بدلتی صورتحال 

tariq ahmed

آج حضرت علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تقریر میں حسب روایت کافی شیڈ آے۔ اور اتار چڑھاو رھا۔ انہوں نے دل کھول کر نواز شریف کو گالیاں نکالیں۔ دشنام ترازیاں کیں۔ دھمکیاں دیں۔ سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کی تعریف کی۔ ججوں کے ساتھ اور مقتدر حلقوں کے ساتھ کھڑا ھونے کی یقین دہانی کروائی ۔ نواز شریف کو نصیحت کی۔ وہ جی ٹی روڈ کا سفر منسوخ کر دیں۔ نواز شریف کو سیاست چھوڑ کر گھر بیٹھنے کا مشورہ دیا۔ نواز شریف کی ریلی کے راستے میں دھرنا دینے کی دھمکی دی۔ اور آخر میں قصاص کا مطالبہ کرکے تقریر اور جلسے کا اختتام کر دیا۔ اگر اس تقریر کا مختصر تجزیہ کیا جائے ۔ تو ایک بات کلیر ھے۔ نواز شریف کے سفر براستہ جی ٹی روڈ کی وجہ سے کچھ لوگوں پر شدید خوف کی کیفیت طاری ھے۔ اور وہ اسے ھر صورت رکوانا چاہتے ھیں۔ اور اس مقصد کے لیے ان قوتوں نے ایک بار پھر اپنے آزمودہ گھوڑے کو میدان میں اتار دیا ھے۔ گویا بات پہنچی تیری جوانی تک۔ کزن عمران خان پر گلالئی کی جانب سے بد کرداری کے الزامات کے بعد عمران خان کو اپنی پڑی ہوئی ھے۔ چناچہ قادری صاحب کا منظر نامے پر نمودار ھونا ضروری ھو گیا تھا ۔ یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ھے۔ آخر نواز شریف کے سفر کی وجہ سے خوف کیوں ھے۔ اور کس کو ھے۔ جو بات دھمکیوں سے گالیوں اور ترلے منتوں تک پہنچ گئی ھے۔ نواز شریف کو حکومت توڑنے، نئے الیکشن کروانے اور قید و بند سے محفوظ رہنے کی تجویز دی جا رھی ھے۔ ورنہ ملک کے حالات مزید بگڑ سکتے ھیں ۔ سوال یہ بھی ھے۔ آپ نواز شریف کے راستے میں دھرنا لے کر کس طرح بیٹھ سکتے ھیں۔ یہ ملک میں انارکی اور خون خرابہ پھیلانے والی بات ھے۔ وہ خوفناک منظر جو ھم عراق اور شام میں دیکھ رھے ھیں۔ اچھا خاصا ملک چل رھا تھا۔ سیاسی و معاشی استحکام آ رھا تھا۔ سی پیک منصوبے بن رھے تھے۔ بجلی کے کارخانے مکمل ھو رھے تھے۔ بلوم برگ اور وال سٹریٹ پاکستان کو پہلی دس ابھرتی معیشتوں میں شمار کر رھے تھے۔ سٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں کو چھو رھا تھا۔ بزنس چل پڑا تھا۔ اور یکایک مائنس فارمولے پر کام شروع ھو گیا۔ یہ بھی قابل قبول تھا۔ اگر پروگرام نواز شریف کو جیل ڈالنے کا نہ ھوتا ۔ بلی کو بھی دیوار کے ساتھ نہیں لگانا چاھیے۔ آخر یہ سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا نواز شریف آپ کی بالا دستی کے لیے اتنا بڑا خطرہ بن گیا تھا؟ کہ سب کچھ داو پر لگایا جا رھا ھے۔ اگر کسی بھی وجہ سے حالات بگڑے۔ تو ذمہ داری کس پر ھو گی۔ مارشل لاء علاج نہیں ھو گا۔ یقین کر لیں۔ اچھی طرح سوچ لیں ۔ اگر نواز شریف براستہ جی ٹی روڈ آ رھا ھے۔ تو اسے آنے دیں۔ یہ اس کا جمہوری حق ھے۔ روکنے کی بجائے اسے سیکیورٹی مہیا کریں۔ وہ سیکیورٹی جو عمران خان اور طاھر القادری کو مہیا کی جاتی ہے ۔ اسی میں ملک کی بہتری اور ملک کا استحکام ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *