1987ء کی ایک یاد!

عطاء الحق قاسمیA_U_Qasmi_converted

امریکہ جانے سے پہلے میرے ذہن میں یہ خوشگوار تاثر تھا کہ ایک کانفرنس پورٹ لینڈ میں ہے اور دوسری لاس ویگاس میں ہے۔ باقی شہروں یعنی واشنگٹن، ڈینور، فنکیس اور لاس اینجلس میں تفریحی پروگرام ہوں گے، یا زیادہ سے زیادہ امریکی نظام تعلیم پر ہمیں دو چار لیکچر سنا دیئے جائیں گے، لیکن واشنگٹن کے ڈیلس ایئرپورٹ پر قدم رکھنے سے لے کر پروگرام کے اختتام تک امریکیوں نے ہمیں اتنا پڑھایا کہ علم کی بدہضمی کا خدشہ ہوگیا، خصوصاً ووکیشنل ایجوکیشن اور کمیونٹی کالجز کے ضمن میں امریکی اداروں کی کوششیں تو مجھے حفظ ہوگئی ہیں۔ امریکہ میں گزرے ہوئے پہلے چار ہفتوں کی حکایت اتنی دل خراش‘‘ ہے کہ کسی کو سنانے کی ہمت نہیں پڑتی، صبح سے لے کر شام تک ہم یا سفر کرتے تھے یا لیکچر سنتے تھے اور رات کو اپنے کمرے میں پہنچ کر تھک ہار کر سو جاتے تھے، چنانچہ یار دوست ایک آنکھ میچ کر کہتے ہیں یار کوئی امریکہ کی بات سنائو اور میں اس کے جواب میں اپنی دونوں آنکھیں میچ لیتا ہوں۔ اب آپ کو بور کرنے کا کیا فائدہ مگر صرف ایک دن کی روٹین سنتے جائیں اور پھر اس کو خود ہی تیس دنوں سے ضرب دے لیں رات کو سونے سے پہلے آپریٹر کو صبح چھ بجے ویک اپ کال کے لئے کہتے تھے، ٹھیک چھ بجے ٹیلی فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوتی تھی اور اتنی دیر تک بجتی رہتی تھی جتنی دیر تک میں بستر سے چھلانگ لگا کر ٹیلی فون کا ریسیور نہیں اٹھاتا تھا، پھر جلدی جلدی برش کرتا، شیوبناتا ، نہاتا، ہاٹ پاٹ میں کافی بناتا اور ڈبل روٹی پر جیلی لگا کر ناشتے کی صورت پیدا کرتا، بقیہ وقت کپڑے استری کرتا اور اس کے بعد دوڑا دوڑا نیچے لائونج میں پہنچتا، جہاں باقی مندوبین ایک ایک کر کے جمع ہونا شروع ہوتے تھے۔ امریکی حکومت کے دو ایسکارٹ مسٹر کینٹ اور مسز کیرولین ریور جہاں سے ہمیں باہر کھڑی لیموزین میں بٹھاتے، یہ لیموزین آدھ گھنٹے یا ایک گھنٹے کے سفر کے بعد کسی عمارت کے باہر جا کھڑی ہوتی، ہم اس عمارت کے کانفرنس روم میں داخل ہوتے جہاں بیس کرسیاں ایک بڑی میز کے گرد دھری ہوتیں، پہلے تعارف کا مرحلہ درپیش آتا۔
میرا نام مسز میری لوئی ہے، میرا تعلق برونڈی سے ہے، وہاں یونیورسٹی میں شعبہ انگلش کی سربراہ ہوں۔
میرا نام وکٹرمینوئل ہے۔ کولمبیا سے ہوں، یونیورسٹی کے ہیومن سائنس کے شعبے میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوں۔
میرا نام حسین ڈوناگل ہے، نکوسیا میں کیرئیر اینڈ ووکیشنل اسپشلسٹ ہوں۔
میرانام اینڈریس کیریانی ہے، میرا تعلق قبرص سے ہے اور وہاں سکینڈری اسکول میں ٹیچر کے علاوہ اسٹوڈنٹ کیرئیر کونسلر ہوں۔
میں جیری لوڈن ہوں، چیکوسلواکیہ سے تعلق ہے، پراگ میں انسٹی ٹیوٹ آف فلاسفی اینڈ سوشیالوجی سے وابستہ ہوں۔
میں پال ہائیڈی ہوں، ڈنمارک کا ہوں اور کوپن ہیگن کے ٹریننگ کالج کا ریکٹر ہوں۔
میرا نام فریڈرک بیڈن ہے، میرا تعلق گھانا سے ہے اور وہاں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن کا ڈائریکٹر ہوں۔
میرا نام اینڈرسن ہے، انڈین ہوں اور انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں ڈائریکٹر ہوں۔
میں مسز بیسٹن ہوں، ڈنمارک میں ڈائریکٹر ہوں۔
میں محمد حلال شاہ ہوں، اردن میرا ملک ہے اور ڈائریکٹریٹ آف کمیونٹی کالجز کا ڈائریکٹر ہوں۔
میرا نام احمد یوسف قلندر ہے، کویت سے ہوں اور ڈپارٹمنٹ آف میتھڈز رائینڈ ٹریننگ ٹیکنیک کا ڈائریکٹر ہوں۔
میں الفانسو ہوں، پیروکا رہنے والا ہوں اور ٹیکنیکل ٹریننگ کا منیجر ہوں۔
میرا نام مانا روس ہے، فلپائن کا ہوں، انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا وائس پریذیڈنٹ ہوں۔
میں ڈاکٹر عراقی ہوں۔ سوڈان کی اسلامی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ سے وابستہ ہوں۔
اس تعارفی مرحلے کے بعد کوئی خاتون ادارے کے بارے میں ڈھیر سار ےبروشر ہر ایک کے ہاتھ میں تھماتی، پھر متعلقہ سبجیکٹ کے دو تین ماہرین باری باری لیکچر دیتے، بعدازاں ان سے سوال جواب ہوتے، اس کے بعد ہمیں وہ ادارہ دکھایا جاتا، اتنے میں لنچ کا وقت ہوجاتا، کسی قریبی ریستوران میں مشینی انداز میں لنچ کرتے، لنچ کے بعد لیموزین ہمیں لے کر اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاتی پھر وہی کانفرنس روم، ایک بڑی میز کے گرد بیس کرسیاں، ایک کونے میں کافی اور چائے کی چینکیں، ڈھیر سارے بروشر، دو تین پکچر، سلائیڈوں اور کلوز سرکٹ ٹی وی کے ذریعے گفتگو کی تصریحات، ادارہ دکھایا جانا اور اس کے بعد لیموزین کا کسی تیسرے ادارے کی طرف رواں دواں ہونا..... اور اس سارے عرصے میں سگریٹ جیسی ’’نعمت‘‘ سے محرومی، اس کے لئے یہ خاکسار باتھ روم کا رخ کرتا کہ امریکہ کے بیشتر دفتروں اور اداروں میں سگریٹ نوشوں کے لئے گوشہ عافیت بس یہی ایک جگہ ہے، چھٹی کا دن سفر کے لئے مخصوص کردیا جاتا یعنی اس روز اگلے شہر کے لئے روانہ ہو جاتے، رات کو سامان کی پیکنگ کرتے، صبح یہ سامان ’’بقلم خود‘‘ اٹھا کر ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہو جاتے، بورڈنگ کارڈ کے لئے لائن میں کھڑے ہوتے۔
اسموکنگ، نان اسموکنگ؟
اسموکنگ!
ونڈو!
’’تھینک یو، دس از یور بورڈنگ کارڈ ...... گیٹ نمبر .....!‘‘
اور اس کے بعدقریباً آدھا فرلانگ کا فاصلہ طے کر کے متعلقہ گیٹ تک پہنچتے اور پھر فلائٹ انائونس ہونے پر جہاز کے آخری حصے میں واقع اپنی سیٹ پر جا بیٹھتے کہ سگریٹ نوشوں کے لئے جہاز کی دم والا حصہ مخصوص کیا گیا ہے۔
منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد پھر آدھ فرلانگ طے کر کے ائیرپورٹ کی عمارت سے باہر نکلتے، سامان وین میں رکھا جاتا، ہوٹل میں پہنچتے، اپنے روم میٹ کا انتخاب کرتے، کمرے کی چابی اور سامان لے کر کمرے میں پہنچتے اور تعمیل ارشاد میں آدھ گھنٹے بعد ہوٹل کی لابی میں واپس آجاتے، جہاں آنے والے دنوں کے پروگراموں کے متعلق بریفنگ کی جاتی، اور اس کے بعد اگلی صبح پھر وہی ساڑھے چھ بجے ویک اپ کال اور شام کو ہوٹل میں آکر ٹیلی فون پر لگی جلتی بجھتی بتی سے اندازہ لگانا کہ عدم موجودگی میں کسی دوست نے فون کیا تھا، آپریٹر سے پوچھنا کہ کس کا فون تھا اور پیغام وصول کر کے سو جانا یا جاگتے رہنا ..... تاہم اس روئداد سے یہ اندازہ نہ لگایا جائے کہ امریکہ میں ہمارے شب و روز صرف اسی طرح گزرے، یہ تو ہم نے صورت حال کا صرف ایک رخ پیش کیا ہے۔ ابھی تو میں نے اپنے دلچسپ ساتھیوں کے بارے میں بتانا ہے، اس بے پناہ علم افروز دور میں جو اچھی باتیں سیکھی ہیں اس کی تفصیل بتانی ہے، سرمایہ داری نظام کے روشن اور تاریک پہلو دکھانے ہیں، کمپیوٹر کے کمالات اور ان کے ہاتھوں انسان کے زوال کی داستان سنانی ہے، امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی کہانیاں بیان کرنی ہیں، مگر ان سب کہانیوں سے پہلے آپ کو اپنی ’’بپتا‘‘ سنانا ضروری تھی کہ آخر امریکہ سے لوٹے ہیں اور دنیا کی ہر چیز سے زیادہ اپنی ذات کی اولیت کے قائل ہو کر لوٹے ہیں چنانچہ پہلے ہماری سنئے،دوسروں کی بعد میں سنائیں گے۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *