شف شف

محمد طاہرM tahir

فیصلہ ساز قوتوں کو تذبذب سے نکلنا پڑے گا۔ بلوچ کہتے ہیں شف شف نہیں صاف صاف شفتالو کہیں۔ یہ پاکستان کے تحفظ کا آخری موقع ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف جب جب ریاستی ادارے بروئے کار آئے تو اداروں نے نہیں ایم کیوایم نے سیکھا ہے۔ یہ موقع ہے کہ ایک مختلف پیغام دیا جائے۔ وہ نغمۂ امن جو کراچی میں بلند ہوا ہے اُسے سُر میں رہنے دیں۔ آہنگ بگڑا تو موسیقی نہیں موسیقار پر سے اعتبار جاتا رہے گا۔
صولت مرزا کے باب میں ایک غلط پیغام گیا ہے۔ ایم کیوایم کو اس سے بروئے کا رآنے کا موقع ملا۔ پہلی غلطی یہ ہوئی کہ یہ امر سرے سے نظر اندازکر دیا گیا کہ ایک درست سے درست بات بھی غلط طریقے سے کہی جائے تو وہ مشکوک بن جاتی ہے۔ پاکستانی عوام اپنی عمومی نفسیات میں بدگمانیوں کی دلدل میں رہتے ہیں۔ تاریخی طور پر عوام کے ساتھ جوکچھ ہوا ہے اُس تناظر میں یہ رویہ کچھ اتنا غلط بھی نہیں۔ صولت مرزا کی ویڈیو ٹیپ جس طرح اور جس وقت سامنے آئی، پیشکش کے اس غیر معمولی، غیر قانونی اور اجنبی طریقے نے اس کے مندرجات کی حقیقت تک پہنچنے نہیں دیا اور پورا پیغام ذرا سی دیر میں اُلٹ پلٹ گیا۔ایم کیو ایم نے اس سے جو فائدہ اُٹھا یا اُسے تو ایک طرف رکھئے! اس ویڈیو سے متعلقہ قوتیں جو بھی فائدہ اُٹھانا چاہتی ہومگر اس کا اصل فائدہ خود صولت مرزا کو اس طرح پہنچا کہ اُسے ایک ہمدردی ملنے لگی۔ ہم بنیادی طور پرمتضاد جذبات اور متصادم خیالات کے ایک ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں ایک ہی واقعہ الگ الگ رنگ میں نتائج پیدا کرتا ہے۔ ایک مغربی مورخ نے کہا تھا کہ برصغیر ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں تہذیب ہزاروں برس پیچھے اور جدید دور کے ساتھ بیک وقت رہتی ہے۔ یہ مختلف ادوار میں جینے والے مختلف الفکر اور متضاد عمل کے الگ الگ لوگوں کا اکٹھ ہے۔چنانچہ صولت مرزا کی ویڈیو کیا کیا قیامتیں کہاں کہاں ڈھا سکتی ہیں اس کا جائزہ کسی بھی سطح پر نہیں لیا گیا۔اس صورتِ حال نے صولت مرزا سے بے پناہ محبت کرنے والی اس کی بیوی کو ایک مرتبہ پھر ہمدردی کی لہر اُٹھا نے کا موقع فراہم کیا ۔ صولت مرزا اپنی ویڈیو میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ اُسے شاہد حامد کو قتل کرنے کا حکم براہِ راست الطاف حسین نے دیا مگر اُس کی بیوی نے روتے ہوئے یہ کہنا شروع کر دیا کہ میرے شوہر نے تو سرے سے یہ کام کیاہی نہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے مختلف ٹیلی ویژن کے رنگین پردوں پر یہ سوال اُٹھانا شروع کر دیا کہ صولت مرزا کی بیوی کی گفتگو کیوں نشر نہیں کی جارہی؟ وہ بھی تو کچھ کہہ رہی ہے۔یوں اس ویڈیو کا کوئی ایک تاثر نہیں رہا۔متعلقہ قوتوں نے اِن ممکنہ نتائج کو سرے سے دھیان میں ہی نہیں رکھا تھا۔یہ معاملہ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی گفتگو کی طرح کا ثابت ہوا۔ ایم کیو ایم کے قائد نے جب اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ صولت مرزا کون ہیں؟ تب اُن کے نہاں خانۂ ذہن میں بھی یہ نہ رہا ہوگا کہ یہ بات خود اُن کے اپنے حلقۂ اثر کے لوگ بھی تو سُن رہے ہیں۔ جو اس کا منفی اثر لیں گے۔ ایسا ہی ہوا۔ صولت مرزا کے ویڈیو پیغام پربھی الطاف حسین کے اس طرزِ کلام کا اثر تھا۔ چنانچہ اُس نے بار بار کہا کہ ہمیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیا گیا۔کچھ ایسی ہی غلطی متعلقہ اداروں سے ہوئی وہ یہ اندازا لگانے سے قاصر رہے کہ صولت مرزا کی ویڈیو ٹیپ ایم کیوا یم کے قائد کو نقصان پہنچانے سے زیادہ خود صولت مرزا کے لئے بھی تو مفید ثابت ہوسکتی ہے۔چناچہ اس کا پیغام کراچی میں بالکل برعکس طور پر لیا گیا۔
صولت مرزا کی اس ویڈیو ٹیپ سے ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ اب تک تمام حقائق ایم کیوا یم کے مرکز نائن زیرو کے گرد گھوم رہے تھے۔ جہاں سے اسلحہ اور دہشت گر د پکڑے گئے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے دہشت گرد بھی تھے جو ڈیرھ سو سے زائد افراد کو قتل کر چکے تھے۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے مجرم بھی یہیں سے پکڑے گئے تھے۔ایم کیو ایم اس کامیاب پکڑ ڈھکر پر تقریباسکتے کی حالت میں تھی اور وہ اپنا کوئی مضبوط دفاع تیار نہیں کر پارہی تھی۔ صولت مرزا کی ویڈیو ٹیپ نے توجہ کا میدان بدل دیا اور مباحث کا رخ بھی بدل دیا۔ایم کیو ایم جو کچھ چاہ رہی تھی وہ اُسے بغیر کچھ کئے ہی مل گیا۔اب حقائق کا مدار نائن زیرو کے گرد گھومنے کے بجائے کہیں اور مڑ گیا تھا۔ رینجرز نے نائن زیرو پر کارروائی سے اب تک کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ مگر یہ کامیابی عملی طور پر لوگوں کے اذہان پر پوری طرح ثبت نہیں کی جاسکی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اندازوں کی یہ غلطیاں کیوں ہوئیں؟ اور خرابی کا دروازہ کہاں سے کھلتا ہے؟
یہ ایک بدقسمتی ہے کہ وطنِ عزیز میں ہر مسئلے کی تفہیم سیاسی ہوتی ہے۔ یہاں جُرم اور دہشت گردی کو بھی ایک خاص طرح کی سیاسی افتادِطبع سے دیکھا جاتا ہے۔ اداروں کے اندر یہ ذہن ہر سطح پر سرایت کر چکا ہے۔چنانچہ ایم کیو ایم کے باب میں جب بھی سوچا گیا اُس کا محوری نُکتہ الطاف حسین کی ذات کو بنایاگیا۔ اگر جرائم کی بیخ کنی کا عزم غیر سیاسی رکھ کر اُسے قانونی دائرے میں بروئے کار لایا جائے تو یہ مقصد خود بخود بغیر کچھ کئے حاصل ہو سکتا تھا۔لیکن جب اِسے مقصد بنا کر میدان میں کوئی قوت کارگزار ہوتی ہے تو اُس کے اقدامات کی نوعیت ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔کسی کو منہا کرنے کے فارمولے آج تک کامیاب نہیں ہوسکے۔یہ ایک فطری طریقے پر ہی ممکن ہوتا ہے۔ ایم کیوایم ایک ایسی جماعت ہے جو یا تو اِسی طرح قائم رہے گی یا پھر باقی ہی نہیں رہے گی۔ اس کے درمیان کوئی دوسرا راستا سوچنے والے تاریخ میں ذلت کا سب سے بڑا بوجھ اُٹھائیں پھریں گے۔کراچی میں پیدا ہونے والے کسی بھی ممکنہ خلا کو اہلِ کراچی کی اجتماعی دانش پر چھوڑ دینا چاہئے۔ یہ بوجھ خوامخواہ مقتدر حلقے نہ اُٹھائیں پھریں۔یوں بھی اُن کے لئے سوچنے کے امکانات اور کرنے کے لئے اقدامات کی زمین مسلسل سکڑ رہی ہے۔ صولت مرزا سے لے کر دیگر معاملات تک ہر مسئلے کو صرف دہشت گردی کے سدِ باب اور قیامِ امن کے مقصد کے ساتھ ہی وابستہ رکھا جانا چاہئے۔ اس کے علاوہ اُٹھایا جانے والا ہر قدم کسی گہری کھائی میں بھی گرا سکتا ہے۔ رسول حمزہ توف کو ہی یاد کرتے ہیں۔ اُس نے کہا تھا کہ ’’لباسِ عروسی اور کفن ایک ہی سوئی سے سیا جاتا ہے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *