بنیان اور مہمان 

tariq ahmed
ھم لاہور میں پیدا ھوے ۔ لیکن ھمارے گھر کا ماحول دیہاتی تھا۔ پرائمری سے انگریزی ادب میں ماسٹر تک ھماری تمام تعلیم اور تربیت لاہور میں ھی ھوئ۔ اس کے باوجود ھمارے پینڈو پن پر اس سے کوئی فرق نہ پڑا۔ وجہ اس کی یہ تھی۔ ھمارے ددھیال گاؤں سے تھے۔ جبکہ ننھیال اندرون شہر لاہور سے تھے۔ یعنی ایک پینڈو دوسرا نیم چڑھا ۔ گرمیوں کے موسم میں ھم تینوں بھائ گھر میں قمیض نہیں پہنتے تھے۔ البتہ بنیان ضرور زیب تن کر لیتے۔ کبھی کوئی مہمان بن بلائے ھی آ جاتا ھے۔ یہ ایک اتوار کی صبح تھی۔ کال بیل کی آواز پر ھم نے نیچے جھانک کر دیکھا ۔ تو ھمارا ماسٹرز کا ایک کلاس فیلو کھڑا نظر ایا۔ ھم اپنے روایتی لباس یعنی بنیان اور پاجامے میں ملبوس سیڑھیاں اتر کر آے۔ اور گھر کے گیٹ پر ھی اس سے گپ شپ لگانی شروع کر دی۔ ھمارا یہ دوست کیولری گراونڈ کا رھنے والا تھا۔ اچھی امیر فوجی فیملی سے اس کا تعلق تھا۔ اس نے بہترین جین کی پینٹ پہن رکھی تھی۔ برینڈڈ ٹی شرٹ اور آنکھوں پر قیمتی گاگلز ۔ نئ موٹر سائیکل پر اسٹائل سے بیٹھا وہ کسی فلم کا ھیرو لگ رھا تھا۔  ھم باتیں تو کر رھے تھے۔ لیکن ھمیں  محسوس ھو رھا تھا۔ وہ ھماری بنیان کی وجہ سے کچھ کسمسا رھا ھے۔ اور ان ایزی ھے۔ اتنی دیر میں ھمارا چھوٹا بھائی بھی باھر آ گیا۔ یار یہ صبح صبح کون آ گیا ھے۔ ھمارے دوست کو دیکھ کر اس نے ھاتھ ملایا۔ جبکہ ھمارا دوست ھاتھ ملانے میں کم اور اس کی بنیان میں دلچسپی زیادہ لے رھا تھا۔ اور واضح طور پر اپ سیٹ ھو چکا تھا۔ ابھی ھم اس صورت حال پر غور فرما ھی رھے تھے۔ کہ دوسرے دروازے سے ھمارے بڑے بھائی بنیان سمیت نمودار ھوے ۔ اور پیٹ کو کجھلاتے ھوے پوچھا۔ یار سب ٹھیک ھے نہ۔ ادھر ھمارے برینڈڈ دوست کا اوپر تلے بنیانوں کی یہ کیٹ واک دیکھ کر برا حال ھو چکا تھا۔ اور ھمیں خدشہ تھا۔ وہ غش کھا کر گرنے والا ھی ھے۔ ھم اس کا باتوں میں دھیان لگانے کی کوشش کر رھے تھے۔ لیکن اس نے آخر کراہتے ھوے دبے لہجے میں پوچھ ھی لیا۔ یہ تمہارے گھر میں قمیض پہننے کا رواج نہیں ھے۔ ابھی یہ جملہ اس کے منہ میں ھی تھا۔ اور ھم کوئی مناسب سا جواب سوچ رھے تھے۔ کہ ھمارے والد صاحب باھر تشریف لے آئے ۔ انہوں نے دھوتی کے اوپر بنیان پہن رکھی تھی۔ بنیان کی دونوں تنیوں میں ھاتھوں کے انگوٹھے پھنسا رکھے تھے۔ جیسے چلتے ھوے آدمی کوٹ کی جیبوں میں ھاتھ ڈال لیتا ھے۔ انہوں نے اپنے ھونٹ سکیڑے ھوے تھے۔ جہاں سے ایک فوک سونگ کی ھلکی سی دھن سیٹی کی آواز میں برآمد ھو رھی تھی۔ اور وہ آہستہ آہستہ اس دھن کو انجوائے کرتے کارنر شاپ کی طرف جا رھے تھے۔ ھم نے آواز دے کر پوچھا ۔ ابو ! کہاں جا رھے ھیں ۔ انہوں نے پلٹ کر ایک دل آویز مسکراہٹ سے ھمیں دیکھا اور کہا۔ یار وہ میں انڈے لے آؤں ۔ ابھی ان کی بات ختم نہ ھوئ تھی۔ کہ ھمارے دوست نے اپنی موٹر سائیکل کو کک ماری۔ اور یہ جا وہ جا ۔ غالبا اس کی قوت برداشت جواب دے گئی تھی۔ ورنہ ھم اس کو بتانے والے ھی تھے۔ کہ ھم گھر میں قمیض کیوں نہیں پہنتے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *