کراچی میں’مہاجر ریپبلکن آرمی کی موجودگی کا دعویٰ‘

 Supream courtوفاقی حکومت نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں ایک خفیہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں ایک غیر معروف عسکری گروہ مہاجر رپبلکن آرمی کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مہاجر ریپبلکن آرمی کے ارکان کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں اس گروہ کی سرگرمیوں اور مقاصد بیان نہیں کیے گئے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے کراچی میں اس نام کے گروپ کا کبھی کہیں ذکر سامنے نہیں آیا۔اس خفیہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیاری میں آپریشن کرنے سے اجتناب برتا جائے کیونکہ اس سے دوسرے محاذ کھل سکتے ہیں۔

محکمۂ داخلہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کچھ افراد ٹھٹہ اور بدین میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی مالی مدد کر رہے ہیں اور ان کی نشاندہی کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رینجرز نے نو گو ایریاز کا خاتمہ کر کے حکومت کی روایتی رٹ برقرار رکھنے میں مدد کی۔

دوسری جانب پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی بدلتی صورت حال اور سیاسی بیانات پر سپریم کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اگر کریڈٹ لینا ہے تو کراچی میں امن و امان بحال کرایا جائے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے جمعرات کو کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے چیف سیکرٹری سندھ سے مخاطب ہوکر کہا کہ کراچی کی بندرگاہ سے اسلحہ پورے ملک میں اسمگل ہوتا ہے، وزیرستان اور بلوچستان کی کالعدم تنظیموں کے ساتھ ساتھ عسکریت پسند بھی یہ اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔

چیف سیکرٹری اور آئی جی سندھ پولیس نے جمعرات کو عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو سالوں میں 4,954 افراد قتل کیے گئے۔

چیف جسٹس نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے لیکر آج تک کراچی میں جتنا بھی خون بہا ہے اس کی ذمہ دار صوبائی اور وفاقی حکومتیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا اب تسلیم کیا جا رہا ہے کہ کراچی میں نو گو ایریاز موجود ہیں اگر یہ بات ابتدا میں تسلیم کر لی جاتی اور کارروائی ہوتی تو اب تک یہ ایریاز ختم ہو چکے ہوتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *