عدالتیں اور فیصلے

 رعایت اللہ فاروقی
riayat ullah farooqi
 مجھے نہیں پتہ کہ فیصلہ وزیر اعظم کے حق میں آئے گا یا خلاف، میرے لئے تو آج کی تاریخ میں قابل غور بات یہ ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آتے ہی جو حضرات یہ کہہ رہے تھے کہ وزیر اعظم کو استعفے دیدینا چاہئے وہ ایک ہفتے کی عدالتی کار روائی دیکھنے کے بعد اس "خدشے" کا اظہار کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم بچ جائیں گے. اب اس کے دو مطلب ہیں، پہلا یہ کہ ان کے نزدیک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ جے آئی ٹی رپورٹ اہم ہے اسی کو فیصلے کی حیثیت مل جانی چاہئے تھی. دوسرا مطلب یہ کہ ان کے نزدیک وزیر اعظم کا بچ جانا "انصاف" نہ ہوگا. اس حوالے سے مجھ سے بھی سوال ہو سکتا ہے کہ کیا میں وزیر اعظم کے خلاف فیصلہ آنے پر اسے انصاف تسلیم کروں گا ؟ تو میری پوزیشن واضح ہے. وٹس ایپ کالز، حسین نواز کی تصویر لیکج، "سسلین مافیا" والے شرمناک تبصرے اور دیگر سکینڈلز کے بعد میں اس بنچ پر مکمل عدم اعتماد کر چکا ہوں. میں اس بنچ کی سزا کو تسلیم کرتا ہوں اور نہ ہی اس کا بری کرنا میرے لئے کوئی معنی رکھتا ہے. یہ بنچ اور اس کی بنائی جے آئی ٹی دونوں ہی بری طرح ایکسپوز ہو چکے ہیں. اس بنچ نے ثابت کیا ہے کہ ہماری عدلیہ اب بھی جسٹس منیروں اور جسٹس مولوی مشتاقوں سے بھری پڑی ہے اور یہ آج بھی سٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر "انصاف" کرنے کو تیار بیٹھی ہے. ایسی عدلیہ کی دی گئی سزائیں "عدالتی قتل" کہلاتی ہیں جبکہ ان کا بری کرنا دو ٹکے کی بھی اہمیت نہیں رکھتا.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *