فوجی آمریت بمقابلہ منتخب وزیراعظم 

tariq ahmed
پاکستان کے جس وزیراعظم نے پاکستان کے مفاد میں کام کیا۔ اس کا برا حال کیا گیا۔ اور عبرت کی مثال بنا دیا گیا۔ اور پاکستان کے جس فوجی آمر نے امریکی مفاد میں کام کیا۔ وہ دس دس سال حکومت کر گیا۔
1۔ وزیراعظم فیروز خان نون نے مسقط سے گوادر کی بندرگاہ حاصل کی۔ اسے چند ماہ میں نکال دیا گیا۔
2۔ جنرل ایوب خان کولڈ وار کا حصہ بنا۔ امریکہ کو روس کی فضائی جاسوسی کے لیے بڈھ بیر کا اڈا دیا۔ دس سال نکال گیا۔ بھارت سے جنگ ھار گیا۔
3۔ جاتے ھوے جنرل یحی کا تحفہ دے گیا۔ یحیی نے چین کے ساتھ امریکی رابطہ کروایا ۔ ساتویں امریکی بحری بیڑے کا انتظار کرتا رھا۔ سیاستدانوں سے اپنی مستقل صدارت کا سودا کرنے میں مصروف رھا۔ نتیجہ پاکستان ٹوٹ گیا۔ جس کے بیج جنرل ایوب کی طویل آمریت اور خارجہ و داخلہ  پالیسی  میں رکھے گئے۔
4۔ وزیراعظم بھٹو نے ایٹم بم کی حصولیت کا آغاز کیا۔ پہلا متفقہ آئین دیا۔ پھانسی لگا دیا گیا۔
5۔ جنرل ضیاء الحق نے امریکی مفاد میں پہلی افغان جنگ لڑی۔ گیارہ سال نکال گیا۔ پاکستان کو انتہاپسندی کا تحفہ دے گیا۔ سیاچن بھارت کو دے گیا۔
6۔ بے نظیر میزائل ٹیکنالوجیلائی ۔ قتل کر دی گئ۔
7۔ نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے ۔ معاشی ترقی کا آغاز کیا۔ جلاوطن کر دیا گیا ۔
7۔ جنرل مشرف نے امریکی مفاد میں دوسری افغان جنگ لڑی۔ نو سال نکال گیا۔ پاکستان کو خودکش حملوں کا تحفہ دے گیا۔ کارگل کی جنگ ھار گیا۔ لوڈشیڈنگ کا آغاز کیا۔
8۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں اٹھارہویں ترمیم پاس ھوئ ۔ صوبوں کو حقوق دیے گئے۔ مزاحمت کی۔ نکال دیا گیا۔
9۔ وزیراعظم نواز شریف نے امریکی رضامندی کے خلاف سی پیک کو عملی شکل دی۔ گوادر پر چین کو بٹھا دیا۔ روس کو گرم پانیوں تک راستہ دینے کا اعلان کیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا ممبر بنا۔ معاشی ترقی کا تیز ترین آغاز کیا۔ سعودی عرب کی خواہش کے خلاف یمن اور قطر کے معاملات میں غیر جانبدار رھنے کا اعلان کیا۔ افغانستان میں امریکی پلان کردہ تیسری افغان جنگ کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ نکال دیا گیا۔
بس اس میں سوچنے والوں کے لیے نشانیاں ھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *