چودہویں کی رات راکاپوشی بیس کیمپ میں

MHTفوٹوگرافر حضرات خاص طور پر اسے دیکھ کر ہیجان میں آ گئے۔ ندیم خاور گیسو دراز ایک عالم وجد میں تھا، مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ’’ہائے ہائے تارڑ صاحب آپ کو پتہ ہے کہ کل شب ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟
’’کیا ہونے والا ہے؟‘‘۔۔۔ ’’ہم پاگل ہو جائیں گے سَر۔۔۔ کل ہم راکاپوشی کے بیس کیمپ میں ہوں گے اور کل چودھویں کی رات ہو گی اور پورا چاند ہو گا۔۔۔ ہم تو پاگل ہو جائیں گے سَر اور آپ۔۔۔ آپ تو پہلے سے ہی کچھ کچھ ہیں، مزید ہو جائیں گے‘‘۔اگلی سویر جب ہپاکن کیمپنگ کی گھاس پر ہمارے خیمے بندھے پڑتے تھے، ہم بھی تیار تھے اور گدھے بھی، جب میں نے اسرار سے پوچھا۔۔۔ آج مجھے فریب نہ دینا ، سچ سچ بتاؤ یہاں سے راکاپوشی کا بیس کیمپ تگافیری کتنا دور ہے اور راستہ کیسا ہے۔ اسرار نے شرارت سے اپنی پی کیپ اتاری اور سر کو کھجایا اور وہاں کھجانے کے لیے کچھ خاص نہ تھا کہ وہ تقریباً فارغ البال ہو چکا تھا ’’تارڑ صاحب۔۔۔وہ دیکھیے سامنے جو سرسبز پہاڑی نظر آ رہی ہے اور راکاپوشی کا کچھ حصہ جھلک رہا ہے بس وہاں تک جانا ہے۔ یہ ذرا آغاز میں تھوڑی سی چڑھائی ہے پھر تو جنگل میں منگل ہے، سیٹیاں بجاتے چلے جاؤ۔۔۔‘‘ اب یہ جو تھوڑی سی چڑھائی تھی کہ ایک قدم اٹھا کر آگے دھرتے تھے تو دو قدم کھسکتے ہوئے پیچھے چلے جاتے تھے۔ میرا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ میں اب اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔ بہرطور میں نے کامران سیالکوٹی سے کمک طلب کی اور اس کے سہارے پر چار قدم پرہر رکتے۔ ٹھہرتے ، پانی پیتے میں اس آفت کو عبور کر گیا یہ نہیں کہ اس کے بعد راستہ ہموار ہو گیا تھا۔ بہر حال مسلسل چڑھائی نہ تھی اور آس پاس کے موسم سہانے تھے ، قدیم اور قد آور شجر تھے۔ جنگلی بیلیں اور پستہ قامت سرو کے بوٹے تھے۔۔۔ اور کہیں انوکھے پھول بھی ظاہر ہو کر ہماری آنکھوں کو رنگین کر دیتے۔ ہمارے بائیں جانب ہپاکن کیمپنگ سے پرے ایک عظیم چٹانی دیوار تھی جس میں سے آہستہ آہستہ راکاپوشی کا ہیبت ناک گلیشیئر ظاہر ہو رہا تھا۔۔۔ ندیم خاور نے اپنے گیسو جھٹکے اور نہایت حسرت سے کہنے لگا ’’تارڑ صاحب۔۔۔ گلیشیئر کے دوسری جانب جو بلند کنارے ہیں میں نے وہاں ایک موسم سرما کے دوران پورے چھ روز قیام کیا تھا۔ میرے پاس کھانے کے لیے صرف سوکھے چنے تھے، وہاں ایک برفانی نہر یا قل کا چوکیدار تھا ، میں اس کے جھونپڑے میں رات گزار لیتا تھا۔ صرف اس لیے کہ مجھے راکاپوشی کے ایک مختلف زاویے سے تصویریں اتارنی تھیں اور موسم سرما میں اتارنی تھیں ۔ یہ ندیم خاور اور کامران جیسے لوگ جس طور اپنے فن کی پیاس بجھانے کی خاطر پہاڑوں اور صحراؤں میں دھکے کھاتے پھرتے ہیں اور ان کے جذبے اور فن کی کوئی قیمت نہیں پڑتی۔۔۔ یہ گمنام رہتے ہیں۔۔۔ اور یہ چاہتے کیا ہیں؟ صرف اپنے خوبصورت پاکستان کے مناظر کو کل دنیا کے سامنے نمائش کر کے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھو ہم کتنے خوبصورت ہیں۔ اس راستے میں بھی وہی خاموش کنج نظر آتے چشموں میں پوشیدہ کسی محبوب کے منتظر۔۔۔ ہم بلند ہوتے جا رہے تھے اور ہمیں وہ پہاڑی کنارا نظر آ رہا تھا جس کے پار را کا پوشی اور ویران چوٹی کے انبار تھے، دنیا کے بڑے گلیشیئر سانس لیتے تھے اور جب ہم اوپر پہنچے تو اسرار حسب معمول جنگلی پھولوں کا ایک دستہ تھامے میرے استقبال کے لیے موجود مسکراتا تھا۔۔۔ ’’مبارک ہو آپ راکا پوشی کے بیس کیمپ پہنچ گئے ہیں لیکن آگے نہ جائیے گا۔ ابھی ہم ایک تجربہ کریں گے ‘‘ اُس نے میرا ہاتھ تھام لیا’’ اب آپ اپنی آنکھیں بند کر لیجیے اور چند قدم میرا ہاتھ پکڑ کر چلیے اور جب میں کہوں گا تب آپ نے آنکھیں کھولنی ہیں۔۔۔ ٹھیک ہے‘‘ میں آنکھیں بند کر کے اسرار کے سہارے آہستہ آہستہ قدم اٹھانے لگا۔۔۔ دل ہی دل میں ڈرتا کہ پتہ نہیں یہ نگری مہربان مجھے کہاں لے جا رہا ہے۔۔۔ آگے ایک عمیق گہرائی ہے جس کے کنارے پر میں آنکھیں بند کیے چلتا ہوں تو کہیں لڑھک ہی نہ جاؤں۔ تب اسرار کی آواز آئی ’’تارڑ صاحب آنکھیں کھول دیجیے‘‘ میں نے آنکھیں کھول دیں اور جو منظر میں نے دیکھا اُسے دیکھ کر میں نے بے اختیار ہو کر وحشیوں کی مانند گلا پھاڑ کر ہاؤ ہُو کی چیخیں ماریں اور ان کی گونج راکاپوشی کی برفوں تک چلی گئی۔ جہاں میں کھڑا تھا چٹان کا وہ کنارا عمودی زاویے سے گہرائی میں گرتا تھا۔ میرے قدموں میں ایک عظیم گلیشئر پھنکارتا تھا اور جہاں تک نظر جاتی تھی وہاں تک برف کا یہ شہر سانس لیتا تھا اور گلیشئر کے قدموں میں سے دائیں جانب دیران کی چوٹی کی برفیں بلند ہوتی جاتی تھیں اور اُس کے برابر میں راکاپوشی کا برفانی محل کسی سنڈریلا کے خوابناک محل کی مانند ظاہر ہو رہا تھا۔ دنیا میں شاید ہی کہیں اتنا وسیع اور پر جلال برفانی منظر ہو گا اور میں نے محسوس کیا کہ جیسے ہم اس کی معصوم اور پاکیزہ تنہائی میں مخل ہوتے ہیں۔ ہم تو آلودہ اور گدلے ہیں، ہماری آلودگی اس عظیم برفانی پاکیزگی پر ایک بدنما دھبہ ہو گی۔ ’’کیوں تارڑ صاحب۔۔۔ سفر کی تکان اتری، لطف آیا‘‘ ڈاکٹر احسن سرہلاتا مسکرا رہا تھا ’’ہاں ڈاکٹر تمہارا شکریہ، اگر تم مجھ سے دھوکا دہی کی یہ واردات نہ کرتے، مجھے نہ ورغلاتے تو میں کیسے اس شاندار الوہی منظر پر پہنچتا۔۔۔ شکریہ!‘‘۔۔۔اور اس گلیشئر گہرائی کے برابر میں ایک چٹان اٹھتی تھی جس کے ساتھ ایک مختصر پگڈنڈی مشکل سے چمٹی ہوئی تھی بلکہ چٹان سے اٹکی ہوئی تھی اور یہ راکا پوشی کے سر سبز بیس کیمپ میں اتر رہی تھی اور جب ہم اس پر ڈولتے ہی چلے تو اس کوہ نوروی کے دوران پہلی مرتبہ ایک ایسا راستہ سامنے آیا جہاں ذرا سی لغزش سے آپ نیچے گہرائی میں موت کی وادی میں گر سکتے تھے۔ تو یہاں بھی چلتے ہوئے لطف آ گیا کہ کوہ نوردی کی شراب میں موت کے خدشے دامنگیرنہ ہوں تو وہ آپ کو مخمور نہیں کرتی، پانی ہو جاتی ہے۔ اس راستے پر ہم پھونک پھونک کر قدم نہیں رکھ سکتے تھے کہ وہ اتنا مختصر اور کچا تھا کہ پھونک مارنے سے غائب ہو سکتا تھا۔۔۔ راکاپوشی کا یہ بیس کیمپ تگافیری کہلاتا ہے۔ ہم اس میں اترے تو آغاز میں دو چٹانیں تھیں جن میں ایک پر اس سنہرے بالوں والے نوجوان کوہ پیما کی تصویر اور کتبہ تھا جو کچھ برس پیشتر راکاپوشی کی چوٹی کے راستے میں ہلاک ہو گیا، دوسری چٹان ایک جیلانی کوہ پیما کی ’’قبر‘‘ تھی۔ وہ بھی راکاپوشی پر چڑھتے ہوئے ایک حادثے کا شکار ہو گیا اور اس کی راکھ اس چٹان کی کوکھ میں دفن تھی۔۔۔ اسرار نے جنگلی پھولوں کا جو دستہ مجھے پیش کیا تھا وہ میں نے جاپانی کوہ نورد کی ’’قبر‘‘ پر رکھ دیا۔ تگا فیری کے وسیع میدان کے بائیں جانب ایک چٹانی دیوار تھی جو منظر کو پوشیدہ کرتی تھی۔ البتہ دائیں جانب راکاپوشی کا بیشتر حصہ اپنے جمال سے ہر آنکھ کو مسحور اور ہر دل کو ممنون کرتا تھا۔ عمر رسیدہ جاپانیوں کی ایک ٹیم کے درجن بھر خیمے تگا فیری کو آباد کیے ہوئے تھے اور اُن سے پرے ایک برفانی ندی کے پہلو میں ہمارے خیمے نصب کیے جا چکے تھے۔۔۔ اور ہاں تگافیری کی آبادی میں گدھوں کی اکثریت تھی جو ادھر اُدھر خرمستیاں کرتے پھرتے تھے۔۔۔ ان گدھوں پر کوہ نوردوں کا سامان لاد کر لایا گیا تھا۔ جونہی میرا جیسا کوئی کوہ نورد راکاپوشی کی برفوں کی جانب تکتے ہوئے ذرا رومانوی خوابوں میں چلا جاتا تو عین اس وقت کوئی گدھا جذباتی ہو کر راگ کھوتے کا پتر الاپنے لگتا اور پھر فوراً پورے بیس کیمپ میں چرتے گدھے اس کے ہم نوا ہو جاتے۔۔۔ اور کوہ نورد خواب و خیال کی رومانوی دھند میں سے بے حد ذلیل ہو کر فوراً باہر آ جاتا۔۔۔ یہاں تک کہ اس شب چودہویں کے چاند کو راکا پوشی کے پہلو میں سے ابھرتے ہوئے دیکھ کر سب سے پہلے گدھوں نے ڈاہ ڈھیں کا شور مچا دیا۔ وہ بوڑھے جاپانی کوہ نورد چپ چاپ گمشدہ روحوں کی مانند ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ چائے اور فرنچ فرائز سے تازہ دم ہو کر چاروں پاگل حضرات یعنی فوٹو گرافر اپنا سامان تصویر کشی سنبھالے نعرے لگاتے ہوئے راکاپوشی کے برابر میں جو بلند پہاڑ تھے اُن کے جنگلوں میں غائب ہو گئے۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد کوئی کسی چوٹی پر جا پہنچا تھا اور کوئی کسی خطرناک چٹان پر براجمان تھا۔ وہ یہاں سے دکھائی تو نہ دیتے تھے بس ہم اندازہ لگا سکتے تھے وہ جو ایک نقطہ سا ہے وہ ندیم خاور گیسو دراز ہو گا۔ میں اور وقار ملک میدان میں پھیلے ندیوں کے جال پھلانگتے پار کرتے وہاں تک گئے جہاں سے راکاپوشی کی برفوں کا آغاز ہوتا ہے، وہ اپنی ڈاکومنٹری کے لیے میری گفتگو ریکارڈ کرتا رہا۔ اس شب ایک مرتبہ پھر اسرار نے اپنی کھانا بنانے کی صلاحیت سے حیران کر دیا
دیگر خوراکوں کے علاوہ بکرے کی روسٹ پسلیاں بھی مینو میں شامل تھیں۔ اور پھر وہی ہوا جو چودھویں کا چاند طلوع ہونے پر ہوتا ہے اور وہ بھی دنیا کی خوبصورت ترین چوٹیوں میں شمار ہونے والی راکاپوشی کے بیس کیمپ میں۔ بس غدر مچ گیا۔۔۔ چاند کے تمنائی سودائی ہو گئے۔ ہر شے سونے میں ڈھل گئی۔ برفانی ندیوں میں پانی نہیں سیال چاند بہتا تھا۔ دوسرے ہوئے تو ہم بھی تھوڑے سے پاگل ہو گئے کہ ایسی پورے چاند کی رات راکاپوشی کے دامن میں کسے نصیب ہوتی ہے۔ ایسے میں جو نہ پاگل ہو وہ دراصل پاگل ہوتا ہے ۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *