خیبرپختونخوا۔بارود کی بُوکے ساتھ علم کی خوشبوبھی

رؤف طاہرrauf

الحمرا لاہور میں انہی دنوں سہ روزہ لٹریری فیسٹیول بھی منعقد ہورہا تھا، امریکہ ، برطانیہ ، ناروے اور بھارت سمیت متعدد ملکوں کے مندوبین کی شرکت نے اس کی اہمیت دوچند کردی تھی۔ اُدھر مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے دو روزہ قومی مباحثے کی اپنی کشش تھی، پروفیسر شیراز پراچہ کا محبت بھرا اصرار اس کے علاوہ تھا۔ شیراز اس لحاظ سے اپنا ’’پیٹی بھرا‘‘ ہے کہ تعلیم سے فراغت کے بعد اس نے (1987 میں) اپنے کیریئر کا آغاز روزنامہ جنگ سے کیا تھا۔ صحافت میں دس سالہ دشت نوردی کے بعد وہ لندن چلا گیا، یہاں انٹرنیشنل جرنلزم میں ماسٹرز اور یونیورسٹی آف لندن سے ڈویلپمنٹ سٹڈیز میں ڈپلومہ کرنے کے بعد بی بی سی سے وابستگی اختیار کر لی۔ پھر تاجکستان کی الماتے انٹرنیشنل یونیورسٹی چلا آیا اور یہاں 5سال تک تعلیمی خدمات انجام دیں۔ وطن واپسی پر پی ٹی وی پشاور سینٹر سے ٹاک شوز کئے۔ مئی 2013 کے عام انتخابات کے بعد کے پی کے میں پرویز خٹک وزیراعلیٰ بنے، تو ان کے (اور عمران خاں کے ) اصرار پر وزیراعلیٰ کا ترجمان بن گیا لیکن آٹھ ، نو ماہ میں ہی اندازہ ہوگیا کہ ان کی ترجمانی (یا وکالت) آسان کام نہیںچنانچہ اجازت چاہی۔ پروفیسر شیراز پراچہ ان دنوںمردان یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن کے سربراہ ہیں۔ ہم نے پولیٹیکل سائنس میں ریاست کے تین ستونوں کا پڑھا تھا، مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ۔ پھر میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہونے کا دعویداربن گیا۔ سیٹلائٹ نے زمینی فاصلے بے معنی بنا دیئے۔ دُنیا کو گلوبل ولیج بنانے میں میڈیا نے بھی بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ 2001-02میں پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کی آمد نے میڈیا کی طاقت اور اس کے اثر کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا! اپنے ہاں الیکٹرانک میڈیا کی بہار اچانک آگئی تھی۔ پاکستانی یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے صحافت کے لیے بھی یہ ایک نئی چیز تھی۔ تب پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے اس چیلنج کو قبول کیا، وہ کیمروں کے سامنے آبیٹھے۔ فوٹوگرافروں نے بھی اپنی صلاحیت ثابت کی۔ دیگر تکنیکی شعبوں میں بھی لوگ آگے بڑھے اوررفتہ رفتہ سیکھتے گئے۔ میڈیا ہاؤسز نے بیرونِ ملک بھی ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا۔ یونیورسٹیوںمیں بھی ماس کمیونیکیشن کے شعبے کھل گئے۔ اب ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں بچے اور بچیاں میڈیا کے مختلف شعبوں کی ڈگریاں تھامے ’’مارکیٹ‘‘ میں آجاتے ہیںلیکن کیا یونیورسٹیوںکی تیار کردہ یہ پراڈکٹ مارکیٹ کی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہے؟ الیکٹرانک میڈیا نے نیوز اور کرنٹ افیئرز کے اینکرز کو celebrities بنا دیا ہے۔ یہ بات باعثِ مسرت ہے کہ وہ لاکھوں میں معاوضہ لیتے ہیں، ان کا لائف اسٹائل بھی گلیمرس ہو گیا ہے لیکن یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کچھ میڈیا ہاؤسز اور اخباری اداروں کے کارکنوں کے حالاتِ کار ، ان کے معاوضے اور حالاتِ زندگی قابلِ رشک نہیں۔ مینیم ویج بورڈاور اس کے طے کردہ معاوضے بھی خواب و خیال ہوچکے۔ڈیجیٹل /آن لائن جرنلزم ایک نیا phenomenon ہے۔ادھر ’’سوشل میڈیا‘‘ نے میڈیا کو نیا رنگ اور آہنگ دے دیا ہے۔ زور آوروں کے جبر کے ماحول میں یہ کمزور کا مؤثر ہتھیار ہے۔ مثلاً ’’عرب بہاراں ‘‘ میں اس کا کردار …لیکن اس میں ’’کریڈ یبلٹی‘‘ کے ایشو کی اپنی اہمیت ہے۔ کسی قدغن ، کسی پابندی کے بغیر بے لگام آزادی نے اخلاقی حوالوں سے بھی بعض مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ میڈیا خود کو ’’واچ ڈاگ‘‘قرار دیتا ہے، کیا اس کے لیے کسی ’’واچ ڈاگ‘‘ کی ضرورت نہیں؟ پاکستان ’’حالتِ جنگ‘‘ میں ہے، دہشت گردی کی جنگ۔ اس حوالے سے پاکستانی میڈیا کا کردار کیا ہے؟ اور کیا ہونا چاہیے؟ادھر کالم نویسوں کی اپنی اہمیت ہے جس کا اندازہ اخبارات میں روزانہ کالموں کے جمعہ بازار سے لگایا جاسکتا ہے؟ یہی معاملہ ٹی وی ٹاک شوز کا بھی ہے۔ رائے عامہ کی تیاری میں ان کی اہمیت ؟ اور یہ بھی کہ یہ رائے عامہ کی رہنمائی کرتے ہیں یا کنفیوژن پیدا کرتے ہیں؟
پروفیسر شیراز پراچہ اور ان کے رفقا کے زرخیز دماغ نے ان تمام مسائل پر غوروفکر کے لیے مردان یونیورسٹی میں دو روزہ قومی مباحثے کا اہتمام کیاتھا۔ جس میں لاہور، اسلام آباد، کراچی اور کوئٹہ تک سے نمایاں اور ممتاز میڈیا پرسنز اظہارِ خیال کے لیے مدعو کئے گئے تھے۔ (پشاور تو ان کے گھر کی بات تھی)۔فاٹا والوں کی نمائندگی بھی تھی،’’جنگ زدہ‘‘ علاقوں کے صحافیوں کی اپنی مشکلات ہیں تو کراچی والوں کے اپنے مسائل۔ مردان میں یہ دو دن ہمارے لیے ایک خوشگوار تجربہ تھے، خیبر پختونخوا کے نام کے ساتھ ہی دہشت گردی کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے جیسے یہی اس کی شناخت بن چکاہولیکن یہاں بارود کی بو ہی نہیں، علم کی خوشبو بھی ماحول کو مہکارہی تھی۔ دہشت گردی کے اندھیروں میں تعلیم کا نور بھی پھیل رہا ہے۔خیبر پختونخوا کی گزشتہ حکومت نااہلی اور بدعنوانی کی شناخت رکھتی تھی(اے این پی اور پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت) لیکن یہاں آکر ہمیں تصویر کا دوسرا رُخ دیکھنے ، معاملات کے دوسرے پہلو سے آگاہ ہونے کا موقع بھی ملا۔ نوجوان امیر حیدر ہوتی پہلی بار ایم پی اے بنا تھا کہ مخلوط حکومت کی وزارتِ اعلیٰ کا بوجھ بھی آن پڑا۔ خیبر پختونخوا کی حکمرانی فی الواقع کانٹوں کی سیج تھی۔ نوجوان ہوتی کی اے این پی بطورِخاص دہشت گردی کا نشانہ تھی، اس کے کتنے ہی کارکن اس میں کام آئے، وزیراطلاعات افتخار حسین کا اکلوتا صاحبزادہ اس کی نذر ہوگیا، سینئر منسٹر بشیر بلور بھی جاں سے گزر گئے لیکن اس کے باوجود نوجوان ہوتی کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران صوبے میں 9نئی یونیورسٹیاں بنیں (اِن پانچ برسوں میں یہ 10سے 19ہوگئیں)۔ کالجوں کی تعداد بھی دوگنا ہوگئی۔تو کیا یہ ایک کرپشن فری حکومت تھی؟ ۔ کرپشن بھی تھی لیکن اتنی نہیں، جتنا پروپیگنڈہ ہوا۔ مردان کی یہ یونیورسٹی بھی گزشتہ حکومت کا اہم کارنامہ ہے۔ 2009 میں 734 طلبہ و طالبات کے ساتھ اپنے سفر کاآغاز کرنے والی اس یونیورسٹی میںاب طلباوطالبات کی تعداد8293 ہوچکی۔ (ان میں91 پی ایچ ڈی اور 612 ایم ایس/ ایم فل کے طلبہ ہیں)۔ 354 فیکلٹی ممبرز میں133 پی ایچ ڈی(148 پی ایچ ڈی بیرون ملک سے) اور 107ایم ایس /ایم فل ہیں(اِن میں سے 68 نے بیرونِ ملک سے یہ ڈگریاں حاصل کیں)۔ اس وقت 80 فیکلٹی ممبرز بیرونِ ملک مختلف یونیورسٹیوں میں اسکالرشپ پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔عبدالولی خاں یونیورسٹی مردان اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ٹھہری کہ اِسے اپنی پیدائش کے ساتھ ہی پروفیسر ڈاکٹر احسان علی کے مضبوط ہاتھ، توانا دماغ اور جذبوں سے بھرا دل نصیب ہوگیا ۔ آرکیالوجی میں عالمی شہرت یافتہ پروفیسر اس سے قبل ہزارہ یونیورسٹی میں وائس چانسلر رہے۔ دوہزار کنال پر مشتمل یونیورسٹی کے گارڈن کیمپس میں بیشتر عمارات تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں۔ جس عمارت میں یہ قومی مباحثہ منعقد ہوا یہ اس یونیورسٹی کی نوتعمیر شدہ لائبریری کا پہلا دِن تھا جس کے لیے پہلے مرحلے میں 2لاکھ سے زائد کتابوں کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر احسان علی اِسے اگلے دو سال میں پاکستان میں پبلک سیکٹر کی دس بڑی یونیورسٹیوں کی فہرست میں لے جانا چاہتے ہیں۔ صرف جدید عمارات کے اعتبار سے نہیں، تحقیق و جستجو اور تعلیمی معیار کے اعتبار سے بھی کہ
جہانِ تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *