ہم کیا سوچتے ہیں ؟

یاسر پیرزادہYasir Pirzada

’’تمام جدید سائنسی ایجادات کی بنیاد صدیوںپہلے مسلمانوں نے رکھی تھی …جتنا ٹیلنٹ پاکستانیوں میں ہے اتنا کسی میں نہیں …ہمیں بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ نہیں دینا چاہئے …مغربی دنیا کی عالم اسلام کے خلاف سازشوں کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان گروہ بندی اور تفرقہ بازی ہے …امریکہ نے 9/11کا حملہ خود اپنے ملک پر کروایا تاکہ اس کی آڑ میں مسلمان ممالک پر حملہ کرکے انہیں کمزو ر کیا جا سکے اور چین کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکا جا سکے …پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والا تشدد دراصل مسیحی مغرب کا مسلم ممالک پر حملوں کے ردعمل کا نتیجہ ہے … ہمارے کرکٹرز پر پابندی کا مقصد پاکستان کو ورلڈ کپ سے باہر کر نا ہے …مغربی ممالک ہمارے ہنر مند نوجوانوں کو غلام بنا کر اپنے ملک کی ترقی کے لئے استعمال کرتے ہیں …پاکستان جغرافیائی اعتبار سے آئیڈیل مقام پر واقع ہے …افغانستان نے گزشتہ ڈیڑھ سو برس میں تین عالمی طاقتوں کو شکست فاش دی …کسی معاشرے میں طلاق کی شرح کم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں خاندان کابندھن مضبوط ہے…‘‘
آئے دن جو بیانا ت ہماری نظر سے گزرتے ہیں ‘یہ ان کا ایک نمونہ ہے ‘ ممکن ہے ان میں سے کچھ درست ہوں کچھ غلط‘ مگر ہم شاذو نادر ہی اس جھنجھٹ میں پڑتے ہیں کہ ایسے بیانات کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ ان میں سے کون سا بیان حقائق پر مبنی ہے اور کون سا خواہش پر جو لوگ خود کو اس جھنجھٹ میں ڈال کر ہر بیان کو ادھیڑنے بیٹھ جاتے ہیں وہ عموماًایسی رائے قائم کرلیتے ہیں جو عوام کی پسندیدہ لائن سے مطابقت نہیں رکھتی ‘ ایسے لوگ تنقیدی شعور یا سوچ رکھتے ہیں جو فی زمانہ کم از کم پاکستان میں کافی نایاب جنس ہے ۔تنقیدی سوچ کے لئے ضروری ہے کہ سوچنے والے کا ذہن واضح ہو‘ اس میں کوئی ابہام نہ ہو‘ جب اس کے آگے کسی بھی قسم کا کوئی بیان آئے تو وہ من و عن تسلیم کرنے سے پہلے سوچے کہ آخر اس سے کیا مراد ہے ۔مثلاً پورے ملک میںیکساں نصاب تعلیم ہونا چاہئے ۔اب اگر آپ تنقیدی سوچ رکھتے ہیںتو آپ کا سوال ہونا چاہئے کہ اس سے کیا مراد ہے ‘ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انگریزی تعلیم دینے والے اشرافیہ کے اسکول بند کر دئیے جائیں اور ان کے بچوں کو پابند کر دیا جائے کہ وہ سرکاری اسکولوں میں عام بچوں کے ساتھ پڑھیں ‘ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بھی وہی نصاب پڑھایا جائے جو ایلیٹ سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے ‘ یا اس کا مطلب ہے کہ ژوب سے لے کر مالا کنڈ تک تمام بچوں کے لئے پہلی سے دسویں جماعت تک ایک ہی کتب ہوں ؟گویا پہلے اپنے ذہن کو واضح کریں کہ کسی بیان کا آخر مطلب کیا ہے۔ دوسرا پیمانہ ہے کسی بھی بیان کی درستگی ‘ مثلاً بھارت کا جنگی بجٹ پاکستان سے دس گنا ززیادہ ہے ‘ یہ بیان واضح ضرور ہے مگر اس میں مکمل درستگی نہیں کیونکہ ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ بھارت کا جنگی بجٹ حقیقت میں کتنا ہے!تیسری بات کسی بیان میں یہ دیکھی جائے کہ وہ زیر بحث موضوع سے کس قدر متعلق ہے ‘ مثلاً پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اس لئے اب ملک کی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں ‘بظاہر یہ بیان واضح بھی ہے اور درست بھی مگر غیر متعلق کیونکہ ملکی سالمیت صرف ایٹم بم بنا لینے پر منحصر نہیں ۔چوتھا پیمانہ گہرائی ہے ‘ کوئی بھی بیان واضح‘ درست اور متعلق ہو سکتا ہے مگر ساتھ ہی ضروری ہے کہ اس میں سوال کا گہرائی سے جواب موجود ہو ‘ مثلاً اکثر سننے کو ملتا ہے کہ منشیات سے انکارکریں‘ یہ بات واضح ‘ درست اور متعلق ہے ‘مگر صرف اتنا کہہ دینا کافی نہیں ‘ منشیات کا استعمال ایک گمبھیر مسئلہ ہے اسے فقط ایک جملے میں سمو کر حل نہیں کیا جا سکتا ‘ اس کا گہرائی میں جواب دینا ضروری ہے۔ پانچویں بات‘ دوسری طرف کا نقطہ نظر سننا ‘ کسی بھی دلیل کو جانچنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو مخالف کی جگہ رکھ کر سوچیں اس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ درست ‘ واضح ‘متعلق اور گہرا بیان بھی بعض اوقات مکمل تصویر نہیں دکھاتا‘ مثلاًہمارے ملک میں اقلیتوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آئین کی شق 20ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے ‘اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق دیتی ہے ۔اب اگر آپ خود کو کسی اقلیتی فرقے یا مذہبی گروہ کی جگہ رکھ کر دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ یہ’’ آئینی دلیل‘‘ آپ کے تحفظ کے لئے کس قدر ناکافی ہے ۔
سوچنے کا یہ طریقہ کار کچھ مشکل نہیں مگر اس کے باوجود اکثریت اس پر عمل نہیں کرتی ‘ ہم محفلوں میں گرما گرم بحث کے دوران جملے بازی کرتے ہیں‘ تقاریب میں مقبول عام فقرے بول کر تالیوں کی شکل میں داد صو ل کرتے ہیں ‘ کالموں میں نفرت بیچ کر شہرت سمیٹتے ہیں اور ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیںکیونکہ تنقیدی سوچ کی ہمیں عادت ہے نہ ہماری تربیت ۔اس کی مختلف وجوہات ہیں ‘ مثلاً زیادہ تر معاملات میں ہمیں متعلقہ شعبے کی جانکاری نہیں ہوتی مگر اس کے باوجود ہم خود کو اس بات کا اہل سمجھتے ہیں کہ اس پر دو ٹوک موقف دیں‘گویا خود کو سقراط کے بعد انسانی تاریخ میں پیدا ہونے والا واحد دانشور سمجھتے ہیں‘مطالعے کی ہمیں عادت نہیں ‘دوسروں کی رائے کو ہم اہمیت نہیں دیتے ‘اس کے علاوہ پیدائش سے ہی ہمارے ذہنوں میں کچھ تعصبات پرورش پاتے ہیں جن سے ہم تمام عمر جان نہیں چھڑا پاتے۔ انا پرستی بھی تنقیدی سوچ کی راہ میں حائل ہوتی ہے ‘ آخر ہم یہ کیسے مان لیں کہ ہمارا موقف غلط تھا!ایک بڑی رکاوٹ یہ بھی ہے کہ جسے تمام لوگ سچ مانتے ہیں آخر وہ غلط کیسے ہو سکتی ہے ‘پہلی جماعت سے ایم اے تک پڑھانے والے استاد کی بتائی ہوئی باتوں کو سوچ کے اس پیمانے پر پرکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے !
ہماری خواہشات بھی اس تنقید ی سوچ کو پروان نہیں چڑھنے دیتیں‘ مثلاً ہماری خواہش ہے کہ ہم دنیا پر راج کریں ‘ دنیا ہمیں سب سے ذہین و فطین قوم تسلیم کرے ‘ دنیا یہ کہے کہ صرف ہماری تہذیب ‘ثقافت اور تاریخ ہی اعلیٰ ہے باقی سب کمترین ‘ جب دنیا یہ سب نہیں کہتی تو پھر ہم عذر خواہ(apologists) بن جاتے ہیں ‘ ہمیں دنیا کا ہر ملک اپنے خلاف سازش کرتا نظر آتا ہے اورہماری سوچ بند ہو جاتی ہے‘مثلاًہمارے تین کرکٹرز پر یہ الزام ثابت ہو ا کہ انہوں نے جوا کھیلا مگر ہم انہی کرکٹرز کو ٹی وی پر اسٹار بنا کر پیش کرتے ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں دنیا ہم سے حاسد ہے ‘ اگر ہمارے ’’بچوں‘‘ نے نا سمجھی دکھائی تھی تو سرزنش کافی تھی ‘ عمر بھر کی پابندی گوروں کے تعصب کا ثبوت ہے !اس سوچ میں ایک رکاوٹ یادداشت بھی ہے ‘ ہمیں صرف وہ باتیں یاد رہتی ہیں جو ہمارے موقف کے حق میں جاتی ہوں ‘ باقی ہم ذہن سے صاف کر دیتے ہیں ‘ مثلاً گزشتہ برس منتخب حکومت کے جانے کی تاریخیں دینے والوں کو اب یاد ہی نہیں کہ کیسی کیسی دلیلیں انہوں نے تراشی تھیں ‘ نہ ان کی انا پرستی کو یہ گوارا ہے کہ قوم سے معافی ہی مانگ لیں کہ ان کا تجزیہ غلط تھا!اور تنقیدی سوچ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تبدیلی کا خوف ہے ‘ اگر ہم یہ مان لیں کہ جن ’’سچائیوں‘‘ کو ہم اب تک سچ سمجھتے رہے وہ سچ نہیں بلکہ فقط ڈھکوسلہ تھا تو ہمیں تبدیل ہونا پڑے گا اور پھر یہ تبدیلی فقط اپنی ذات تک ہی نہیں بلکہ خاندان کے دوسرے افراد کی سوچ میں بھی ہوگی‘پس یہی خوف ہمیں اپنی ذات سے بھی دھوکہ دینے پر مجبور کر دیتا ہے ‘ ہمارا دماغ بند ہو جاتا ہے او ر ہم کسی بھی قسم کی دلیل کو ماننے سے گریز کرتے ہیں۔ کسی انسان کی ذات کی حد تک یہ بند سوچ تو شاید اس انسان کا ہی نقصان کرتی ہے مگر جب پوری قوم کا دماغ ہی بند ہو جائے تو پھر اس قوم کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو ہمارے ساتھ ہو رہاہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *