ورلڈ کپ فائنل مقابلوں کی تاریخ

1975: cricketویسٹ انڈیز نے لارڈز میں آسٹریلیا کو 17 رنز سے زیر کیا۔
ویسٹ انڈین کپتان کلائیو لائیڈ نے ڈینس للی اور جیف تھامسن پر مشتمل آسٹریلین تیز باؤلنگ اٹیک کے خلاف پرسکون انداز میں 85 گیندوں پر جارحانہ 102 رنز بنائے۔زخمی گارفیلڈ سوبرز کے متبادل 39 سالہ روہن کنھائی نے بھی ان کا خوب ساتھ دیتے ہوئے 55 رنز بنائے۔
ویسٹ انڈیز نے مقررہ 60 اوورز میں 8 وکٹوں پر 291 بنائے۔ جواب میں آسٹریلیا نے کپتان آئن چیپل (62رنز)کی مدد سے اچھا آغاز کیا لیکن پھر چیپل اور دو دوسرے بلے باز رن آؤٹ ہو گئے۔اس میچ میں آسٹریلیا کے دس میں سے پانچ بلے باز رن آؤٹ ہو کر پویلین لوٹے تھے۔
للی اور تھامسن نے آخری وکٹ کیلئے 41 رنز جوڑے تاہم، پوری ٹیم 274 رنز سے آگے نہ بڑھ سکی اور ویسٹ انڈیز نے کرکٹ کی تاریخ کے پہلے عالمی چیمپیئن کا اعزاز اپنے نام کیا۔

1979: فتح پھر ویسٹ انڈیز کا مقدر ٹھری
ایک مرتبہ پھر ویسٹ انڈیز نے لارڈز میں تاریخ دہرائی اور میزبان انگلینڈ کو 92 رنز سے شرمندہ کیا۔ابتدا میں ویسٹ انڈین مشکلات سے دوچار ہوئی لیکن پھر ویو ین رچرڈز کے 138 اور کولس کنگ کے 86 رنز کی بدولت ویسٹ انڈیز نے 60 اوورز میں 9-286 بنائے۔
جواب میں انگلش اوپنرز مائیک بریرلی اور جیف بائیکاٹ نے بہترین آغاز فراہم کرتے ہوئے 129 رنز بنائے لیکن ایسا کرنے میں انہوں نے 38 اوورز استعمال کر ڈالے۔دونوں کے آؤٹ ہونے کے بعد دیو ہیکل جوئل گارنر نے خطرناک یارکز کی مدد سے صرف 11 گیندوں پر پانچ وکٹیں لے کر انگلش مڈل آرڈر کو تہس نہس کر دیا۔
کولن کرافٹ نے گارنر کا ساتھ دیتے ہوئے 3 بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی اور ویسٹ انڈیز نے اپنے اعزاز کا میاب انداز میں دفاع کیا۔

1983: بالآخر ویسٹ انڈیز کی فتوحات کا سلسلہ ختم ہو گیا
لارڈز میں 184 رنز کے تعاقب میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ویو رچرڈز اکیلے ہی ویسٹ انڈیز کو فتح دلانے پر تلے ہوئے ہیں۔انہوں نے 28 گیندوں پر 33 بناتے ہوئے سات چوکے رسید کیے، لیکن پھر ٹاپ ایج کھیلا جسے انڈین کپتان کپل دیو نے آسانی سے پکڑ لیا۔
اس کے بعد ویسٹ انڈین بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور انڈیا نے 43 رنز سے میدان مار لیا۔اس فتح نے انڈیا میں گہرے اثرات چھوڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے ون ڈے کرکٹ ٹیسٹ میچوں پر غالب آ گئی۔

1987: آسٹریلیا نے ایڈن گارڈن میں انگلینڈ کو سات رنز سے ہرایا۔
برصغیر میں دن کی روشنی جلد ڈھل جانے کی وجہ سے تمام ورلڈ کپ میچ 60 کے بجائے 50 اوورز کے کھیلے گئے۔کولکتہ کے ایڈن گارڈن میں اوپنر ڈیوڈ بون کے 75 رنز کی بدولت آسٹریلیا نے 5-253 رنز بنائے ،جو ناکافی دکھائی دے رہے تھے۔
میچ میں ایک مرحلہ ایسا آیا جب انگلینڈ فاتح نظر آنے لگا تھا لیکن مائیک گیٹنگ نےآسٹریلین کپتان ایلن بارڈر کی گیند پر ریورس سوئیپ کھیلا اور آسان کیچ دے بیٹھے۔اس وکٹ کے بعد آسٹریلین سائیڈ نے بہت منظم پرفارمنس دکھاتے ہوئے سات رنز سے فتح حاصل کر کے پہلی مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز اپنے نام کیا۔

1992: عمران کے شیروں کے ہاتھوں انگلینڈ کے خواب چکنا چور
اس مرتبہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلے گئے میگا ایونٹ کی خاص بات، رنگ برنگی کرکٹ کٹس، فلڈ لائٹس اور سفید گیند تھی۔گرین شرٹس نے ایونٹ کا خراب آغاز کیا اور ایک مرحلہ ایسا آیا جب ٹیم کا باہر ہو جانا صاف نظر آ رہا تھا۔ایسے میں پاکستان ٹیم نے کپتان عمران خان کے مشہور جملے ' دیوار سے لگے شیروں کی طرح مقابلہ کرو' پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی قسمت بدلی اور میلبرن کا میدان مار لیا۔آل راؤنڈر عمران نے پاکستان کیلئے اپنا آخری میچ کھیلتے ہوئے ناصرف 72 رنز بنائے بلکہ آخری وکٹ بھی حاصل کی۔
250 رنز کے ہدف میں وسیم اکرم انگلینڈ اور فتح کے درمیان حائل ہوئے۔ انہوں نے آئن بوتھم، ایلن لیمب اور کرس لوئس کی اہم وکٹیں گرائیں تو لیگ سپنر مشتاق احمد نے بھی تین وکٹیں حاصل کیں۔

1996: سری لنکا نے لاہور میں آسٹریلیا کو سات وکٹوں سے شکست دے ڈالی
لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں آسٹریلیا نے کپتان مارک ٹیلر کے 74 رنز کی مدد سے مقررہ 50 اوورز میں 7-241 رنز بنائے۔
جواب میں سری لنکا کے اوپنر سنتھ جے سوریا اور رومیش کالووتھارانا جلد ہی پویلین لوٹ گئے۔
تیسری وکٹ کیلئے اروندا ڈی سلوا (107 ناٹ آؤٹ) اور آسنکا گروسنھا (65) کی 125 کی فیصلہ کن پارٹنر شپ نے سری لنکا کے پہلی مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کی راہ ہموار کر دی۔

1999:آسٹریلیا نے پاکستان کو لارڈز میں آٹھ وکٹوں سے زیر کیا
دنیا کی بہترین ٹیسٹ ٹیم نےبغیر کسی تگ و دو کے صرف ساڑھے چار گھنٹوں میں 1992 کی ورلڈ کپ چیمپیئن کو زیر کیا اور یہ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے یکطرفہ فائنل بن گیا۔
گرین شرٹس پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 39 اوورز میں 132 پر آؤٹ ہو گئی۔ آسٹریلیا کے لیجنڈ اسپنر شین وارن نے چار بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
رنز کا تعاقب آسٹریلوی بلے بازوں کیلئے مشکل ثابت نہیں ہوا اور انہوں نے مقررہ ہدف 20.1 اوورز میں صرف دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔وکٹ کیپر اوپنر ایڈم گلکرسٹ نے 36 گیندوں پر جارحانہ 54 رنز بنائے۔

2003: آسٹریلیا نے جوہانسبرگ میں تاریخ دہرائی لیکن اس مرتبہ اس کا حریف انڈیا تھا۔
آسٹریلیا کے نئے ون ڈے کپتان رکی پونٹنگ نے فائنل میں آٹھ چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 140 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو 125 رنز سے جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس طرح آسٹریلیا تین ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی ٹیم بنی۔پونٹنگ کے علاوہ گلکرسٹ اور ڈیمین مارٹن کی نصف سینچریوں کی وجہ سے آسٹریلیا نے 2-359 رنز بنا ڈالے۔
360 رنز بنانے کا بوجھ انڈیا کے کاندھوں پر بہت بھاری ثابت ہوا اور ویرندر سہواگ کے 82 رنز کے باوجودپوری ٹیم 40 اوورز کے اندر اندر 234 پر ڈھیر ہو گئی۔

2007: آسٹریلیا نے بارش سے متاثرہ فائنل میں سری لنکا کو 53 رنز سے ہرایا۔
ورلڈ کپ میں مسلسل آؤٹ آف فارم وکٹ کیپر اوپنر گلکرسٹ نے جارحانہ 149 بنا کر ٹیم کی فتح کی داغ بیل ڈالی۔
بارش سے متاثرہ میچ میں آسٹریلیا نے 38 اوورز میں 281 رنز بنائے، بعد میں مزید بارش کے باعث سری لنکا کو 36 اوورز میں 269 رنز کا ہدف دیا گیا لیکن سری لنکن ٹیم صرف 215 رنز بنا سکی۔یہ فائنل اب تک کا سب سے متنازع فائنل ہے کیونکہ سری لنکن اننگ کے آخری تین اوورز میں میچ اندھیرے میں کھیلا گیا۔باربیڈوس کے کنگسٹن اوول میدان میں آسٹریلیا نے سری لنکا کو ہرا کر مسلسل تیسری جبکہ مجموعی طور پر چوتھی مرتبہ میگا ایونٹ اپنے نام کیا۔

2011: انڈیا نے گھر میں سری لنکا کو چھ وکٹوں سے پچھاڑا
مہیلا جے وردھنے کے ناقابل شکست 103 رنز کے باوجود سری لنکا مسلسل دوسرے فائنل میں شکست کھا گیا۔
ممبئی میں کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے 6-274 کا مشکل ہدف دیا لیکن میزبان ٹیم نے سست آغاز کے باوجود چھ وکٹوں سے فتح حاصل کر کے دوسری مرتبہ میگا ایونٹ کی تاریخ میں اپنا نام درج کرایا۔
گوتھم گمبھیر کے 97 اور کپتان مہیندر سنگھ دھونی کے ناقابل شکست 91 نےانڈیا کو اپنے گھر میں ورلڈ کپ فائنل جیتنے والی پہلی ٹیم بنا دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *