سجاتاکی آپ بیتی

faheem-akhter-uk

ذات پات کا اگر ذکر ہو تو ہندوستان کا ذکر ہونا لازمی ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو ذات پات کا ہندو مذہب سے منسلک ہونا اور دوسرا کام کے طریقے کارکو ذات پات سے جوڑنا۔ لیکن بھید بھاؤ کو لفظوں میں’ جرم ‘کہنے کے باوجود آئے دن ایسی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ آج بھی انسان ذات پات کے اس منحوس چکر میں پھنسا ہوا ہے۔
کہیں لوگوں کو نیچی ذات کا بتا کر پانی پینے میں امتیاز برتا جاتا ہے تو کہیں اسے اس کے حق سے محروم رکھاجاتا ہے۔ اکثرایسے واقعات میں سیاست دان ، مذہبی رہنما اور عام لوگ ملوث پائے جاتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے جب ذات پات کو مذہب سے منسلک کردیا گیا ہے تو حکومت اور سماج سدھار لوگ جتنی بھی کوشش کر لے اس کا مٹنا نا ممکن ہے۔
سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ہم کیوں ایک انسان کو اس کے کام کرنے کی وجہ سے اسے ایک نام دے دیتے ہیں۔ مثلاً چمار، دھوبی، مہتر، جولاہا اور دیگر کام جس کے کرنے سے ایک انسان نہ کہ حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ اس کی زندگی سماج میں ایک الگ تھلگ ذات کی شکل میں پہچاناجاتا ہے ۔ ایسے انسان سماج میں نچلے طبقہ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں اور اسے تعلیم اور روزگار کے حوالے سے ایک کمزور اور پسماندہ سمجھ کر اس کے ساتھ ہمدردی کی جاتی ہے۔

sujataلیکن سجاتا گِڈلا نچلی ذات کی ہو کر بھی اپنی لیاقت اور ہنر مندی کی بدولت نیو یارک کے سب وے ٹرین میں کنڈکٹر کا کام کر رہی ہیں۔حال ہی میں سجاتا نے Ants Among Elephants (ہاتھیوں کے بیچ چونٹیاں)کتاب لکھی ہے جس کی کافی ستائش کی جارہی ہے۔ سجاتا نے یہ کتاب اپنے والدین کے مشکل دنوں اور ایک نچلی ذات کے فرد کے ہونے کے ناطے لکھی ہے۔ اس کے علاوہ سجاتا نے ہندوستان کے ان تیس کروڑ دلتّوں کا بھی ذکر کیا ہے جو ایک انسان ہونے کے باوجود نچلے طبقہ کا بوجھ اٹھائے جی رہا ہے۔
’اینٹس ایمنگ ایلیفنٹس‘کو امریکہ میں کافی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ دی نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ سجاتا کی کتاب کو پڑھنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں اور اب بھی کس طرح سے انسان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے اور انہیں ذات پات کی بنا پر الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے والوں کو اس بات کی اچھی جانکاری ملے گی۔
معروف ادیب اور جائزہ لینے والے (Michiko Kakutani)میچیکو کاکوتانی لکھتے ہیں کہ سجاتا کے خاندان کی کہانی یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ایک قدیم روایت اب بھی ہندوستان میں جاری ہے اور اس تعصّب کو کس طرح بے نقاب کیا جارہا ہے۔
(Peter Lewis)پیٹر لوویس جو کہ ایک معروف جائزہ نگار ہیں ان کا کہنا ہے کہ سجاتا گِڈلا نے ایک مبصر کی حیثیت سے عمدہ کتاب لکھی ہے۔ سجاتا کو انقلابی کیڑوں نے کاٹا، ہندوستانی اتھاریٹی نے گرفتار کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، پھر آزاد ہوئیں۔ وہ ایک انقلابی کے بہاؤ میں کبھی اوپر گئی تو کبھی الجھی رہیں۔
ایک ثقافتی تنقید نگار) (Michael D Langanمائیکل ڈی لنگن نے سجاتا کے کتا ب کے بارے میں لکھا ہے کہ سجاتا اپنی ناگزیر روح سے نکل کر اپنے گھر والوں کی کہانی سنا رہی ہیں ۔ یہ ایک شرمناک کہانی نہیں ہے بلکہ یہ ایک خوشگوار بات ہے۔
سجاتا گِلڈا کی کہانی ایک دلّت لڑکی کی جدّو جہد کی کہانی ہے جسے اس نے امریکہ آکر آزادی کی صورت میں حاصل کیا۔ سجاتا لکھتی ہیں کہ ہندوستان میں ذات پات خاص کر دلتّوں کے لئے ایک لعنت ہے۔وہ لکھتی ہیں ’ ہندوستان میں آپ کی زندگی آپ کی ذات ہے اور آپ کی ذات آپ کی زندگی ہے‘۔
سجاتا گِڈلا کوئی پہلی دلّت خاتون نہیں ہیں جس نے اپنی کہانی سنائی ہے۔ لیکن شاید سجاتا کی یہ کتاب انگریزی میں ہونے کی وجہ سے اور امریکہ سے شائع ہونے کی وجہ سے زیادہ مقبول ہورہی ہے۔سجاتا گِڈلا ہندوستان کے تلنگانہ صوبہ کے ایک چھوٹے سے علاقے کازی پٹ سے تعلق رکھتی ہیں۔
سجاتا گِلڈا شاید ان دلّت خواتین میں خوش قسمت ہیں جنہیں امریکہ کے سب وے میں کنڈکٹر کی نوکی ملی ہے۔ تاہم لاکھوں دلّت خواتین اب بھی دلّت ہونے کی وجہ سے امیروں اور اونچی ذات والوں کا ظلم سہہ رہی ہیں۔ یہ لوگ اب بھی انسانی غلاظت کو صاف کرتے ہیں جس کی وجہ سے سماج میں انہیں الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔
سجاتا گِلڈا کی زندگی میں تبدیلی اس وقت آئی جب کینیڈا کی ایک مشنری نے وہاں کے لوگوں کے لئے تعلیم کا بندوبست کیا اور انہیں عیسائی مذہب میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ سجاتا کا کہنا ہے کہ دلّت اورعیسائی دو الگ بات نہیں ہیں۔ اگر آپ ہندوستان کے عیسائیوں کو دیکھے تو وہ زیادہ تر دلّت ہیں۔
سجاتا اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ان لوگوں کو الگ پلیٹ میں کھانا دیا جاتا تھا۔انہیں نل سے پانی پینے یا بھرنے کی اجازت نہیں تھی۔ انہیں الگ تھلگ علاقوں میں سائیکل کی سواری اور جوتا پہننے کی اجازت تھی۔سجاتا لکھتی ہیں کہ ایک دفعہ انہیں سخت صدمہ پہنچا جب اسکول میں ان کے دوستوں نے ان کی مٹھائی کو لینے سے انکار کر دیا۔ سجاتا کو یہ باتیں نہایت پریشان کرتی تھیں اور انہیں اپنے دلّت ہونے اور سماج میں مساوی مقام نہ ملنے کی شدید تکلیف تھی۔
سجاتا 26؍سال کی عمر میں امریکہ چلی گئی تھی۔ لیکن سجاتا کو امریکہ میں بھی ہندوستانیوں کے درمیان تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں سجاتا نے بینک میں نوکری کی لیکن کچھ عرصے بعد نیو یارک کے سب وے میں بطور کنڈکٹر نوکری شروع کر دی۔ سجاتا پہلی ہندوستانی خاتون ہیں جنہوں نے نیو یارک سب وے میں کنڈکٹر کی نوکری پائی ہے۔سجاتا کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی ایک ہندو کنڈکٹر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
میں سجاتا کی کتاب (Ants Among Elephants) کی کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں یہ بھی چاہوں گا کہ ہندوستان میں ذات پات کی بیماری سے لوگوں کو نجات ملے۔ تاہم فی الحال مجھے کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ جب تک کام کو اس کے نام سے الگ نہیں کیا جائے گا تب تک ذات پات کا مسئلہ جاری رہے گا۔ انسان پیدا ہونے بعد اپنے ماں باپ اور خاندان کی بدولت جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ شاید دلّتوں کی بھی یہی بد قسمتی ہے کہ وہ ایک انسان کے روپ میں پیدا ہونے کے باوجود اپنے ماں اور باپ کے کام کرنے کی وجہ سے سماج میں مہتر، چمار، دھوبی ، وغیرہ کہلاتے ہیں۔ جس کے لئے ہم قصور وار ہیں جو اپنی نااہلی اور تعصّب کی وجہ سے ان محنت کش لوگوں کو ایک نام دے کر سماج میں اپنی جھوٹی شان دکھاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *