کیا عورت کی کوئی جنسی خواہش نہیں ہوتی؟

کنول کپاڈیہ

sania

میری ایک سہیلی کی شادی ہوئی تو وہ بہت خوش تھی، تاہم کچھ دنوں بعد اس نےمجھے بتایا کہ اس کا شوہر جنسی طور پر سٹرانگ نہیں ہے اور قربت کے لمحات میں تو وہ بالکل ہی فیل ہوجاتا ہے-میں نے پوچھا پھر اب تم نے کیا سوچا ہے؟ کہنے لگی سوچنا کیا ہے، شادی ہوگئی ہے اب تو نباہ کرنا پڑے گا-میری اس سہیلی کے تین بچے پیدا ہوئے تو میں نے کہا کہ تم تو اپنے شوہر کے بارے میں کچھ اور ہی بتاتی تھیں، یہ بچے کیسے ہوگئے؟ اس نے ایک زخمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا" پچے پیدا کرنا اور جنسی اطمینان حاصل کرنا دومختلف چیزیں ہیں"

آج جب میں امریکھ میں  "جنسیات" پڑھ رہی ہوں تو مجھے احساس ہورہا ہے کہ میری سہیلی ٹھیک کہتی تھی- ہمارے معاشرے میں عموما" مرد جنسی خواہش کو صرف اپنی ملکیت سمجھتا ہے، عورت اس حوالے سے خواہش کا اظہار کرے تو بدکردار سمجھی جاتی ہے- سو جب مرد کا دل چاہتا ہے وہ عورت کے پاس جاتا ہے لیکن عورت ہمیشہ ایسا کرنے میں جھجکتی ہے-ایک شوہر اور بیوی کارشتہ لباس کی طرح ہوتا ہے، دونوں ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں لیکن معاشرے نے تنگ نظری کی ایسی قدغن لگا دی ہے کہ عورت کبھی کسی کو بتا ہی نہیں پاتی کہ اس کا مرد اسے مطمئن نہیں کر پاتا- ایسی عورتیں نفسیاتی مریض بن جاتی ہیں، ان کے شوہر بڑی بے صبری اور گرم جوشی کے ساتھ ان کے پاس آتے ہیں اور اتنی ہی سرعت سے لوٹ بھی جاتے ہیں-یہ جانے بغیر کہ عورت کو بھی اطمینان نصیب ہوا ہے یا نہیں- یہ ہمارے ہاں کا ایک عام مسئلہ ہے بلکہ میں نے تو نوٹ کیا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں بھی عورتیں اس مسئلے پر بات کرنے سے جھجکتی ہیں-آرگیزم کتنی عورتوں کو نصیب ہوتا ہے، بہت کم تعداد ہے، اور اس کی بڑی وجہ مرد کی بے تابی ہے- سیکس صرف ملاپ کا ہی نام نہیں، اس میں گفتگو سے لے کر چھیڑ چھاڑ تک شامل ہوتی ہے لیکن چونکہ ہمارے مردوں کو ایسی کوئی ٹریننگ نہیں، نہ کبھی انہوں نے ایسی کوشش کی ہوتی ہے لہذا وہ عورتوں کو پیاسا چھوڑ کر اٹھ جاتے ہیں- جنسیات پر بات کرنا بہت ضروری ہے ، یہ معاشرے کا بہت بڑا مسئلہ ہے، یقین کیجئے گھروں میں اکثر لڑائیوں کی بنیادی وجہ یہی ہے لیکن لوگ تسلیم نہیں کرتے- جن میاں بیوی میں جنسی طمانیت کی شرح ایک جیسی ہوتی ہے وہ خوش بھی رہتے ہیں اور مطمئن بھی-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *