تابش سے تابش تک

رؤف طاہرrauf

عباس تابش اس عہد میں شعر و ادب کا بڑا نام ہے۔ برسوں پہلے یہ شعر اس کی پہچان بنا
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک روز کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
ماں سے محبت میں ڈوبے ہوئے شعر کی برکت نے اس کی شہرت دور دور پہنچا دی۔ آج وہ پاکستان ہی میں نہیں، باہر بھی اردو بولنے اور اردو سے محبت کرنے والوں میں مقبول ہے۔ وہ لاہور کے ایک کالج میں پروفیسر ہے اور گرمیوں کی چھٹیوں کا بیشتر عرصہ امریکہ اور یورپ کی اردو بستیوں میں مشاعرے پڑھتے گزارتا ہے۔ گزشتہ دنوں جدّہ میں جشن ِ پاکستان کی تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ مشاعرہ لوٹ کر پاکستان واپس آیا ہے۔
تابش سے تابش الوری بھی یاد آئے۔ گزشتہ روز گورنر ہاؤس میں ملاقات ہوئی تو ماضی کی کتنی ہی خوشگوار یادیں تازہ ہو گئیں۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں وہ بہاولپور سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1985 کی ان اسمبلیوں نے صرف سوا تین سال زندگی پائی اور مئی 1988 میں جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں جونیجو حکومت اور قومی اسمبلی کی برطرفی کے ساتھ ہی چاروں صوبائی اسمبلیوں کی رخصتی کے پروانے بھی جاری ہو گئے۔ 1985 کی پنجاب اسمبلی میں جن ارکان نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، ان میں تابش الوری بھی تھے جنہوں نے اسمبلی کی رکنیت کو بہت سنجیدگی سے لیا۔ وہ پوری تیاری کے ساتھ ایوان میں آتے اور زیرِ بحث مسئلے کے حوالے سے تجزیے اور تنقید کا حق ادا کر دیتے۔
اور یادش بخیر، ایک تنویر عباس تابش بھی ہوتا تھا۔ ایوب آمریت کی آخری ہچکیاں، پھر یحییٰ خان کا مارشل لا اور سقوط مشرقی پاکستان کے بعد نئے پاکستان میں بھٹو عہد کے ابتدائی ماہ و سال۔ تنویر عباس تابش اس دور کی طلبا سیاست کے بڑے ناموں میں شمار ہوتا تھا۔ وہ بھی کیا دن تھے۔تب تعلیمی اداروں میں صرف پڑھائی نہیں ہوتی تھی۔ طلبا کے شخصیت و کردار کی تعمیر کا اہتمام بھی ہوتا۔ ایسی سرگرمیاں، جن سے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا ملے اور ان کے قائدانہ اوصاف کا فروغ ہو۔ اسکولوں میں ہفتہ وار بزمِ ادب ہوتی تھی۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اسٹوڈنٹس یونین، جن کے سالانہ انتخابات ہوتے۔ طلبا تنظیمیں اپنے امیدوار کھڑے کرتیں اور منتخب طلبا قیادت اپنے سال بھر کے مینڈیٹ کے دوران مختلف پروگرامز تشکیل دیتی۔طلبا مسائل کے حل کے لئے انتظامیہ سے مذاکرات کرتے۔ روایتی ٹریڈ یونین کے برعکس ــ ’’انتظامیہ کے ساتھ اس کا رویہ ادب و احترام کا ہوتا کہ یہاں معاملہ استحصال پسند کارخانہ دار یا ماتحتوں کے مسائل سے لاپرواہ اور بے حس ’’باس‘‘ کی بجائے شفیق و محترم اساتذہ سے ہوتا تھا۔ سالانہ مباحثوں اور مشاعروں کا انعقاد کا بھی اسٹوڈنٹسیونین کے فرائض میں شامل ہوتا۔ مختلف قومی تحریکوں میں بھی طلبا برادری اپنے منتخب نمائندوں کے زیرِقیادت سرگرم ہوتی۔ آمریتوں کے ادوار میں بار ایسوسی ایشنوں اور پریس کلبوں کی طرح اسٹوڈنٹس یونینزبھی حزبِ اختلاف کو آہ و فغاں کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرتیں۔
جنوبی ایشیا کی قدیم اور عظیم مادرِ علمی، پنجاب یونیورسٹی سے اس حوالے سے خاص کردار تھا۔ فوجی آمریت ہو یا سول فسطائیت، پنجاب یونیورسٹی اپنے اسی کردار کے باعث زور آوروں کے لئے ناپسندیدہ رہی۔ ایوب خاں کے دورِ آمریت میں جب مغربی پاکستان گورنر کالا باغ کے سپرد تھا، پنجاب یونیورسٹی کا بارک اللہ خاں نوجوان خون کی جرأت و جسارت کی علامت ٹھہرا۔ 1960 کی دہائی کے اواخر میں ملک میں رائٹ اور لیفٹ کی آویزش عروج کو پہنچی تو طلبا سیاست کا اس سے متاثر ہونا بھی فطری تھا، تب تعلیمی اداروں میں ’’ایشیا سبز ہے‘‘ اور ’’ایشیا سرخ ہے‘‘ کے نعرے گونجتے۔ دلچسپ بات یہ کہ 1970 کے انتخابات میں بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی نے پنجاب میں سوئپ کیالیکن یہاں کے تعلیمی اداروں میں فضا اس کے برعکس تھی۔ اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں زور کا معرکہ ہوتا اور میدان ’’ایشیا سبز ہے ‘‘ والوں کے ہاتھ میں رہتا۔ تب پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدارتی الیکشن میں جہانگیر بدر ایک بار حافظ ادریس اور دوسری بار حفیظ خاں کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوا۔ پھر جاوید ہاشمی کا دور آیا اور ’’اِک بہادر آدمی‘‘ کی گونج یونیورسٹی کے درو دیوار سے باہر سارے ملک میں پھیل گئی۔ ہاشمی کی زیرِقیادت ’’بنگلہ دیش نامنظور ‘‘ کی ملک گیر تحریک پاکستان میں سیاسی تحریکوں کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔تب تنویرعباس تابش بھی طلبا سیاست کا بڑا نام تھا۔ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کا نائب صدر، بلا کا مقرر جس نے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں درجنوں مباحثے اور تقریری مقابلے جیتے، سیاسی تحریک میں بھی خوف جسے چھو کر نہ گزرا تھا، تعلیم سے فراغت کے بعد اس نے سیاست کو الوداع کہا اور بنک میں نوکری کر لی کہ ’’تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے‘‘۔ اب وہ ایس ایم ظفر اور بھابھی مہناز رفیع کی ہیومن رائٹس سوسائٹی کی تقریبات میں کبھی کبھار بطور ناظم نظر آجاتا ہے۔ وہ بنک میں سینئر وائس پریزیڈنٹ تک پہنچا اور ریٹائرڈ ہو گیا۔ گزشتہ دنوں جناب ایس ایم ظفر نے شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں اس کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ اس اتوار کو جناب الطاف حسن قریشی نے تابش کے ساتھ ’’تقریب بہرِملاقات‘‘ منعقد کی۔ پنجاب یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میں یہ سنڈے برنچ تھا۔ ماضی کے طلبا سیاست کے جتنے بھی اہم نام شہر میں دستیاب تھے، الطاف صاحب نے سب کو بلا لیا تھا۔ ان میں مسقط سے آئے ہوئے جاوید نواز بھی تھے۔ ملک کے موجودہ تعلیمی معاملات و مسائل کے حوالے سے بات ماضی کی سٹوڈنٹس یونینز تک جا پہنچی، جن پر ضیاالحق دور میں (1983-84) پابندی عائد کر دی گئی تھی جو اب تک برقرار ہے۔ گفتگو میں طلبا کے سیرت و کردار کی تعمیر اور ان میں تعلیمی و تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ پر بھی بات ہوئی۔ آج کی نئی نسل جن سے نا آشنا ہے اور پرانی نسل کے لئے بھی یہ قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ اسٹوڈنٹس یونینز نے قومی سیاست کو کیسی کیسی شخصیتیں دیں۔ ماضی میں دور تک جانے کی بجائے آج کے سیاسی افق پر نظر دورائیں تو جاوید ہاشمی، جہانگیر بدر، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، شیخ رشید، لیاقت بلوچ، فرید پراچہ اور صدیق الفاروق سمیت کتنے ہی نام سامنے آتے ہیں۔ اپنے پرویز رشید اور مشاہد اللہ خاں بھی تو طلبا سیاست ہی سے آئے تھے اور ہاں پلڈاٹ والے احمد بلال محبوب بھی تو لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ رہے۔
اسٹوڈنٹس یونینز کے لئے غیر سیاسی ڈکٹیٹروں کی ناپسندیدگی تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن سیاسی ادوار میں بھی یہ شجر ِممنوعہ کیوں ٹھہریں؟ شاید اس لئے کہ طلبا سیاست سے ابھرنے والی جینوئن لیڈرشپ اجارہ دار سیاست کوبھی وارا نہیں کھاتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *