ایک خوش آئند ہفتہ

نجم سیٹھیNajam Sethi

یہ ہفتہ بہت اچھا گزرا ہے۔ سینیٹ نے متفقہ طور پر نئے چیئرمین کا انتخاب کرلیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسداد ِ دہشت گردی کی عدالت سے ممتاز قادری ، جس نے سابق گورنر پنجاب ، سلمان تاثیر کو قتل کردیا تھا، کو ملنے والی سزائے موت کو برقرار رکھا۔ رینجرز نے کراچی میں ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر، نائن زیرو پر چھاپہ مارکر بہت سے مطلوبہ افراد اور دہشت گردوں کو گرفتار کیا اور بھاری مقدار میں غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا۔ ان میں ہر ایکشن اپنی جگہ اہم اور دلچسپ نتائج کا حامل ہے۔
پی پی پی کے نامزد کردہ رہنما کا چیئرمین سینیٹ بننے کا دارومدارنمبر گیم پر تھا۔ چنانچہ ایم کیو ایم، اے این پی ، جے یو آئی اور بی این پی کی اپنی اہمیت تھی۔ ان سب میں سے ایم کیو ایم کا ووٹ فیصلہ کن عامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر ِ اعظم نواز شریف نے ایم کیو ایم کو رام کرنے کی آخری وقت تک کوشش کی ۔ وزیر ِ اعلیٰ پنجاب، شہباز شریف نے لند ن میں الطاف حسین کو فون کرتے ہوئے پندرہ سال کی دوریاں پندرہ منٹ میں ختم کرنے کی کوشش کی۔ شریف برادران کی بے تابی کا یہ عالم تھا کہ اُنھوں نے ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی حالانکہ ایم کیو ایم پی پی پی کے ساتھ سندھ حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کر چکی تھی اور اس عمل کے لیے صرف سینیٹ کے انتخابات کا ہی انتظار کررہی تھی تاکہ وہ کراچی میں اپنے اختیار کے لیے بہترین ڈیل کرسکے۔ ایم کیو ایم کے پاس رینجرز کے بے لچک آپریشن سے بچنے کا اس کے سوا اور کوئی آپشن نہیں کہ وہ پی پی پی کا ہاتھ پکڑلے۔ تاہم معاملہ یہ ہے کہ رینجرز کو جی ایچ کیو اور وفاقی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے اوروہ کراچی کو خوف، خاص طور پر ایم کیو ایم کے شدت پسند عناصر ، سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
تاہم رضا ربانی کی نامزدگی نے پی ایم ایل (ن)کو چونکا دیا کیونکہ مسٹر ربانی پی پی پی کی صفوں میں جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے اُنہیں اس عہدے کے لیے دو مرتبہ نظر انداز کیا جادہشتچکا تھا۔ ایک مرتبہ آصف زرداری نے فاروق ایچ نائیک پر اور دوسری مرتبہ نیئر بخاری پر اعتماد کیا۔ تاہم مسٹر ربانی پر پی ایم ایل (ن) کو بھی بہت اعتماد تھا۔ ان کے کریڈٹ پر کئی ایک ایسی آئینی ترامیم بھی تھیں جن کی تجویز حکمران جماعت کی طرف سے آئی تھی۔ اس طرح زرداری صاحب نے بہت مہارت سے ایک تیر سے دوشکار کرلیے۔ اُنھوں نے پارٹی میںپائی جانے والی بے چینی بھی دور کردی اور نواز شریف کو دفاعی قدموںپر لا کھڑ ا کیا۔ مسٹر ربانی کی ساکھ بتاتی ہے کہ اس عہدے پر نہ تو پی پی پی اور نہ ہی پی ایم ایل (ن) کی خواہشات کو ملحوظ ِخاطر رکھیں گے۔ چنانچہ ان کا چیئرمین بننا جمہوریت کے حق میں خوش آئند قرار دیا جاسکتا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ کردار ادا کرتے ہوئے نہ تو حکومت کو من مانی سے قانون ساز ی کی اجازت دیں گے اور نہ ہی اپوزیشن کوقانون سازی کے عمل کو بلاجواز تاخیر کا شکار کرنے دیں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ممتاز قادری کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھنا خوش آئند ہے ، لیکن یہ بات ناقابل ِ فہم ہے کہ عدالت نے قاتل پر سے دہشت گردی کا الزام کیوں کر ختم کرتے ہوئے کہا اُس کے فعل سے معاشرے میں خوف وہراس کی فضا قائم نہیں ہوئی تھی۔ وہ شخص جس نے صحافی رضا رومی کی فرقہ وارانہ بنیاد پر جان لینے کی کوشش کی، کے کیس کو بھی فوجی عدالت میں بھیج دیاگیا ہے۔ جس شخص نے لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، خواجہ شریف ، کو قتل کرنے کی کوشش کی،کو بھی انسداد ِ دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنادی، تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ خواجہ شریف اب خود ممتاز قادری کے وکیل ہیں۔ جن دہشت گردوں نے سابق صدر، پرویز مشرف کو ہلاک کرنے کی کوشش کی،اب تک اُنہیں انسداد ِ دہشت گردی کی عدالتوں سے سزا ہوچکی ہے ،یہ سلسلہ جاری ہے۔ اب سننے میں آرہا ہے کہ مختلف مذہبی جماعتیں مل کو ممتاز قادری کی سزا کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے جارہی ہیں ۔ اس کے علاوہ سلمان تاثیر کے خاندان کو بھی قصاص کی رقم کے بدلے قاتل کو معاف کرنے کی پیش کش کی جارہی ہے۔ تاہم مسٹر تاثیر کے خاندان نے رقم وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ممتاز قادری پر سے دہشت گردی کی دفعات ختم نہ کی جائیں،ورنہ یہ ایک مثال قائم ہو جائے گی اور آگے چل کر دہشت گردی کی جنگ میں مشکلات بڑھ جائیں گی۔
ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر پر چھاپے سے رینجرز نے بہت قوی پیغام دے دیا ہے کہ اب کہ کراچی میں دہشت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس سے اس حقیقت کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ کراچی کو مسلح مافیاز کے بل بوتے پر کنٹرول کرنے کی پالیسی کو فوجی اسٹبلشمنٹ جاندار طریقے سے چیلنج کرنے جارہی ہے۔ اس سے پہلے پرویز مشرف اور اشفاق کیانی کے ادوار میں ایم کیو ایم کو مقدس گائے کا درجہ حاصل تھا ، تاہم چیف آف آرمی ا سٹاف، جنرل راحیل کی سوچ مختلف اور دوٹوک ہے۔ اس کے علاوہ ایم کیوایم کی قیادت پر لندن میں عمران فاروق قتل کیس کا بھی دبائو ہے۔ یہ سب اشارات باور کراتے ہیں کہ لندن میں بیٹھے قائد کے دور کے اختتام کا آغاز ہوچکا ۔ ایم کیو ایم کی پریشانی میں اضافے کا باعث پی ٹی آئی کی طرف سے اس کے ووٹ بنک کو متاثر کرنا بھی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آنے والے انتخابات ایم کیو ایم کے لیے خوشگوار نہیں ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان ایک پرانے دور سے نکل کر نئے دور میں داخل ہورہا ہے۔ اس کا معاشرہ دہشت گردی، انتہا پسندی ، لاقانونیت اور معاشی جمود سے نکل کر تازہ ہوا میں سانس لینے جارہا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ پاکستانیوں کی یہ توقعات اس مرتبہ دھوکا نہیں دیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *