نواز شریف کی واپسی بذریعہ جی ٹی روڈ 

tariq

یہ اسلام آباد سے لاہور واپسی ھے۔ یہ نواز شریف کی سیاست میں واپسی ھے۔ اور یہ نواز شریف کی اقتدار میں بھی واپسی ھے۔ اور یہ سول بالادستی کی بھی واپسی ھے۔ پاک و ہند کی سیاسی تاریخ میں گرینڈ ٹرنک روڈ کو اقتدار کی راہداریوں میں مرکزی شہہ رگ کی حیثیت حاصل رھی ھے۔ اور اس سڑک کی یہ اھمیت آج بھی علامتی اور فزیکل شکل میں قائم ھے۔ جس لیڈر نے بھی پاکستان کا اقتدار حاصل کرنا ھے۔ اسے جی ٹی روڈ پر موجود شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں اپنی عوامی مقبولیت ثابت کرنا ھو گی۔ اور نواز شریف اپنے اس سفر میں یہی کر رھے ھیں۔ یہاں سوال لوگوں کی گنتی کا نہیں ھے۔ اگرچہ اس کی اپنی اھمیت ھے۔ بلکہ اھمیت اس پیغام کی ھے۔ جو نواز شریف اپنے اس سفر کے دوران پاکستان کے لوگوں اور اپنی پارٹی کے کارکنوں کو دے رھے ھوں گے۔ اور وہ پیغام ایک ھی ھے۔ اور وہ یہ کہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم کو اس طرح اقتدار سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ اور پاکستان کے عوام یہ پیغام سن رھے ھیں ۔ اور وہ اس سفر میں شامل ھو کر ان قوتوں کے خلاف اپنی نفرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے۔ جنہوں نے ستر سال سے اس ملک میں وزیراعظم کے عہدے کو مذاق بنا رکھا ھے۔ یہ سفر اس بات کی بھی گواھی دے گا۔ کہ پاکستان کے عوام نے عدلیہ کا یہ فیصلہ قبول نہیں کیا۔ اور یہ کہ اداروں کو عوام کی مرضی کے خلاف فیصلے دینے بند کرنا ھوں گے۔ یہ عوام کا آئینی و جمہوری حق ھے۔ کہ وہ اپنے حکمرانوں کو خود منتخب کریں اور کوئی ادارہ ان کے منتخب کردہ وزیراعظم کو گھر نہ بھجوا سکے۔ اس ملک میں ایک یہ بھی مضحکہ خیز دلیل دی جاتی رھی ھے۔ کہ ایک وزیراعظم کی چھٹی کروانے پر مٹھائیاں تقسیم کیں گئیں اور ایک شخص نے بھی سڑک پر نکل کر وزیراعظم کی برخاستگی پر احتجاج نہیں کیا۔ یا برخاست شدہ وزیراعظم کے ساتھ اظہار یکجہتی نہیں کیا۔ نواز شریف کا جی ٹی روڈ پر سفر اس متھ کو بھی ختم کر دے گا۔ چار سال سے نواز شریف کے خلاف انتہائی شدید منفی پروپیگنڈہ کیا جا رھا تھا۔ انہیں چور ، ڈاکو اور کرپٹ پینٹ کیا جا رھا تھا ۔ پاکستان کا میڈیا اور عمران خان اس منفی پروپیگنڈے میں سب سے آگے آگے تھے۔ اور جب مخصوص قوتوں نے سوچا۔ اب نواز شریف اپنی مقبولیت کھو چکے ھوں گے۔ انہیں نااھل قرار دلوا دیا گیا۔ مزید پریشر رکھنے کے لیے نیب میں ریفرنس بھی بھیج دیئے گئے۔

lashkar

اگر نواز شریف نے گمنامی کی زندگی اختیار نہ کی۔ تو انہیں خاندان سمیت جیل میں ڈال دیا جائے گا۔لیکن نواز شریف نے جس طرح دباؤ میں آ کر استعفے دینے سے انکار کر دیا تھا ۔ اسی طرح انہوں نے گمنامی کی زندگی اختیار کرنے سے انکار کر دیا۔ اور عوام میں آنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ ان کی طبعیت میں موجود وہ مزاحمت ھے۔ جس کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ ان سے خوفزدہ رھتی ھے۔ اور پاکستان کے عوام ان سے محبت کرتے ھیں ۔ اور وہ چاہتے ھیں ان کا رہنما ان کے حق حکمرانی کو لیڈ کرے۔ یوں نواز شریف کا یہ سفر پاکستان میں سول برتری کی جانب ایک سفر بھی بنتا جا رہا ہے ۔ اور ساتھ ھی اس بات کو بھی ثابت کرے گا۔ کہ باوجود تمام منفی پروپیگنڈے کے نواز شریف کی سیاسی مقبولیت نہ صرف قائم ھے۔ بلکہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اس میں مزید اضافہ ھوا ھے۔ اور اگلے الیکشن تک یہ اضافہ ھوتا چلا جائے گا۔ اس لیے کہ یہ سفر لاہور میں اختتام پذیر نہیں ھونا۔ کچھ کچھ وقفوں کے بعد یہ سفر جاری رھیں گے۔ چناچہ لاہور سے فیصل آباد، لاہور سے ملتان ، ملتان سے ڈیرہ غازی خان، اسلام آباد سے پشاور اور اس کے بعد بلوچستان اور سندھ کی باری آے گی۔ گویا آنے والے الیکشن تک یہ کارواں چلتے رھیں گے۔ اور ٹی وی چینلز پر نواز شریف کا قبضہ رھے گا۔ یہ ایک بہت بڑی سیاسی موبیلائزیشن ھو گی۔ عوامی بیداری کی تحریک جس کا ایک ھی نعرہ ھو گا۔ حکمرانی پر صرف عوام کا اختیار ھے۔ اور پاکستان کے ھر شخص کو یہ بتانا ھو گا۔ وہ تاریخ کے اس موڑ پر کس سائیڈ پر کھڑے ھیں۔ عمران خان اپنا کردار ادا کرکے فارغ ھو چکے۔ ان کے پاس اب کوئی نعرہ نہیں بچا۔ کے پی کے میں بتانے کو کچھ نہیں ۔ وہ اپنی ذات پر لگے بد کرداری کے الزامات کی دھول میں گم ھوتے جائیں گے۔ جبکہ پاکستان کی موجودہ تاریخ یہ عجیب منظر بھی دیکھے گی۔ کہ پاکستان پر حکومت بھی ن لیگ اور نواز شریف کی ھو گی۔ اور اپوزیشن کا کردار بھی نواز شریف ادا کر رہے ھوں گے۔ جن قوتوں نے نواز شریف کو سیاست سے منفی کرنے کا سکرپٹ لکھا تھا۔ یہ سب کچھ اس کے برخلاف ھو گا۔ یہ ایک نئی تاریخ ھو گی۔ جو پاکستان کے لوگ رقم کر رھے ھوں گے۔ اور ایک دوسری تاریخ پارلیمنٹ میں آئینی و قانونی اصلاحات اور ترمیمات کی شکل میں لکھی جائے گی۔ اور تمام اداروں سے وہ ناجائز قبضے چھڑوانے جائیں گے۔ جو انہوں نے ستر سال سے قائم کر رکھے ھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *