چوہدری نثار کی کہانی

محمد اقبال قریشی
Nisar Ch
مجھے حیرت ہورہی ہے کہ بہت سے فیس بکی احباب ان بکس میں سوال کر رہے ہیں کہ یہ چوہدری نثار کا کیا چکر ہے ، کچھ نے کمنٹس میں بھی یہی سوال کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگرچہ اب بات پھیل چکی ہے اور سب لوگ اپنے اپنے انداز میں اس کی لسی بنا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے باوجود میں پانی کے بغیر خالص دودھ پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا، (یاد رہے ، خالص دودھ آج کے دور میں کم ہی لوگوں کو ہضم ہو پاتا ہے ) ، اصل قصہ یہ ہے کہ کابینہ اجلاس میں چوہدری نثار اور میاں نواز شریف میں معمول کی تلخ کلامی ہوئی ، چوہدری نثار کا اجلاس ادھورا چھوڑ کر چلے جانے کی اطلاعات ملیں جن پر مخالفین نے طوفان کھڑا کر دیا اور ن لیگ میں پھوٹ پڑنے کی افواہیں گردش کرنے لگیں ۔ مورخہ 13 جولائی کو میاں نواز شریف کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں میاں چوہدری نثار نے پوری کابینہ کے سامنے میاں نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ہر مشکل وقت میں نوازلیگ کا ساتھ دیا ہے لیکن آج کل میری وفاداری پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے اور میرے خلاف باتیں کی جا رہی ہیں ۔
میاں نوا ز شریف پہلے تو خاموشی سے باتیں سنتے رہے پھر بعد میں انہوں نے چوہدری نثار سے کہا کہ آپ ہمارے پرانے ساتھی ہیں اگر آپ کو ئی گلہ شکوہ تھا تو آپ ہم سے براہ راست علیحدگی میں بات کرتے ، جس کے بعد چوہدری نثار نے غصے سے پاؤں پٹخا اور کابینہ اجلاس کو ادھورا چھوڑ کر وہاں سے روانہ ہو گئے، جبکہ وہاں پر موجود لوگوں نے انہیں روکنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔ جاتے جاتے چند لوگوں نے وجہ جاننے کے لیے انھیں روکا تو چوہدری صاحب نے غصے میں کہا کہ میں جارہا ہوں ، آج تک میں نے ہر صورتحال میں میاں صاحب کو ڈیفینڈ کیا، لیکن انھوں نے میری انا کو ہمیشہ ٹھیس پہنچائی ، اب میرے جانے کے بعد کوئی معجزہ ہی میاں صاحب کو بچا سکتا ہے ۔
حسب سابق ، الیکٹرانک میڈیا نے پوری بات بتانے کے بجائے چوہدری صاحب کی ایک بات  پکڑ لی اور اسے لے کر لسی بنانے لگے ، سوشل میڈیا پر بیٹھے دشمن تو پہلے ہی ایسی باتوں کا بتنگڑ بنانے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں سو وہ سب ہو گیا جو اب آپ کے سامنے ہے ۔
یہاں اس امر کی جانب توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ چوہدری صاحب کو بھی میاں صاحب کے ساتھ عرصہ ہو گیا ہے۔ اب تو انہیں میاں صاحب کا مزاج داں ہو جانا چاہیے تھا لیکن چوہدری صاحب ٹھہرے انا گزیدہ، زودرنج۔ انہوں نے ساری زندگی نا نہیں سنی۔ اپنے انداز سے سیاست کرنے کے قائل ہیں۔ اسی لیے عالمی اور مقامی افسر شاہی انہیں پسند کرتی ہے۔ لیکن اب ان کی یہ خوبی ان کی سیاسی خامی بننے جارہی ہے ۔
دوسری جانب اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ میاں صاحب  روز اول سے ہی اپنی چلانے کے لیے جو پتے کھیلتے ہیں ،  وہ اُلٹے پڑ جاتے ہیں۔ اسی کو سو گنڈے اور سو لتر کہتے ہیں۔غالباً میاں صاحب کا یہ پُرانا انداز ہے کہ میسنی زنانی کی طرح سب کچھ ہونے دیتے ہیں اور بعد میں اچھا جی کہہ کر انجان بن جاتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ میاں صاحب اس روش سے چھٹکارا حاصل کر لیں ورنہ یہی چھوٹے چھوٹے سنگریزے ان کی سیاست کا ٹرک الٹ دیں گے !!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *