تاریکی میں روشنی کی کرن اور پھر تاریکی

انتظار حسینIntizar

آج مارچ کے مہینہ کی ساتویں تاریخ ہے۔ صبح کا وقت ہے، تین چار اردو انگریزی کے اخبار جو میرے پاس آتے ہیں سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ کئی ایک کالم اور ایک دو اخباری رپورٹیں پڑھ کر میرے دل و دماغ میں ایسا انتشار پیدا ہوا کہ جمع متکلم کا صیغہ جو اس کالم سے مخصوص ہے بھول گیا ہوں۔ واحد متکلم کے استعمال سے اب مجھے مفر نظر نہیں آ رہا۔

ایک اردو اخبار کے ایک ہی صفحہ پر تین کالم ایسے چھپے ہوئے تھے کہ انھوں نے مجھے پکڑ لیا۔ کشور ناہید کا کالم، غازی صلاح الدین کا کالم، ایاز امیر کا کالم۔ اور ہاں اخبارات میں شایع ہونے والی ایک ظالم رپورٹ۔ عراق کے ایک قدیم شہر کی داعش کے ہاتھوں تباہی، ہوشیار، خبردار، دنیا کی قدیم تہذیبوں کے آثار خطے میں ہیں۔

کشور ناہید کا کالم، اس میں وہی ایک سوال اٹھایا گیا ہے جو اس وقت ملک کے ادبی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ یہ کہ یہ جو ہمارے یہاں لٹریچر فیسٹیول کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو بہت خوش آیند ہے اور ملک میں بنیاد پرستی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لہروں کو دیکھتے ہوئے ایک نیک فال ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ سارا زور انگریزی پر ہے اور مقامی زبانوں اور ان کے ادب کا حصہ آٹے میں نمک کی نسبت سے بھی کچھ کم ہی ہے۔ مگر لاہور لٹریچر فیسٹیول میں ہوا یہ کہ اردو کے سیشن دو ڈھائی۔ اور وہ بھی اس طرح کہ آرٹ کونسل میں جو ہال سب سے چھوٹا ہے وہ اردو سیشن کے لیے مختص کیا گیا۔ مگر ہوا یہ کہ عبداللہ حسین کے مداح اتنی کثیر تعداد میں جمع ہو گئے کہ ایک بڑے مجمع کو ہاں میں داخلہ ہی نہ مل سکا۔

مطلب یہ نکلا کہ جس زبان کی ادبی روایت کو ہم کم تر اور حقیر سمجھ رہے ہیں، بول بالا تو ہمارے معاشرے میں اس کا ہے اور اب ہمیں خیال آ رہا ہے کہ بیشک انگریزی گلوبل زبان کا درجہ رکھتی ہے اور بیشک ہمارے نئے ادب نے انگریزی ادب سے بہت استفادہ کیا ہے۔ ہمارا فکشن اور ہماری نئی شاعری اس کے ممنون احسان ہیں۔ لیجیے شاعری کا حوالہ آیا تو مجھے یاد آ رہا ہے کہ جب ہمارے یہاں تیسری چوتھی دہائی میں نئی شاعری کا چرچا ہوا تو ہمارے لیے فیض کا دریا سب سے بڑھ کر انگریزی شاعری بنی ہوئی تھی۔

ایذرا پاؤنڈ، ٹی ایس ایلیٹ اور ایلیٹ کی ایک نظم ویسٹ لینڈ تو اس پورے عہد کو لے اڑی تھی۔ مگر کتنا عبرت کا مقام ہے کہ اب انگریزوں کو اپنے فکشن پر بھروسہ کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی حوالے سے تیسری دنیا کے انگریزی لکھنے والوں کو انعامات دیے جا رہے ہیں اور اسی لیے ہمارے انگریزی لکھنے والے اس صنف میں رواں ہیں۔ ارے بھائی ادبی روایت کا سب سے مضبوط کھونٹا تو شاعری ہوا کرتی ہے۔ یہ کھونٹا اس وقت انگلستان میں بھی غالب ہے اور اس حساب سے ہماری نوزائیدہ انگریزی ادبی روایت میں بھی۔

اس پر تفصیل سے بحث پھر کبھی۔ اس وقت میں نے غازی صلاح الدین کا کالم پڑھ لیا ہے۔ وہ مجھے بے چین کر رہا ہے۔ وہ سندھ کے دیہی علاقوں کا دورہ کر کے آئے ہیں۔ وہاں انھوں نے لڑکیوں کے چند اسکول دیکھے۔ ان میں پڑھنے والی بچیوں کو دیکھا جو غریب گھرانوں کی بیٹیاں ہیں۔ ان کے ہاں انھیں تعلیم سے پیدا ہونے والا ایک نیا اعتماد نظر آیا اور اس زور پر انھیں اب پاکستان کی تاریک فضا میں روشنی کی ایک کرن نظر آنے لگی ہے۔

اس پر مجھے وہ المناک دن یاد آ رہے ہیں جب سوات میں جابجا لڑکیوں کے اسکول دھڑا دھڑ جل رہے تھے۔ ملالہ ابھی پردۂ اخفا میں تھی مگر ’ڈان‘ میں چھپنے والی ایک تصویر نے مجھ پر عجب اثر کیا۔ سوات میں اب امن قائم ہو چکا تھا۔ ایک ادھ جلے ادھ ڈھٹے اسکول کی ایک تصویر ڈان میں چھپی نظر آ رہی ہے۔ چند طالبات بغلوں میں بستے دبائے جلے بھنے در و دیوار کے بیچ بہت خوش نظر آ رہی ہیں۔ اس تصویر کا ذکر کرتے ہوئے میں نے اپنے مضمون میں سرسید سے پہلے سرسید کے بعد، جو دلی میں غالب انسٹیٹیوٹ کے جلسہ میں پڑھا گیا تو آخری سطریں یوں لکھیں۔

’’میں سوچ رہا ہوں کہ سرسید جیسا تو کوئی ہمارے بیچ نہیں ہے لیکن شاید علی گڑھ کی نسوانی تعلیمی تحریک ابھی ان طالبات کے روپ میں زندہ ہے۔ کیا عجب ہے کہ سوات کے دور دراز علاقہ کی انھیں طالبات کے بیچ سے ڈاکٹر رشید جہاں سے بڑھ کر کوئی رشید جہاں نمودار ہو جائے ؎

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

میں اس وقت غازی صلاح الدین کا کالم پڑھ کر کچھ اپنے اسی بیان میں کچھ کلی پھندنے ٹانکنے لگا تھا۔ مگر ہوا یہ کہ سوچا کہ ذرا ایاز امیر کا کالم بھی پڑھ لیا جائے۔ یہ کالم پڑھ کر تو میں حق دق رہ گیا۔ غازی صلاح الدین کا کالم پڑھ کر جو میرے اندر کھدبد ہوئی تھی وہ پس منظر میں چلی گئی ذہن کسی اور ہی طرف چل نکلا۔

میرے عزیز دوست خالد احمد بڑی شدومد سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ جو مدرسوں میں لڑکے اردو میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ اس تعلیم سے بہرہ ور ہوتے ہوئے تشدد کا سبق بھی پڑھ لیتے ہیں اور خودکش حملہ آور بن کر نمودار ہوتے ہیں۔ مگر جب لندن میں کچھ پاکستانی نژاد مسلمان نوجوانوں نے دہشت گردی کی ایک واردات کی تب میں نے اپنے کالم میں لکھا اور خالد احمد کو بتایا کہ یہ نوجوان اردو سے قعطاً نابلد ہیں۔ لندن ہی میں پلے بڑھے ہیں۔ وہاں کونسی درسگاہ میں اور کونسی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے جس کے اثر میں وہ اتنے منجھے ہوئے دہشت گرد بن کر نمودار ہوئے ہیں۔

پھر بھی میرا گمان تھا کہ آخر زبان کا بھی کچھ اثر ہوتا ہے۔ ہمارے انگریزی تعلیم میں رچے بسے نوجوان دقیانوسی تو بہرحال نہیں ہوتے۔ روشن خیالی کی روشنی کچھ نہ کچھ اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ایاز امیر کا یہ کالم پڑھ کر میں ورطۂ حیرت میں غرق ہو گیا۔ ایک انگریزی میں پیرے ہوئے دانشور نے داعش کی کارروئیوں کا کتنا مؤثر دفاع کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ بالفرض ان کے شہر چکوال پر داعش کا قبضہ ہو جائے تو میں سراسر خسارے میں ہوں گا۔‘‘ مگر بس اتنا یہ کہ ’’میں زیادہ سے زیادہ اپنی جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا‘‘ مگر پھر کیا ہو گا ’’دولت مند افراد کی ضبط شدہ جائیداد سے بے گھر افراد کو مفت رہائش فراہم کی جائے گی۔

پولیس کے ہر سپاہی کو مکان ملے گا۔ داعش کے کارکن منصف بن کر فیصلے کریں گے۔ میں یہ بات کہتے ہوئے عقل و خرد کو داغ مفارقت نہیں دے چکا ہوں۔ بلکہ پورے اپنے ہوش و حواس میں ہوں۔ عراق اور شام میں داعش کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایسا انتظام ہی دیکھنے میں آیا ہے‘‘ آگے چل کر کہتے ہیں ’’اس وقت اہم بات یہ ہے کہ اگر پاکستان پر کسی اور طاقت جیسا کہ داعش کا قبضہ ہو جائے تو پاکستان کے عام شہریوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ بات فراموش نہ کی جائے کہ اسلامی بنیاد پرستوں کے پاس نظریات موجود ہیں۔ آپ ان سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کے مقصد کی شدت اور نظریاتی پختگی سے انکار نہیں کرسکتے‘‘

میں یہ کچھ پڑھنے کے بعد ابھی سنبھل نہیں پایا تھا کہ یہ رپورٹ سامنے آ گئی کہ موصل کے جنوب میں جو ایک قدیم شہر تھا اور جو نمرود سے منسوب تھا اسے داعش نے تباہ کر دیا ہے۔ ایک مورخ کا بیان ہے۔ یہ ارتکاب جرم ہے عراق کے خلاف، شام کے خلاف اور پوری انسانیت کے خلاف۔ استدلال یہی کہ قدیم تہذیبوں کے آثار پوری انسانیت کا سرمایہ ہیں۔

شاید کچھ مسلمان یہ سن کر مطمئن ہو جائیں کہ آخر یہ شہر نمرود ہی سے تو منسوب تھا۔ مگر کل کلاں کو داعش والوں کا مصر پر تسلط ہو جائے اور وہ اہرام مصر کو مسمار کرنا شروع کر دیں تو کیا یہ سوچ کر ہم اور ہم سے بڑھ کر مصری مطمئن ہو سکتے ہیں کہ یہ تو فراعنہ کی تہذیب تھی۔ خس کم جہاں پاک۔ جب بامیان میں مہاتما بدھ کے مجسمے کو مسمار کیا گیا تو پوری دنیا میں احتجاج ہوا اور خدانخواستہ پاکستان میں گندھارا تہذیب کا علاقہ ایسی ہی زد میں آ جائے تو کیا ہم مذہب کی آڑ لے کر اس پر اطمینان کا اظہار کریں گے۔ مگر کیا معاملہ یہاں آ کر رک جائے گا۔ لاہور میں داتا صاحب پر بھی تو ایسی ہی یورش ہو چکی ہے۔ اس کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا۔ داعش کا طرز انصاف جس کا بڑا سہانا نقشہ ایاز امیر نے اپنے کالم میں ہماری تسکین کے لیے فراہم کیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *