الزام لگانا غلط ہے تو گالیاں دینا بھی غلط ہے

raza-habib-raja

کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی دونوں خواتین سے نفرت کے کلچر کو فروغ دے رہی ہیں۔ میں نے اس آرٹیکل میں خواجہ آصف اور جاوید لطیف جیسے لوگوں کو خواتین کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ میرا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اپنے حمایتیوں کی طرح بڑی بڑی خواتین سیاسی رہنماوں کے خلاف غلط زبان استعمال کرنے میں پیش پیش ہے۔ میں نے ملالہ، عاصمہ جہانگیر، ریحام خان، اور مریم نواز کے نام مثال کے طور پر ذکر کیے۔ میں نے بتایا کہ کیسے شیریں مزاری اور ان کی بیٹی پر جملے کسے گئے جب انہوں نے 2012 میں پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ جواب میں مجھے بھی پی ٹی آئی سپورٹرز کے عتاب کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے ایکسپریس ٹریبیون کے سٹاف نے بھی ن لیگ کا چمچا قرار دیا ۔

کچھ لوگوں نے میرے موازنے کو ناجائز قرار دیا اور کہا کہ خواجہ آصف کے بیان کو پی ٹی آئی کارکنان کی زبان سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ دن قبل پی ٹی آئی کی ایم این اے عائشہ گلالئی نے عمران خان کے خلاف سخت الزامات لگائے ۔ انہوں نے پارٹی میں سیکسزم کا ذکر کیا جو کچھ دن قبل ناز بلوچ نے بھی کہا تھا۔ لیکن سب سے اہم بات عمران خان پر الزامات تھے۔ الزامات کے بعد پی ٹی آئی کے لوگ جو اپنے آپ کو تعلیم یافتہ قرار دیتے ہیں کو اپنی قیادت سے سوال کرنا چاہیے۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔ ان تعلیم یافتہ عوام نے اندھی تقلید کرتے ہوئے اپنے لیڈر کا دفاع کیا اور گلالئی کو بے عزت کیا جس سے ان کی خواتین سے نفرت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ابھی تک گلالئی پر حملے جاری ہیں ۔ اس سب واقعہ میں سب سے بری چیز پی ٹی آئی لیڈر فواد چوہدری کا جواب تھا۔

اس کا سب سے برا پہلو پی ٹی آئی کے فواد چوہدری کی طرف سے گلا لئی پر الزامات کی بوچھاڑ تھا۔ اپنے جواب میں چوہدری صاحب نے گلالئی کو موقع پرست اور قابل فروخت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گلالئی کو ن لیگ استعمال کر رہی ہے۔ لیکن وہ یہیں پر نہیں رکے بلکہ گلالئی کی بہن ماریہ وزیر تورپاکئی جو پاکستان کی سکواش پلیئر ہیں پر بھی ظنز کے تیر چلا ڈالے۔ انہوں نے وزیر پر الزام لگایا کہ انہوں نے پختون کلچر کو دھبہ نما بنا دیا ہے۔

ان کے بدتمیزی پر مبنی جواب کو پی ٹی آئی کارکنان نے بہادری قرار دیا۔میں یہاں کچھ اہم نکات قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں۔ پہلی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کو یاد رکھنا چاہیے کہ چوہدری اپنے ماضی میں عمران خان کے بارے میں بھی بہت برے الفاظ استعمال کر چکے ہیں۔ اگر یہ لوگ ان کے بیانات کو بہادری قرار دے رہے ہیں تو پھر انہیں ان کے ماضی کے بیانات کو بھی سچ تسلیم کرنا ہو گا۔

دوسری بات یہ کہ اس سارے معاملے میں پی ٹی آئی کی اندرونی ثقافت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پارٹی اور اس کے سپورٹر نے عمران خان کو سب سے اعلی درجے پر رکھا ہے اور جو بھی ان پر تنقید کرتا ہے اسے سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے۔ جو لوگ پارٹی چھوڑ جاتے ہیں اور پھر عمران خان پر تنقید کرتے ہیں انہیں سخت گالیاں بکی جاتی ہیں چاہے وہ مرد ہوں یا خواتین ۔

شرمین عبید چنائے جنہوں نے اپنی فلم کے لیے آسکر ایوارڈ جیت رکھا ہے نے بھی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا: "اس پارٹی میں بہت سے ٹرال پائے جاتے ہیں۔ ہر کسی کی ماں بہن بیٹیاں ہوتی ہیں۔ انہیں کسی پر الزامات لگاتے وقت اپنے گھر کی خواتین کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ "

تیسری بات یہ ہے کہ چوہدری صاحب کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ خود بھی ایک موقع پرست انسان ہیں اور وفاداریاں بدلتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی سے اس وقت علیحدگی اختیار کی جب پارٹی کی پنجاب میں ساخت متاثر ہوئی تھی۔ اس سے بھی بری بات یہ کہ انہوں نے عمران خان کو گالیاں دینے کے بعد ان کی پارٹی میں شمولیت اخیتار کی۔ 2012 میں پی ٹی آئی میں آنے سے قبل انہوں نے مشرف کے ترجمان کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ اس لیے ان کی زبان سے گلالئی پر موقع پرست اور منافق ہونے کے الزامات اچھے نہیں لگتے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ انہیں یاد ہونا چاہیے کہ ماریہ وزیر پاکستان کا فخر ہیں اور ایک بہادر خواتین ہیں۔ کچھ ہفتے قبل میں نے ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ کیسے انہوں نے صنفی تفاوت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے خوابوں کوسچ کر نے کی ہمت دکھائی۔ شارٹس پہن کر کھیلنے سے ان کی عزت یا کامیابی کی قدر کم نہیں ہو جاتی۔ اپنی تعلیم کے باوجود چوہدری نے مردانہ آمریت پر مبنی ہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کیا ہے۔ گلالئی کی بہن کو اس معاملے میں کھینچ کر انہوں نے پی ایم ایل این کے جاوید لطیف والا رویہ اختیار کیا ہے۔ جب جاوید لطیف نے ایسا کیا تھا تو فواد چوہدری نے ان کی حرکت پر سخت مذمت اور تنقید کی تھی۔ اب انہوں نے خود ہی یہ حد پھلانگنے کی جسارت کر لی ہے۔

پانچویں بات یہ کہ یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے بنیادی مسئلے کا عکاس ہے۔ جب ایک خاتون ہمت باندھ کر ہراساں کرنے کے خلاف بول پڑتی ہے تو اس کی ہمت بڑھانے کی بجائے ہم اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب ہراساں کرنے والا شخص صاحب حیثیت ہو تو مظلوم کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دینے کا رویہ مزید سختی اختیار کر جاتا ہے۔ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ خاتون سستی شہرت کی تلاش میں ہے اور اس طرح اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ کئی بار خواتین بھی اس مظلوم کو نشانہ بنانے کے عمل میں شریک نظر آتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں خواتین سے نفرت کا عنصر کس قدر نمایاں ہو چکا ہے۔

بہت سے پی ٹی آئی کارکنان کا کہنا ہے کہ الزامات پر یقین کر لینا ٹھیک نہیں ہے۔کسی بھی الزام لگانے والے پر یقین کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ہر شخص کو دفاع کا حق ملنا چاہیے۔ لیکن اسی لاجک کے تحت کسی الزام لگانے والے پر شک کرنا اور اسے گالیاں دینا بھی صحیح نہیں ہے۔ میرے خیال میں مہرین زہرا ملک نے اپنے اس ٹویٹ میں واضح طور پر ایک اچھا پیغام دیا ہے:

کسی کے پاس اس بات کا ثبوت نہیں کہ عائشہ گلالئی سچ یا جھوٹ بول رہی ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ گالی گلوچ کا کھیل بند کیا جائے۔ہمیں مہرین کی اس ہدایت پر عمل کرنا چاہیے۔


source:http://blogs.tribune.com.pk/story/54399/if-its-unfair-to-believe-an-allegation-it-also-unfair-to-doubt-ayesha-gulalai-and-call-her-names/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *