’’دیکھو یہ مرے خواب تھے‘ دیکھو یہ مرے زخم ہیں‘‘

rauf tahir

لاہور روانگی سے ایک روز قبل‘ منگل کی سہ پہر پنجاب ہائوس اسلام آباد کی اُس ملاقات میں سابق وزیر اعظم ہمیشہ کی طرح پُراعتماد اور پُرعزم تھے۔ چند روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ اب وہ ''نظریاتی آدمی‘‘ ہیں۔ ایک ٹاک شو میں میزبان نے اسی حوالے سے استفسار کیا‘ میاں صاحب نے ''نظریاتی آدمی‘‘ ہونے کا اعلان کیا ہے‘ تو آپ کے خیال میں وہ نظریہ کیا ہے؟ ہمارا جواب تھا: اس کی وضاحت تو خود میاں صاحب ہی کر سکتے ہیں لیکن ہمارے خیال میں ان کا نظریہ یہی ہے کہ ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں کام کریں۔ یہ آئین پاکستان کا تقاضا بھی ہے جس کے تحفظ اور جس پر عملدرآمد کا حلف اٹھا کر وزیر اعظم پاکستان اور ان کی کابینہ‘ اعلیٰ عدلیہ کے سربراہان اور ان کے برادر جج اور عسکری اداروں کی قیادت اپنی ذمہ داریاں سنبھالتی ہے۔ ہمارے موجودہ آرمی چیف نے یہ منصب سنبھالا تو ان سے برسوں کی قربت رکھنے والوں نے لکھا کہ جنرل صاحب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے اکثر و بیشتر مسائل کا بنیادی سبب اداروں کا اپنی اپنی آئینی حدود سے تجاوز ہے۔ جنرل صاحب کی یہ سوچ ان کی اولاد کو بھی منتقل ہوئی۔ کچھ عرصہ قبل ایک محفل میں وہ اپنے صاحبزادے کا حوالہ دے رہے تھے۔ اپنے شفیق باپ سے اس کا کہنا تھا: آپ کا پہلا فیصلہ ''پاپولر‘‘ لیکن غلط تھا اور دوسرا فیصلہ ان پاپولر لیکن درست تھا۔ پہلے فیصلے سے صاحبزادے کی مراد 29 اپریل کی "Rejected" والی ٹویٹ تھی‘{ اور دوسرے فیصلے سے اس کا مطلب 10 مئی والی ٹویٹ تھی۔ یہ گزشتہ ٹویٹ کی تلافی تھی جس میں وزیر اعظم کے چیف ایگزیکٹو ہونے کی آئینی حیثیت کا اقرار کرتے ہوئے ان کی اطاعت کو فرض قرار دیا گیا تھا اور یہ واشگاف اعلان بھی کہ پاک فوج آئین و جمہوری عمل کی حامی ہے۔
''ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں کام کریں‘‘ ہمارے خیال میں اس حوالے سے وزیر اعظم کا موقف اور اس پر اصرار نیا نہیں۔ یہ مسئلہ تو ان کی پہلی وزارتِ عظمیٰ کی ابتدا ہی میں پیدا ہو گیا تھا‘ جب خلیج کے بحران میں آرمی چیف جنرل اسلم بیگ صدر صدام کے کویت پر قبضے کی حمایت کر رہے تھے۔ جنرل بیگ کا یہ موقف قوموں کی خود مختاری کے عالمی اصول کے علاوہ پاکستان کے قومی مفادات کے بھی منافی تھا۔ ایک منتخب حکومت کی موجودگی میں جنرل کو ویسے بھی اس طرح کی پالیسی سٹیٹمنٹ جاری کرنے کا کوئی اختیار نہ تھا۔ وزیر اعظم کو ابھی اپنی منصبی ذمہ داریاں سنبھالے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے تھے لیکن انہیں پاکستان کے قومی مفادات اور اداروں کی آئینی حدود کا بخوبی احساس تھا۔ وہ سیدھے ایوانِ صدر پہنچے (تب آٹھویں ترمیم کے تحت سروسز چیفس کا تقرر صدر کا صوابدیدی اختیار تھا) اور صدر غلام اسحاق خان سے کہا کہ وہ آرمی چیف کو اس قسم کی بیان بازی سے منع کریں۔ انہوں نے جنابِ صدر کو ادب و احترام کے ساتھ یہ بات بھی کہہ دی کہ میں یہاں نوکری کرنے نہیں آیا‘ عوام نے مجھے حکومت کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ جنرل صاحب نے چپ سادھ لی لیکن کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم کے متعلق ان کے دل میں یہ گانٹھ خاصے عرصے تک موجود رہی۔ جنرل بیگ کا شمار پاکستان کے دانشور جرنیلوں میں ہوتا ہے۔ اپنی سیاسی جماعت ''قومی قیادت پارٹی‘‘ بنانے سے قبل انہوں نے ''فرینڈز‘‘ کے نام سے ایک تھنک ٹینک بھی بنایا تھا۔ ہمیں یاد پڑتا ہے‘ جناب ایس ایم ظفر‘ سید مشاہد حسین اور ہمارے عطاالرحمن صاحب جیسے بھاری بھرکم اصحابِ دانش ''فرینڈز‘‘ میں شامل تھے۔
جنرل بیگ اپنے دورِ طالب علمی میں (یہ تحریک پاکستان کے دنوں کی بات ہے) مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں سرگرم رہے۔ کہتے ہیں‘ ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹ آتی ہے‘ عربی کا مقولہ ہے‘ کل شیء یرجع الی اصلہ... جنرل صاحب بھی اپنی اصل کی طرف لوٹ آئے۔ اب وہ پاکستان میں آئین کی (اور صرف آئین کی) بالادستی کے پُرزور اور پُرجوش حامی ہیں۔ ڈکٹیٹر مشرف کے ایک حالیہ انٹرویو پر‘ جس میں موصوف نے ڈکٹیٹرشپ کے فوائد (اور حسبِ ضرورت آئین سے انحراف کے جواز) کی بات کی‘ جنرل بیگ نے کیا مدلل جواب دیا۔
ہمارے خیال میں تو آئین کی اور صرف آئین کی بالادستی ہی نواز شریف کا نظریہ ہے۔ وہ اپنی تیسری معزولی کو بھی اسی کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ عوام کے مینڈیٹ کے تقدس اور اسی کے مطابق حقِ حکمرانی ہی وہ بنیادی آئینی تقاضا ہے‘ جسے یقینی بنانے کے لئے وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر گرینڈ ڈائیلاگ کی بات کر رہے ہیں۔
پنجاب ہائوس اسلام آباد کی اُس ملاقات میں معزول وزیر اعظم بہت سی باتیں کہہ گئے‘ اس انداز میں کہ کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے۔ بعض دوستوں کا اصرار تھا کہ آپ نام کیوں نہیں لیتے؟ کھل کر بات کیوں نہیں کرتے؟ میاں صاحب مسکرا کر طرح دے گئے۔ عطاء الرحمن صاحب کہہ رہے تھے‘ آپ نہ بھی کہیں‘ لیکن خلق خدا تو بہت کچھ‘ سب کچھ کہہ رہی ہے۔ ہم نے اس روز کے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے کارٹون کا ذکر کیا تو میاں صاحب کا کہنا تھا کہ وہ یہ کارٹون دیکھ چکے ہیں اور دنیا بھر کے میڈیا میں جو کچھ آ رہا ہے وہ بھی ان کے علم میں ہے۔
اسلام آباد میں ہر ''باخبر‘‘ کے پاس اپنی اپنی خبر تھی۔ ایک افواہ مستقبل قریب میں ٹیکنوکریٹ گورنمنٹ کے حوالے سے تھی۔ میاں صاحب سے عرض کیا گیا: آپ کی یقیناً یہ خواہش ہو گی اور اولین ترجیح بھی کہ موجودہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت (4 جون تک) پوری کریں۔ اس دوران آپ کے ادھورے منصوبے مکمل ہو جائیں۔ سسٹم بھی ڈی ریل نہ ہو۔ 5 جون کے بعد نگران حکومت عام انتخابات کرائے اور نومنتخب نمائندوں کو انتقالِ اقتدار کے ساتھ رخصت ہو جائے۔ لیکن آپ کا جی ٹی روڈ شو دور دور تک خطرے کی گھنٹیاں تو نہیں بجا دے گا؟ میاں صاحب نے الٹا سوال کر دیا: اس میں خطرے والی کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا‘ گھر چلے جائو‘ اب میں گھر جا رہا ہوں‘ راستے میں عوام اپنے نااہل وزیر اعظم کا خیرمقدم کرنا چاہتے ہیں تو اسے کوئی خطرے کے طور پر کیوں لے؟ لیکن جناب! جن طاقتوروں نے آپ کو گھر بھجوایا ہے اور بعض حلقوں کے مطابق ''تاحیات‘‘ بھجوا دیا ہے‘ انہیں آئندہ انتخابات میں آپ کی جماعت کی ''واپسی‘‘ ٹھنڈے پیٹوں گوارا ہو گی؟ ان کی خواہش اور کوشش تو ایک ایسی پارلیمنٹ اور ایسی حکومت کے لئے ہو گی‘ جو اپنی اوقات میں رہے‘ Behave کرے اور شریفانہ Behave کرے۔ میاں صاحب کی رگِ ظرافت پھڑکی‘ ان کی بزلہ سنجی عود کر آئی‘ ہنستے ہوئے کہا: تو کیا ہماری حکومت ''بدمعاشانہ‘‘ تھی؟
نوابزادہ صاحب سے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا پوچھا جاتا تو ان کا جواب ہوتا‘ یہ کوئی سرکاری جاب نہیں‘ یہ تو ہول ٹائم جاب ہے۔ ایک نظریاتی سیاسی کارکن اپنی آخری سانس تک اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے سرگرم رہتا ہے۔ فیض یاد آئے ؎
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم
میاں صاحب کہہ رہے تھے ''میں نے تیسری بار وزارت عظمیٰ دیکھ لی‘ اب قانون کے تحت اپنی جماعت کی صدارت کے (رسمی) منصب سے بھی فارغ ہو چکا‘ لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں سیاست سے بھی ریٹائر ہو گیا۔ تب نااہل وزیر اعظم کی آنکھوں میں عزم کی لازوال چمک لہرائی۔ وہ چاہتے تو اچھے بچوں کی طرح Behave کرکے اپنی پرائم منسٹرشپ کے ادوار مکمل کر لیتے‘ لیکن خود ان کے اپنے الفاظ میں یہ تو ''نوکری‘‘ ہوتی۔ یہی بات انہوں نے 2005ء کے اوائل میں محترمہ بے نظیر بھٹو سے بھی کہی تھی‘ جب وہ آصف علی زرداری کی رہائی کے بعد‘ میاں صاحب سے ملاقات کے لئے سرور پیلس جدہ تشریف لائی تھیں۔ (میثاق جمہوریت کے آئیڈیا نے بھی یہیں جنم لیا تھا) ڈکٹیٹر سے مفاہمت کی بات پر میاں صاحب کا کہنا تھا‘ یہ تو عصر کے وقت روزہ توڑنے والی بات ہو گی۔ آئین کی بالادستی اور عوام کے مینڈیٹ کے احترام کا پرچم لے کر وہ ایک بار پھر اپنے عوام کے درمیان ہیں۔ فراز نے کہا تھا ؎
دیکھو یہ مرے خواب تھے‘ دیکھو یہ مرے زخم ہیں
میں نے سبھی حساب جاں برسر عام رکھ دیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *