بے حسی

Related image

بے حسی صرف ایک اصطلاح نہیں اور نہ ہی یہ کسی کے لیے پہچان رکھنے والا نام ہے اور نہ ہی یہ کسی کی خاصیت ہے نہ صفت ہے اور نہ ہی جرم ، کس قدر مجبور ہوتے ہیں وہ لوگ جو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے واقعے سے اجنبیت ظاہر کرتے ہوئے اس کے دکھ اور کرب کو اپنے اندر سمو لیتے ہیں اور ایسے بے حس لوگ ہمیشہ مجھے اپنی طرف کھینچتے ہیں ، شاید میں بھی بے حس ہوں ، میں اپنی طرف دیکھتی ہوں اور اپنی خواہشوں کی طرف دیکھتی ہوں لیکن میں انہیں دیکھ کر ان کی سن کر ان کو پہچان کر انہیں ان سنا کر دیتی ہوں ان دیکھا کر دیتی ہوں انجان ہو جاتی ہوں تو میری بے حسی پہ کسی کو ترس نہیں آیا ؟ کئی بار بے حسی ایک کیفیت بن کر اپنے آپ میں سب کچھ چھپا لیتی ہے ، کئی بار مجبوری اس اندار سے پیش کی جاتی ہے کہ جیسے مجھے فرق ہی نہیں پڑتا لیکن وہ مجبوری ظاہر نہ کر کے بے حسی کا پردہ ظاہر کر کے کس قدر تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے وہ ہی جان سکتے ہیں جو اس حالت اور اس کیفیت سے گزرتے ہوں

بے حسی ایک کمزوری بھی ہے اور کتنے کمزور ہوتے ہیں وہ لوگ جو بے حس ہوتے ہیں ، یہ بے حسی کا منفی پہلو ہے ، وہ لوگ جو سب کچھ دیکھتے ہیں سب کچھ سنتے ہیں ، فرض کریں ظلم ہو رہا ہےاور کوئی اسے دیکھ کر بھی خاموش ہے تو وہ کس قدر بے حس ہے یہ مت سوچیں یہ دیکھیں کہ وہ کس قدر بزدل ہے کہ اس ظلم کو دیکھ کر اس ظلم کو جان کر بھی اس کے خلاف بغاوت نہیں کرتا مظلوم کے حق میں آواز نہیں اٹھاتا ، لڑنے والی کی ڈھارس نہیں بندھاتا ، مرنے والے پہ آنسو نہیں بہاتا ، کس قدر کمزور اور بزدل ہے وہ جسے ہم بے حس کہہ کر پکار رہے ہیں

یہی وجہ ہے کہ میں کہہ رہی ہوں کہ بے حسی کوئی ایک حالت میں پیش کی جانے والی تصویر نہیں اور نہ یہ دو رخ والی تصویر ہے ، بے حسی تو ایک عادت ہے اور اس عادت کو مختلف مزاج کے لوگ مختلف انداز میں اپناتے ہوئے مختلف مناظر کی صورت میں پیش کرتے ہیں ، زندگی کبھی بھی آسان نہیں رہی یہ ایک حقیقت ہے لیکن بے حسی اور زندگی کو اکٹھے دیکھا جائے تو بہت سے جگہوں پہ بے حسی بھی ضروری ہو جاتی ہے اور اس بے حسی کے بغیر زندگی جینا ممکن ہی نہین رہتا ، بہت سے مقامات ایسے آتے ہیں جب ہمیں اپنی انا کے لیے اپنی محبت کے لیے اپنے رشتوں کے لیے اپنے آپ کے لیے بہت ساری باتیں بہت ساری چیزیں دیکھتے ہوئے سنتے ہوئے جانتے ہوئے ان دیکھی ان سنی انجانی کرنی پڑتی ہیں اور اس جینے کو کوئی بے حسی کا نام دیتا ہے کوئی بے رخی کا کوئی مصلحت پسندی کا کوئی بد مزاجی اور کوئی بے شرمی کا لیکن حقیقت یہ ہے کہ بے حسی ایک چور راستہ ہے بہت سارے سوالات سے بچنے کا ، بے حسی کی پٹٰی باندھ کر کنویں سے آنکھیں موڑنی ہیں ، بہت سے معاملات کو نپٹانے کی بجائے ان سے جان چھڑانا ، بہت سارے رشتوں کو مجبور دیکھتے ہوئے بھی انجان بنے رہنا اور بعض اوقات تو اپنے آُپ کو بھی بے حسی کے رحم و کرم پہ چھوڑتے ہوئے مجبوری کے پردے میں چھپ جانا ، یہ سب بے حسی کے مختلف روپ ہیں جن سے نہ کوئی منہ موڑ سکتا ہے نہ انکار کر سکتا ہے اور انکار کرنے والا اگر انکار بھی کرے گا تو یقین مانیے وہ بھی بے حسی ہی کا مظاہرہ کر رہا ہے ورنہ سچ نے کبھی بھی آنکھیں نہیں چرائیں ، میں بے حس ہوں آپ بے حس ہیں ،یہاں سب بے حس ہیں ، یہ معاشرہ یہ لوگ یہ دھرتی یہ زمین یہ زمین والے ، یہ جذبات یہ رستے یہ منزلیں ، سب بے حسی کو کہیں نہ کہیں سمیٹے ہوئے اپنے آپ میں گم ایک ایسی منزل کی طرف رواں دواں ہے جہاں سے زندگی کے نام پر کچھ بھی ملے اس کو ہی سب کچھ جان کر سانس لینا پڑتا ہے اور بے حسی کے لبادے میں آنکھیں موندے کتنے ضمیر اپنے آپ کو جھٹلاتے اپنے آپ سے پیچھا چھڑاتے نظر آتے ہیں اور اسی بھیڑ میں کہیں بے حسی خود اپنا شکار ہونے والوں کے لیے بے چین ہو گی اور ایک ایسی نظم لکھ رہی ہو گی جسے پڑھ کر شاید کچھ آنکھیں نم ہو جائیں اور میں اپنا قلم یہیں روکتی ہوں کہ آگے بے حسی کی حد شروع ہوئی چاہتی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *