان کے اپنے لیے بھی یہی اصول ہونا چاہیے، ایک ایسا اکاؤنٹ ہے، پتہ نہیں لگ رہا کہ اس میں پیسے کہاں سے آئے۔حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ آپ کو سماعت جلد مکمل کرنے کی عادت ہے، کیس لمبا ہوگیا ہے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں ریکارڈ مکمل نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *