پڑھے لکھوں سے ہشیار رہیں !

yasir pirzada

        اپنی ہم عمر خاتون کو آنٹی کہہ کر پکارنا سرار خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے ، خود کش بمباری پہ اگر کوئی تل جائے تو ایسی حرکت سرزرد ہو جاتی ہے ،مجھ سے بھی ہوگئی ،انجانے میں نہیں جانتے بوجھتے ہوئے ۔ محترمہ غلط سمت سے موڑ کاٹتی آرہیں تھی ، میں نے بھی گاڑ ی سامنے لا کھڑی کی تاکہ انہیں غلطی کا احساس دلایا جا سکے، نہایت بیزار ی  سے انہوں نے مجھے گذر جانے کا اشارہ کیا جیسے مجھ پہ احسان فرما رہی ہوں، اچھی خاصی ماڈرن ،بظاہر  پڑھی لکھی خاتون تھی ، میں نے بھی جواباً شیشہ نیچے کیا اور ’’تھینک یو آنٹی ‘‘ کہہ کر گاڑ ی نکال لی۔دل کوایسی فرحت ملی کہ اب تک سرور ہے ۔

        دن میں بیسیو ں مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ ٹریفک کے اشاروں کی خلاف ورزی کرکے دندناتے ہوئے نکل جاتے ہیں مگر مجال ہے  کہ ماتھے پہ  شرم سے پسینہ آ جائے یا انہیں کوئی  حیا محسوس ہویا ندامت کی ہلکی سی جھلک اِن کے چہروں پہ نظر آ جائے !اگر کبھی انہیں ٹوکا جائے یا احساس دلانے کی کوشش کی جائے تو جواب میں یہ ایسا رویہ اپناتے ہیں جیسے قانون کی پاسداری کرکے آپ حماقت کے مرتکب ہوئے ہیں وہ نہیں ۔پاکستان کے  پڑھے لکھے اور بیوروکریٹک شہر کے سب سے بہترین کلب کی پارکنگ میں معذوروں کی گاڑیوں کے لئے جگہ مختص ہے ، مگر کسے پرواہ ہے ، جس پڑھے لکھے کا دل کرتا ہے وہاں گاڑی کھڑ ی کرتا ہے اور لہراتا ہوا کلب میں داخل ہو جاتا ہے ۔ان کی ڈگری اگر چیک کی جائے تو کوئی کولمبیا یونیورسٹی کا گریجوایٹ نکلے گاتو کوئی ایم آئی ٹی کا انجینئر۔ کسی گدھا گاڑ ی کاڈرائیور اگر یہ کام کرے تو سمجھ بھی آتی ہے کہ اُس غریب کے دماغ میں ہر وقت یہ  سوچ سوار رہتی ہے کہ اگلے وقت کی روٹی کے پیسے کہاں سے آئیں گے مگر اس 20%صد مراعات یافتہ طبقے کو کیا کہیں جو سوسائٹی کے20% غریبوں کے مقابلے میں پانچ گنا وسائل کھا جاتا ہےمگر پھر  بھی زہر اگلتا رہتا ہےاور تھکتا نہیں ۔

        بات فقط ٹریفک کے قوانین کی نہیں ، اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں اور ایسی تمام باتوں کی فہرست بنا لیں جن پر ہم دن رات کڑھتے ہیں اور اس نظام کو کوسنے دیتے ہیں ۔ گندگی ، بجلی چوری ، ٹیکس چوری، بد تہذیبی، بینکنگ فراڈ ، کرپشن ، سرکاری اداروں کی نا اہلی ۔۔۔۔جتنا چاہیں اس فہرست کو طویل کر لیں اور ساتھ ہی اس بات کا  تعین بھی کریں کہ ان مکروہات میں زیادہ حصہ پڑھے لکھوں کا ہے یا ان پڑھ طبقے کا !گردے نکال کر بیچنے والے  ڈاکٹروں سے لے کر اربوں کے قرضے معاف کروانے والوں تک اور نا اہلی کے اعلی درجے پر فائز سرکاری افسران سے لے کر آئی ٹی کی مدد سے فراڈ کرنے والے نوجوانوں تک، کون ہے جوپڑھا لکھا نہیں !ایک سادہ سا تجربہ کریں ۔ کسی بھی شعبے کے ڈگری یافتہ نوجوان کو کوئی کام دے کر آزمائیں ، اسے کچھ رقم بطور ایڈوانس دیں اورپھر دیکھیں کیا وہ وعدے کے مطابق کام مکمل کرتا ہے یا آپ کی رقم لے کر غائب ہو جاتا ہے ۔ایک دودھ پیتا بچہ بھی آپ کو اس  تجربہ کا انجام بتا دے گا۔  چلیں ملک توڑنے والوں کی ہی ایک فہرست بنا لیں اور وہ تمام نام شامل کر لیں جن پر سچا جھوٹا الزام ہے ۔کیا اِن میں سے کوئی ایک بھی ایسا تھا جواعلی تعلیم یافتہ نہیں تھا ؟ سب کے سب ایک سے بڑھ کر ایک علامہ اور غیر ملکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ، شیکسپئیر کے ڈراموں کے حافظ ، اور نتیجہ کیا نکلا اس ’’تعلیم یافتگی ‘‘ کا ۔۔۔۔ملک توڑ کے ہمارے ہاتھ میں پکڑا دیا ۔  ایک فہرست ملک کے تمام ڈکٹیٹرز کی کابینہ کے ممبران کی بھی بنائی جا سکتی ہے ۔کوئی ایسا ماہر معاشیات تھاکہ ورلڈ بینک والے بلائیں لیتے تھے توکسی کے پاس اقوام متحدہ کا اقامہ تھا،  کوئی  آئی ایم ایف کا دامادتھا تو کسی کی قانون کی ڈگریوں کی تعداد اُن روٹیوں سے زیادہ تھی جو غریب آدمی ایک وقت میں کھا سکتا ہے ۔آئین شکن آمروں کی گود میں بیٹھنے والے یہ سب پڑھے لکھے تھے  ، ان میں کوئی ان پڑھ نائی ، موچی ، دھوبی ، بھنگی  یا خاکروب  نہیں تھا۔دراصل ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اعلی کالجوں اور جامعات سے ملنے والی سند حاصل کرنے والے  انسان تعلیم یافتہ تو ہوتے ہی ہیں مگر ساتھ ہی ان میں آٹومیٹکلی شعور  بھی آ جاتا ہے ۔اس پڑھی لکھی  منطق کی رو سےسرکاری افسرا ن کو مستعد ہونا چاہئے ،پڑھے لکھوں کے پوش علاقوں کو صفائی سھترائی کاماڈل ہونا چاہئے،یونیورسٹی کے نوجوانوں کو حسن و اخلاق کا پیکر ہونا چاہیے جبکہ عبدالستار ایدھی کو جاہل کہنا چاہئے کہ اس کے پاس کیمبرج یا آکسفورڈ کی ڈگری نہیں تھی ۔تیس برس سے بچوں کو اسلام آباد کے پارک میں پڑھانے والا کوئی ہاورڈ کا سند یافتہ نہیں بلکہ  ایک معمولی سکول سے فارغ التحصیل نان گزیٹڈ  نوکری پیشہ شخص ہے جو اپنی تنخوا ہ کا ایک تہائی حصہ اِن بچوں کی تعلیم پر خرچ کر دیتا ہے ۔

        چلئے ہمارا تو پورا معاشرہ ہی ڈنگر ہے ، کیا پڑھے لکھے اور کیا ان پڑھ ،سو اپنے محبوب ملک امریکہ چلتے ہیں ۔صدر جارج بش کی قیادت میں  جس امریکی کابینہ نے عراق پر حملے کی منصوبہ بندی اس بنیاد پر کی کہ وہاں ایٹمی ہٹھیار ہیں جو بات بعد میں جھوٹ ثابت ہوئی ، اس میں ڈانلڈ رمز فیلڈ ، کولن پاؤل ، کونڈولیزا رائس اوررابرٹ گیٹس جیسے لوگ شامل  تھے ۔کیا اِس سے زیادہ پڑھی لکھی قیادت  ممکن  ہو سکتی ہے ؟ نتیجہ ۔لاکھوں انسانوں کی موت۔ سلسلہ ہنوز جار ی ہے ۔

        جی نہیں  ، مقدمہ یہ نہیں کہ بچوں کو تعلیم نہ دی جائے ۔ سکول کالج کئ تعلیم آغاز ہے ، انجام نہیں ۔ ڈگری اچھی ہو تو زندگی بہتر گذر سکتی ہے مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ انسان دوستی ، شعور ، دانائی ، شائستگی ،ایمانداری اور اخلاق بھی ڈگری کے ساتھ مفت مل جاتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر دنیا میں کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا۔ یہ خصوصیات پڑھے لکھے شخص میں بھی ہو سکتی ہیں اور کسی ان پڑھ میں بھی، کوئی بھی فرشتہ نہیں ہوتا ، بشری کمزوریاں ہر کسی میں ہوتی ہیں ، مگر پڑھے لکھوں پر قانون کی عمل داری اور اخلاق برتنے کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، کسی کالج کا نوجوان جب اپنے مخالف نقطہ نظر کے لوگوں کو ماں بہن کی گالیاں دے گا تو اسے ہم شعور نہیں جہالت کہیں گے اور ایسے رویے کا جواز فراہم کرنے والے کو امام الجاہلین۔

        اور مقدمہ یہ بھی نہیں تمام پڑھے لکھے لوگ ہی ملک میں ہونے والی تمام خرابی کے ذمہ دار ہیں ۔بے شک جان بچانے والے ڈاکٹر پڑھے لکھے  ہیں اور سرحدوں کی حفاظت پر مامور فوجی بھی ، جانفشانی سے کام کرنے والے سرکار ی اہلکار بھی پڑھے لکھے ہیں اور سائنسی ایجادات کرنے والے بھی ۔یہ لوگ اگر نہ ہوں تو ملک کا انتظام و انصرام ہی نہ چل پائے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرے کے ان پڑھ طبقے کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے کہ اُن کی ’’جہالت ‘‘ کی وجہ سے نظام میں بہتری نہیں آتی، یہ فرسودہ اور بد بودار دلیل دراصل نظام کو اکھاڑنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے مگر اسے استعمال کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں  کہ اس ملک میں آئین کی بالادستی کی جدو جہد ہمیشہ ان پڑھ عوام نے کی ہے ، پڑھے لکھے تو آمروں کی گود میں انگوٹھے چوستے  رہے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے اِن پڑھے لکھوں کا اب نشہ ٹوٹ رہا ہے ، عوام کو اِن سے ہشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *