سعودی عرب نے تارکین وطن پر بجلی گرا دی !

1

آخر وہی ہوا جس کا لاکھوں تارکین کو ڈر تھا۔ سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے اہل خانہ پر ماہانہ ۱۰۰ریال فیس کا نفاذ ہوچکا ہے، جبکہ فیس کی وصولی کے لیے ابشر نظام کو فعال کیا جاچکا ہے۔علاوہ ازیں افراد خانہ کے لیے ابشر کے ذریعہ خروج وعودہ کروانے کے لیے پہلے ماہانہ ۱۰۰ ریال فیس ادا کرنی ہوگی۔ غیرملکیوں کے اہل خانہ پر ماہانہ فیس عائد کرنے کا فیصلہ سعودی کابینہ نے منظور کیا تھا، جس کے بموجب جولائی ۲۰۱۷ء سے اس کا نفاذ ہوگا۔ جولائی ۲۰۱۷ء سے جولائی ۲۰۱۸ء تک اہل خانہ کے ہر فرد پر ماہانہ ۱۰۰ریال فیس عائد کی گئی ہے۔ جولائی ۲۰۱۸ء سے جولائی ۲۰۱۹ء تک ہر فرد پر ماہانہ فیس ۲۰۰ ریال ہوجائے گی۔ اسی طرح جولائی ۲۰۱۹ء سے جولائی ۲۰۲۰ء تک فیس میں اضافہ کرکے اسے ۳۰۰ ریال کردیا گیا ہے جبکہ جولائی ۲۰۲۰ء سے جولائی ۲۰۲۱ء تک فی کس ماہانہ فیس ۴۰۰ ریال ہوجائے گی۔ غیرملکیوں کے اہل خانہ پر ماہانہ فیس کی ادائیگی یکمشت اور اقامہ تجدید کے وقت یا پھر ابشر نظام کے مطابق خروج وعودہ کا ویزہ جاری کرتے وقت ادا کرنی ہوگی۔

گوکہ اس کی مزید تفصیلات سرکاری ذرائع سے آنا باقی ہیں، تاہم یہ بات واضح ہے کہ تادمِ تحریر غیرملکیوں کے اہل خانہ پر ماہانہ فیس کا نفاذ ہوچکا ہے، اِلّا یہ کہ کوئی مزید وضاحت آجائے۔ متعلقہ سرکاری ذرائع سے وضاحت اور نظام کے اطلاق کے قواعد وضوابط ابھی تک جاری نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر سرکاری ذرائع اپنے طور پر اس کی وضاحتیں کر رہے ہیں، جن کے مطابق پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ ماہانہ فیس مرافقین پر لاگو ہوگی ، تابعین پر نہیں۔محکمہ پاسپورٹ کی اصطلاح کے مطابق مرافق والدین، بہن، بھائی، ساس، ۱۸سال سے زیادہ عمر کے بچے اور غیر ملکی کی کفالت میں دیگر افراد کو کہا جاتا ہے، جبکہ تابعین بیوی اور ۱۸سال سے کم عمر بچوں کو کہا جاتا ہے۔

بعدازاں غیر سرکاری ذرائع سے ہی یہ وضاحت آئی کہ فیس کا اطلاق مرافقین اور تابعین دونوں پر ہوگا۔ اب فیس کے فیصلے کے نفاذ کے بعد بھی متعلقہ سرکاری محکموں سے کوئی وضاحت نہیں آئی تاہم سداد نظام اور ابشر نظام سے رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فیس کا اطلاق مرافقین اور تابعین دونوں پر ہے، ان میں کوئی فرق نہیں۔ غیر سرکاری تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ غیرملکیوں کے اہل خانہ خواہ وہ مرافقین ہوں یا تابعین ، دونوں پر ماہانہ فیس کے علاوہ خود غیرملکی کارکنوں پر ماہانہ فیس کا اطلاق کرنے سے ملکی خزانہ کو خطیر آمدنی متوقع ہے۔ سعودی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ ۲۰۲۰ء تک اگر فیس کے نظام کا نفاذ ویسے ہی رہا جیسے منصوبہ بنایا گیا تھا تو سعودی عرب میں وہ غیرملکی اہل خانہ کے ساتھ نہیں رہ سکیں گے جن کی ماہانہ تنخواہ ۶۰۰۰ ریال یا اس سے کم ہے۔ اگر اس تجزیہ کو درست مانا جائے تو موٹا حساب لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں ۶۰ فیصد غیرملکی اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہنے کے قابل نہیں ہوں گے، کیونکہ غیر ملکیوں کے سوادِ اعظم کی اوسط تنخواہ ۶۰۰۰ ریال ہے۔

اس تجزیہ کو وزارت محنت کے اس فیصلے کے ساتھ دیکھا جائے جس میں کہا گیاہے کہ سال رواں کے آخر تک شاپنگ مالز میں غیرملکیوں کے کام پر پابندی ہوگی تو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے ۳سال کے دوران سعودی عرب میں مقیم ۶۰ فیصد خاندان اپنے وطنوں کو واپس جانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ مقامی اخبارات میں غیرملکیوں کے اہل خانہ پر ماہانہ فیس کے نفاذ کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہاہے۔مکہ اخبار نے فیس کے مثبت پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے بعد ان منفی پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہاہے کہ غیرملکیوں کے اہل خانہ پر فیس کے نفاذ سے گوشوارے مرتب کرنے والوں کے مطابق ملکی خزانے کو ۶۸؍ارب ریال کی آمدنی ہوگی، تاہم یہ آمدنی اس وقت ممکن ہوگی جب غیرملکی فیس لاگو ہونے کے بعد بھی ملک میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم رہیں جبکہ حالت یہ ہے کہ بیشتر غیرملکی اپنے اہل خانہ کو واپس بھیج رہے ہیں۔

اندازہ لگایا جارہاہے کہ فیس سے بچنے کے لیے آنے والے دنوں کے دوران ہی ۶لاکھ ۷۰ہزار مرافقین اور تابعین واپس چلے جائیں گے۔ اس طرح ملکی خزانے میں مذکورہ رقم کی آمدنی ممکن نہیں ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی فیملیاں سالانہ ۸۸؍ارب ریال ملک میں خرچ کرتی ہیں۔ جب وہ چلی جائیں گی تو مقامی مارکیٹ اس خطیر رقم سے بھی محروم ہوجائے گی۔ یہ رقم ملکی پیداوار کا ۳ء۷ فیصد ہے۔ غیرملکیوں کے اہل خانہ پر ماہانہ فیس کا نفاذ زمینی حقیقت بن چکا ہے۔ اب مزید کسی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں، نہ ہی کھوکھلی امیدیں لگانے کی ضرورت ہے۔

سعودی وزیرخزانہ نے گزشتہ دنوں دوٹوک انداز میں کہہ دیا تھا کہ اس وقت مملکت میں ۱۲ملین غیرملکی ہیں جبکہ ہمیں ضرورت صرف ۴ملین کی ہے۔اس کا صاف ، سیدھا اور دوٹوک مطلب یہ ہے کہ سعوی عرب نے غیرملکیوں کو’’پالنے‘‘ کا ٹھیکہ لینا بند کردیا ہے۔ :۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *