پاکستان : عدم برداشت والوں کی زمین ہے

m hanifمحمد حنیف
یہ ملک ہمیشہ سے اپنے مذہبی اقلیتوں کی حفاظت میں ناکام رہا ہے لیکن احمدیوں کے معاملے میں تو ہم حد کر دیتے ہیں۔اس فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں جبکہ ہم مسلمان اُنہیں بد ترین بدعقیدہ سمجھتے ہیں اور اُن سے ویسا ہی رویہ اپناتے ہیں۔
جس دن میں نے نے یہ آرٹیکل لکھاتھا اُس دن اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر میری نظروں سے گزری جس میں لکھا تھا کہ ایک احمدی وکیل، اُس کی بیوی اور دو سال کے بچے کو صرف احمدی ہونے کی وجہ سے اسلحہ برداروں نے گھر میں گھس کر قتل کر دیا۔اس طرح کے واقعات اتنی دفعہ ہو چکے ہیں کہ اس خبر کو اہم خبروں کا حصّہ تک نہیں بنایا گیا۔28مئی 2010کو قریباََ 90احمدیوں کودو مسجدوں پر حملہ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔کسی عوامی نمائندے نے جناے میں شرکت کرنے کی زحمت نہیں کی۔
آپ یہی سمجھیں گے کہ حکومت ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں اس قتلِ عام کو روکنے کے لئے ضرور کچھ کریں گی۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ایک اور ہیڈلائن سے مجھے یہ پتہ چلا کہ مشرقی پنجاب میں لاہور کے پاس ایک ضلعی عدالت نے تین احمدیوں کو توہینِ رسالت کے قانون کے تحت سزائے موت سنائی جبکہ اُن کا چوتھا ساتھی پولیس کی تحویل میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔اب اُنہوں نے توہینِ رسالت میں کیا کہا یہ کوئی پتہ نہیں کر سکتا کیونکہ اُن کی کہی بات کو دہرانے سے بھی توہینِ رسالت ہو جاتی ہے۔ایک اخبار کے مطابق وہ چاروں دیوار پر سے احمدیوں کے خلاف لگے پوسٹرز اُتار رہے تھے۔ جی وہ صرف پوسٹرز اُتار رہے تھے اسلئے اُن کو سزائے موت سنائی گئی۔
احمدی فرقہ مرزا غلام احمد نے اُنیسویں صدے کے اواخر میں بھارت کے علاقے قادیان میں ایک اصلاحی تحریک کے طور پر بنایا تھا۔احمد کا دعویٰ تھا کہ وہ وہی مسیح ہے جس کے دوبارہ زمین پر آنے کے بارے میں قران میں بات کی گئی ہے۔یہ مسلمانوں کے عقیدے کی نفی تھی جن کا یہ ماننا ہے کہ رسولﷺ آخری نبی ہیں اور اُن کے بعد کوئی نبی اس دنیا میں نہیں آئے گا۔غلام احمد کو برطانوی راج کا جاسوس بھی کہا جاتا تھا۔
اب تک ایسے کوئی قابلَ بھروسہ اعداد و شمار موجود نہیں جن سے یہ پتہ لگ سکے کہ پاکستان میں قادیانیوں کی آبادی کتنی ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق یہ آبادی 4 سے پانچ لاکھ ہو سکتی ہے۔
سال1974میں پاکستان کے منتخب پارلیمان نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔اس فیصلے کی منظوری کے لئے مذہبی جماعتوں نے ہر گلی محلے میں جلسے جلوس نکالے اور تحریک چلائی ۔ حالانکہ اُس وقت کی پارلیمان کافی آزاد خیال تھی لیکن پھر بھی اس فیصلے کے خلاف ایک آواز بھی نہیں اُٹھی۔
پچھلے ہفتے محمد صفدر نے ، جو کہ تازہ تازہ نا اہل ہونیوالے وزیرِ اعظم کے دامادہیں، احمدیوں کے خلاف خوب گرجتے ہوے کہا کہا احمدیوں کو تو فوج میں بھی بھرتی نہیں کرنا چاہئیے۔ساتھ ساتھ اُن کایہ بھی کہنا تھا کہ اسلام آباد یونیورسٹی کے شعبہِ فزکس کا نام بھی تبدیل کر دینا چاہئیے۔ یہ شعبہ فی الحال پاکستان کے سب سے پہلے نوبل انعام پانے والے سائنسدان عبدالسلام کے نام پر ہے اورپچھلے چالیس سال سے پاکستانی حکومت نے ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر کچھ نہیں رکھا کیونکہ وہ احمدی تھے۔اس کیس میں بھی پارلیمان کے کسی رکن نے بھی کیپٹین صفدر کے خلاف ایک لفظ نہیں نکالا۔
اس مہینے کے آغاز میں پالیمان نے پاسپورٹ بنوانے یا الیکشن لڑنے کے لئے اُٹھائی جانے والے حلف میں بھی تبدیلی کر دی۔حلف کے الفاظ کچھ یوں ہے ’’ میں یہاں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک جھوٹا نبی ہے اور اُس کے ماننے والے، خواہ وہ ’’لاہوری‘‘ ہوں یا ’’قادیانی‘‘، غیر مسلم ہیں۔جس میں ’’ میں یہاں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں‘‘ کو بدل کر ’’مجھے یقین ہے‘‘ کر دیا گیا تھا۔ ایسا کیوں کیا گیا اس کی کوئی وجہ تو سامنے نہیں آئی لیکن پارلیمان کی طرف سے بعد میں کہا گیا کہ کسی کلرک سے غلطی ہو گئی تھی لیکن عوام کی طرف سے اس پر بہت غصّے کا اظہار کیا گیااور کہا گیا کہ حکومت احمدیوں کے ساتھ نرمی برت رہی ہے۔ اس لئے حلف کے الفاط کوفوراََ واپس ’’میں یہاں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں‘‘ کر دیا گیا۔
ہمارے پارلیمان میں لفظ احمدی تو استعمال کیا ہی نہیں جاتا۔ بلکہ ہمیشہ لفظ قادیانی استعمال کیا جاتا ہے۔ اب احمدیوں کو یہ لفظ پسند نہیں اسلئے ہم شائد یہی استعمال کرتے ہیں۔
مجھے پچھلے دنوں انڈیا سے میرے رشتے دار کی کال آئی کہ میرے بارے میں پوچھنے کوئی اجنبی شخص اُن کے گھر آیا تھا۔اُنہوں نے بتایا کہ وہ لڑکا کہہ رہا تھا کہ وہ میرا سکول کا دوست ہے۔ ابھی میں اسی شش و پنج میں تھا کہ وہ کون ہو سکتا ہے کہ میرے رشتے دار نے مجھ سے پوچھا’’ کیا تمھارا دوست قادیانی ہے؟‘‘
اور اچانک سے مجھے میرا ایک سکول کا دوست یاد آیا جو قادیانی تھا۔میں نے اپنے رشتے دار سے پوچھا کہ اُن کو کیسے پتہ چلا کہ وہ قادیانی ہے؟ جس پر اُنہوں نے ایک حیران کن جواب دیا ’’ کہ میرے اندر قادیانی سونگھنے کا آلہ لگا ہوا ہے ، میں اُنہیں ہمیشہ سونگھ لیتا ہوں‘‘۔
میرا دل کیا کہ میں اپنے رشتے دار کو یاد کراؤں کہ جب میں بچہ تھا تب وہ ایک لڑکے تھے اور اُن کے تمام دوست جن کے ساتھ وہ سارا دن کھیلتے تھے، تمام احمدی تھے اور میں نے خود اُن کو ہمارے سکول کے باتھ روم میں اُن لڑکوں کے ساتھ مل کر سیگریٹ پیتے دیکھا تھا۔
یہ کوئی سال1974کی بات ہے جب میں ایک نوسال کا بچہ تھا اور قران کا سبق پڑھ رہا تھا۔ میرے اُستاد بہت نفیس انسان تھے۔اُس دور میں کچھ مظاہرین لوگوں کو بازار میں اُکسا رہے تھے کہ احمدیوں کی دکانوں سے خریداری نہ کی جائے۔ میں نے اپنے معلم سے پوچھا کہ احمدی کون ہوتے ہیں؟ اُنہوں نے بڑے تحمل کے ساتھ مجھے سمجھایا کہ یہ لوگ بدعقیدہ ہیں کیونکہ وہ اس امر کا انکار کرتے ہیں کہ محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔میں نے کہا کہ اگر وہ بدعتی ہیں بھی تو کیا یہ اسلام کی تعلیم ہے کہ اُن کی دکان سے خریداری نہ کی جائے؟ سوال کے جواب میں پڑنے والا تھپڑ زناٹے دار تھا۔
جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا احمدی اصلاحی مسلمانوں سے غیر مسلم اور پھر کافر ہو گئے بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں سے بھی نچلے درجے میں چلے گئے۔ حد تو یہ ہے کہ1980میں یعنی احمدیوں کو غیر مسلم قرار دئیے جانے کے کوئی دس سال بعد کچھ اور قوانین ایسے بنائے گئے جن میں احمدیوں کو کہا گیا کہ اُنہوں نے مسلمانوں جیسے کام بھی نہیں کرنے۔
اب یہ آسان نہیں تھا کیونکہ احمدی اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں اوراُن کی رسومات بھی مسلمانوں جیسی ہی ہیں۔وہ مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں، وہ نماز کے وقت پر اذان بھی دیتے ہیں، وہ السلامُ اعلیکم بھی کہتے ہیں اوروہ بھی اللہ کے احکامات اور مرضی کی بات کرتے ہیں اور جب جب وہ ایسا کچھ کریں گے تو وہ اپنی سر زمین کے قوانین کی خلاف ورزی کریں گے ۔اگر اپنی مسجد کو مسجد کہیں گے تو وہ مجرم قرار دے دئیے جائیں گے۔اگر وہ اپنی نماز کو مسلمانوں کی طرح نماز ہی کہیں گے تو اُن کو قید ہو سکتی ہے اورتو اور اگر وہ اپنے شادی کے دعوت ناموں پر قران کی آیت شائع کریں گے تو وہ توہینِ مذہب قرار دی جائے گی۔
اس مہینے کے آغاز میں ہی میں نے پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ محمد آصف کا ٹی وی پر ایک انٹرویو دیکھا۔وہ ابھی امریکہ کے دورے سے لوٹے ہیں اور اُن پر الزام ہے کہ اُنہوں نے وہاں احمدیوں سے چھپ کر ملاقاتیں کی ہیں۔وہ بے حد دردناک انداز میں بیان کر رہے تھے کہ وہ تو آج تک کسی احمدی سے ملے ہی نہیں ہیں۔اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لئے اُنہوں نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک دفعہ وہ اسلام آباد میں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے کہ دو لڑکے اُن کے ساتھ تصویر کھنچوانے کے لئے آئے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ تصویر اُتروانے سے پہلے اُنہوں نے لڑکوں سے یہ پوچھا کہ وہ کہیں قادیانی تو نہیں؟اور پھر وزیرِ خارجہ اور پروگرام کا میزبان دونوں اونچا اونچا ہنسنے لگے۔
میں نے ایک پرانے احمدی دوست کو کچھ دنوں پہلے کال کی اور اُس سے تھوڑی دیر بات چیت کی جومبینہ توہینِ مذہب کے قوانین کے برخلاف تھی۔وہ تو بالکل مسلمانوں کی طرح بات کر رہا تھا۔اُس نے بات کا آغاز السلامُ اعلیکم کہہ کر کیا۔اُس نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اُس کی نوکری قائم ہے ہاں مگرجب لوگوں کو کبھی شک ہوتا ہے کہ وہ احمدی ہے تو لوگ اُس کو دکانوں اور کاروباری میٹنگز سے باہر نکال دیتے ہیں۔لیکن وہ بولا کہ اللہ بہت رحمدل ہے اسلئے شائد اُس کی بیوی کی نوکری ابھی قائم ہے جو پیشے سے فیشن ڈیزائنر ہے۔ اُس نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ بچے بھی ٹھیک ہیں لیکن اُس نے اپنے بچوں کو سختی سے سمجھایا ہے کہ کسی بھی صورت میں وہ کسی کو نہ بتائیں کہ وہ احمدی ہیں چاہے کوئی اُن کا بہترین دوست ہی کیوں نہ ہو۔
اُس نے مجھے بھی یہ کہہ کر تسلی دی کہ یار ہمارے حالات اُتنے خراب نہیں جتنے شیعہ کے ہیں دیکھا اُن کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ وہ بھی تو اپنے عقائد کی وجہ سے مارے جارہے ہیں۔
پاکستان اسلئے وجود میں آیا تھا تاکہ مسلمانوں کے مذہبی اور معاشی حقوق کو پامال ہونے سے روکا جائے کیونکہ انڈیا کی علیحدگی سے پہلے مسلمان ایک اقلیت تھے۔لیکن نیا ملک بننے کے بعد ہم نے نئی اقلیتیں ڈھونڈ لیں اور اب اُن پر ستم کرنے کے نئے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

بشکریہ:دی نیویارک ٹائمز

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *