نواز شریف اور بلاول بھٹو کی ریلیاں

usman ghazi
میاں نوازشریف کی جی ٹی روڈ ریلی کی مقصدیت اگر جمہوریت کی بالادستی ہے تو یہ قابل تعریف ہےمگر اس ریلی کی نوعیت اپنی جگہ ایک الگ موضوع ہے، تیکنکی طور پر یہ ریلی غیرمعمولی نہیں تھی،مجھے بلاول بھٹو کی لاہور سے فیصل آباد جی ٹی روڈ ریلی میں بطور صحافی شرکت کا موقع ملا اور میں نے میاں نوازشریف کی جی ٹی روڈ ریلی بھی بڑی باریک بینی سے دیکھی،میرے مشاہدات کافی مختلف ہیں-بلاول بھٹو کی ریلی فیصل آباد پہنچتے پہنچتے فلاپ ہوگئی اور میاں نوازشریف کی ریلی لاہور پہنچتے پہنچتے کامیاب ہوگئی-جب شاہدرہ سے بلاول بھٹو نکلا تو اس کے ساتھ چار پانچ ہزار لوگ تھے، جی ٹی روڈ کے اطراف کہیں ایسا مقام نہیں آیا جہاں لوگوں نے کھڑے ہوکر ویلکم نہ کیا ہو، مختلف پوائنٹس پر بلاول نے رک کر کارکنوں سے بات کی جو ایک چھوٹا سا جلسہ بنتا گیا،مگر اس ساری مہم جوئی کی پوزیٹو میڈیاکوریج نہیں تھی جبکہ میاں نوازشریف کو حیرت انگیز طور پر پوزیٹو میڈیا کوریج ملی، تنقید مخصوص حدوں تک ہوئیجیسے بلاول بھٹو کی سول اسپتال کراچی آمد پر ایک بچی بسمہ مرگئی تھی جس پہ میڈیا نے تین دن تک اسپیشل ٹرانسمیشن کیں جبکہ بسمہ کی ہلاکت کی وجہ براہ راست پروٹوکول نہیں تھا-
دوسری جانب حامد کی ہلاکت کی براہ راست وجہ میاں نوازشریف کا پروٹوکول تھا مگر تین گھنٹے بعد میڈیا کو یہ ایشو یاد نہیں رہا اور اگر یاد رہا تو وہ حد عبور نہیں کی جو بلاول بھٹو کے لئے یہ کہتے ہوئے کی گئی کہ بسمہ مرگئی مگر بھٹو زندہ ہے-بہرحال، فیصل آباد سے پہلے (غالباً) موچیانی یا بلوچانی کا کوئی ایریا آتا ہے، جس سے آگے جانے کے بعد سفر کرنے والوں کو ایک راستہ موٹروے اور دوسرا جی ٹی روڈ سے فیصل آباد جانے کے لئے اختیار کرنا ہوتا ہے-
بلاول بھٹو کی ریلی میں موچیانی کے قریب ایک عجیب صورت حال پیش آئی کہ ٹریکٹر ٹرالیاں سڑک کے عین درمیان کھڑی تھیں، جس کے بعد پوری ریلی کو چھوٹی چھوٹی گلیوں سے ہوکر واپس جی ٹی روڈ پر آنا پڑا جس سے گھنٹوں ٹریفک جام ہوا اور جی ٹی روڈ پہ آنے کے بعد ریلی کی زیادہ تر گاڑیاں موٹروے پر چڑھ گئیں،میں صحافی دوستوں کے ساتھ جس گاڑی میں تھا، ان کو بھی راستے کا علم نہیں تھا مگر ایک اچھے اتفاق کی وجہ سے ہم جی ٹی روڈ کا سفر کرتے ہوئے فیصل آباد پہنچے، فیصل آباد میں ہم 45 منٹ وہ مقام ڈھونڈتے رہے کہ جہاں بلاول بھٹو نے پہچنا تھا اور ہر بار پولیس اہل کار ہمیں غلط راستہ بتاتے رہے-ایک پولیس والے نے مجھے دوبار الگ الگ ڈائریکشن بتائیں اور تیسری بار وہاں گاڑی روک کر دوستوں کے ساتھ میں نے اس کی کافی کھنچائی کی، جس سڑک پر یہ بحث ہورہی تھی، وہ چنگچی رکشوں سے بند کی ہوئی تھی اور وہی راستہ بلاول کی ریلی کی جانب جارہا تھا-ہماری طرح بہت سے لوگ جگہ تلاش کررہے تھے، یہ مباحثہ دیکھ کر جمع ہوگئے اور چنگچی رکشوں کو کھینچ کر سڑک کے دوسری جانب پھینک دیا اور یوں ہم بلاول بھٹو کی ریلی میں پہچنے میں کامیاب ہوئے-جب وہاں پہنچے تو لائٹ گئی ہوئی تھی اور بمشکل تین ہزار کے قریب لوگ تھے، میں صبح سے رات تک ریلی کے ساتھ رہا تھا، مجھے بہت کم وہ چہرے نظر آئے جو ریلی میں مسلسل موجود رہے تھے-
دوسری جانب میاں صاحب کی ریلی کی فضا بنائی گئی، ابتدا میں میاں صاحب کی ریلی اتنی ناکام تھی کہ انہیں دیکھ کر ترس آرہا تھا مگر میڈیا پر مکمل ہائپ ملی اور ریلی نہیں بلکہ صرف گوجرانوالہ اور لاہور میں جلسے کی صورت میں لوگ جمع ہوئے جبکہ میاں صاحب کو ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن کا سامنا پیپلزپارٹی والوں کی جی ٹی روڈ ریلی کرتی رہی،پوری سرکاری مشینری اور میڈیا سپورٹ کے ساتھ مسلم لیگ نون نے اس نوعیت کی ریلی نکالی جبکہ دوسری جانب 20سال بعد کسی بھٹو نے جی ٹی روڈ پر ریلی کی جس کو حکومت اور شاید کچھ میڈیا کی سردمہری کا سامنا کرنا پڑا،میاں صاحب کی عوامی مقبولیت کیا واقعی سچ ہے، ان کی تیس سالہ سیاست کے بعد اب بھی یہ ایک سوالیہ نشان ہے!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *