سینیٹ۔تین سوال

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

 تین سوالات درپیش ہیں۔ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریدنگ کا غلغلہ کیوں بلند ہوتا ہے ‘ کیا سینیٹ کے ممبران براہ راست منتخب ہونے چاہئیں اور کیا سینیٹ کا انتخاب لڑنے کے لئے ضروری ہے کہ امیدوار اسی صوبے کا رہائشی ہو جہاں سے اسے ٹکٹ دیا جا رہا ہے ؟
سینیٹ کے کل ممبران کی تعداد 104ہے ‘ جس میں ہر صوبے کے حصے میں 23نشستیں ہیں جن میں 14جنرل نشستیں ‘ 4ٹیکنوکریٹ /علما ‘ 4خواتین جبکہ ایک ایک نشست اقلیتوں کے لئے مخصوص ہے ۔فاٹا کی 8نشستیں ہیںجو تمام جنرل ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت کی 4نشستیں ہیں جن میں سے 2جنرل اور ایک ایک ٹیکنو کریٹ اور خاتون کے لئے مخصوص ہے ۔سینیٹ کے ممبران چھ سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں جن میں سے آدھے ممبران ہر تین برس کے بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں اور یوں سینیٹ کے انتخاب کا مرحلہ تین برس کے وقفے کے بعد پیش آتا ہے جس میں سینیٹ کی تقریباً نصف نشستیں پُر کی جاتی ہیں۔ آئین کی شق 226 کہتی ہے کہ ’’دستور کے تابع تمام انتخابات ماسوائے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہوں گے۔‘‘ یہ تبدیلی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے عمل میں لائی گئی‘ اس سے پہلے جنرل ضیاءالحق نے 10مارچ 1985 کے پی او نمبر3کے تحت ان دو عہدوں کا انتخاب بھی خفیہ بنا دیا تھا تاکہ سول حکومت کو کمزور کرکے اپنی بالا دستی قائم رکھی جائے ‘اس کا نتیجہ آنے والے کئی برسوں تک اندھا دھند بلیک میلنگ اور ہارس ٹریڈنگ کی صورت میں نکلتا رہا۔اس کے علاوہ باقی تمام عہدوں کے لئے انتخاب خفیہ ہوتا ہے اور سینیٹ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔
صوبوں میں انتخابی کالج صوبائی اسمبلی کے ممبران پر مشتمل ہے ‘ مثال کے طور پر پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تعداد 371ہے تو یہ ارکان پنجاب سے سینیٹرزمنتخب کریں گے ، فرض کریں کہ پنجاب سے سینیٹ کی سات نشستیں خالی ہیں تو یہ 371ارکان مل کر ان سات سینیٹ ممبران کو منتخب کریں گے مگر یہ اتنا سادہ عمل بھی نہیں ‘ اس میں اچھی خاصی ارتھمیٹک شامل ہے ۔ہوتا یوں ہے کہ ہر رکن اسمبلی کو سینیٹ کی ہر خالی نشست سے متعلق ایک بیلٹ پیپر دیا جاتا ہے جس میں اس نشست پر انتخاب لڑنے والے امیدواروں کے نام درج ہوتے ہیں ‘ رکن اسمبلی نے ترجیح کی ترتیب (order of preference) سے اپنی مرضی کے امیدوار پر نشان لگانا ہوتا ہے ‘ گویا اس کی پہلی ترجیح زید ہوگی ‘ دوسری بکر اور یوں وہ ہر امیدوار کو اپنے ایک ووٹ(single transferable vote) کے ذریعے رینک کر دے گا ‘ ہر رینکنگ کے نمبر ہیں ‘ یعنی جس امیدوار کو سب سے اوپر ترجیح دی جائے گی اس کے نمبر زیادہ ہوں گے بہ نسبت اس امیدوار کے جودوسرے نمبر پر ہوگا اور یوں یہ سلسلہ نیچے تک جائے گا اور سب کو نمبر تفویض کر دئیے جائیں گے‘سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والا سینیٹر منتخب ہو جائے گا۔ سیاسی جماعتیں سینیٹ کے انتخابات سے پہلے اپنے ارکان اسمبلی کو باقاعدہ یہ مشق کرواتی ہیں کہ انہوں نے کس امیدوار کو کس ترتیب میں ترجیحاًووٹ دینا ہے اور پھر ایک’’بوٹی ‘‘سی بنا کر ہر رکن اسمبلی کی جیب میں ڈال دی جاتی ہے جسے دیکھ کر وہ اپنا ووٹ کاسٹ کر دیتا ہے تاکہ حساب کتاب کی کسی غلطی کی وجہ سے کوئی ووٹ ضائع نہ ہو جائے ۔
جن اسمبلیوں کے ارکان کی تعداد زیادہ ہے ‘جیسے کہ پنجاب یا سندھ‘ وہاں ہارس ٹریڈنگ کا امکان کم ہوتا ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں ارکان کو خریدنا ممکن نہیں ‘ یوں بھی اگر چند ارکان کا گروپ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کی نشاندہی ہوجاتی ہے ۔اسی طرح اسلام آباد میں بھی ہارس ٹریدنگ کا امکان نہیں کیونکہ اسلام آباد کے سینیٹرز کے لئے پورے 342ارکان کی قومی اسمبلی الیکٹورل کالج ہے ‘یوںان تمام ارکان کو خریدنا ممکن نہیں ۔سب سے زیادہ مسئلہ فاٹا اور چھوٹے صوبوں کا ہے ‘ خصوصاً فاٹا جہاں سے منتخب ہونے والے ہر ایم این اے کے اتنے ہی ووٹ ہیں جتنی سینیٹ کی نشستیں خالی ہیں ‘ یعنی اگر اس وقت فاٹا سے سینیٹ کی چار نشستیں خالی ہیں تو گیارہ میں سے چھ ایم این اے مل کر ان چار نشستوں پر جسے چاہیں منتخب کرلیں ‘ اب سوچیں کہ جس نے فاٹا سے سینیٹر منتخب ہونا ہے اس نے صرف چھ ایم این ایز کو ’’راضی ‘‘ کرنا ہے ‘ بڑے صوبوں یا وفاقی دارالحکومت میں یہ ’’عیاشی‘‘ کہاں!
اس ساری بیماری کا ایک حل یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ امریکہ کی طرح یہاں بھی سینیٹ کا انتخاب بھی براہ راست ہونا چاہئے تاکہ عوام کی صحیح نمائندگی ہو سکے ۔مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ میں صرف سینیٹرز ہی نہیں بلکہ جج ‘ پراسیکیوٹر اور شیرف بھی منتخب ہوتے ہیں‘اور یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی امریکیوں نے اپنے آئین میں کچھ بنیادی باتیں طے کر رکھی ہیں جن کے بارے میں فی الحال ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔اسی طرح برطانیہ میں میگنا کارٹا 1215ء میں منظور کیا گیا جبکہ عورت کو ووٹ ڈالنے کا حق انہی انگریزوں نے سات سو سال بعد 1928ء میں دیا‘ہمیں جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں پارلیمانی جمہوریت کو اپنائے ہوئے او ر مثالیں ہمیں سوجھتی ہیں امریکہ برطانیہ کی۔براہ راست انتخاب کا دوسرا منفی پہلو یہ ہے کہ وہ ٹیکنو کریٹ اور نسبتاً پڑھے لکھے لوگ جو روایتی دھڑے بازی کی انتخابی سیاست کے ذریعے پارلیمنٹ میں نہیں آ سکتے ‘سینیٹ کے ذریعے عوام کی نمائندگی کر سکتے ہیں ‘ سینیٹ کا براہ راست انتخا ب پاکستانی عوام کو آٹے میں نمک کے برابر ان لوگوں سے بھی محروم کر دے گا جو کسی طور بھی مناسب نہیں۔
تیسرا سوال خاصا دلچسپ ہے کہ آیا کوئی امیدوار اس صوبے سے انتخا ب لڑ سکتا ہے جہاں کا وہ رہائشی نہ ہو اور انتخاب سے چند ماہ پہلے ہی اس نے اپنا ووٹ یا ڈومیسائل اس صوبے میں تبدیل کروایا ہو؟ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لئے امیدوار کا پاکستان میں ووٹ درج ہوتو وہ کہیں سے بھی انتخاب لڑ سکتا ہے جبکہ سینیٹ کے امیدوار کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ووٹ اس صوبے میں ہو جہاں سے وہ انتخاب لڑنا چاہتا ہے او ر وجہ اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ سینیٹ کے ذریعے آئین نے چھوٹے صوبوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا ہے چنانچہ اگر ایک صوبے کے شہری کو کسی دوسرے صوبے سے منتخب کروایا جائے تو یہ آئین کی روح کے خلاف ہوگا۔اس دلیل میں وزن ہے مگر دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ امیدوار سے زیادہ اہم صوبے کے ووٹر ہیں ‘یعنی سینیٹ کے کیس میں متعلقہ صوبائی ارکان اسمبلی اگر کسی شخص کو سینیٹر منتخب کر لیتے ہیں جو اصلاً ان کے صوبے کا رہائشی نہیں تھا تو یہ ان کی صوابدید ہے جس پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فروری 1973میں آئین بنانے والوں نے جو تقاریر کیں ان میں یہ واضح کیا گیا کہ سینیٹ میں سیاسی جماعتوں کو اسی تناسب سے نمائندگی دی جائے گی جس تناسب سے وہ قومی اسمبلی میں موجود ہیں گویا یہ اصول پیش نظر تھا کہ سینیٹ میں سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کی وہی شرح برقرار رہے جو انہیں ایوان زیریں میں حاصل ہے۔
میڈیا سینیٹ انتخابات میں ہونے والی بے قاعدگیوں کا حساب ضرور رکھے مگر ساتھ ہی اس بات کا خیال بھی رہے کہ اس لولی لنگڑی جمہوریت کو بدنام کرکے ہم کس نظام کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *