شہر کراچی کی ’’بلّے بلّے‘‘ ہو گئی

غالباً اس واقعہ کو گزرے 9برس photo-nusrat-javed-sb-6-2ہوچکے ہوں گے۔ ایک ٹی وی نیٹ ورک پر میرا شو ہفتے کے 4نہیں 5دن ہوا کرتا تھا۔ جس دن میرا Offتھا اس روز لندن میں کئی برسوں سے مقیم ”بھائی“ نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کافیصلہ کیا۔پانچ گھنٹوں تک پھیلے اس مسلسل خطاب میں ”کام“ کی بات موصوف کا جھومتے ہوئے انتہائی بے سُری آواز میں ”پردے میں رہنے دو“ والا فلمی گیت گانا تھا۔
مجھے حکم ملا کہ اس تقریر کا ”تجزیہ“ کرنے کے لئے ایک خصوصی پروگرام کیا جائے۔ بہت ٹال مٹول سے کام لینے کے باوجود حکم عدولی نہ کرپایا۔ پروگرام شروع کیا تو موصوف سے بھی زیادہ اپنی بے سُری آواز میں ”پردے میں رہنے دو“ گاتے ہوئے غصے سے پھٹ پڑا۔ سوال میرا یہ تھا کہ بحیثیتِ قوم ہم کب تک سانس روکے کئی گھنٹوں کی وہ تقاریر برداشت کرتے رہیں گے جو لندن میں بیٹھا ”بھائی“ جب چاہے Liveنشریات کے ذریعے ہم پر مسلط کردیتا ہے۔
”بھائی“ کے خوف اور دہشت سے میرا یہ پروگرام مکمل نہ ہوپایا۔ پہلی بریک کے بعد ہی ختم کردیا گیا۔ جس نیٹ ورک پر میں شکوہ کررہا تھا اس کاہیڈ کوارٹر کراچی میں ہے۔ 400کے قریب سٹاف وہاں ملازم ہے۔ ان سب کی زندگیاں میری بدزبانی وگستاخی کی وجہ سے خطرے میں آئی محسوس ہوئیں۔ صحافتی اکڑ فوں اور پھنے خانی کے نشے میں لیکن میں یہ سب حقائق یاد نہ رکھ پایا۔ ایک اور ٹی وی کے پروگرام میں جاکر Moreoverوالی واہی تباہی بکنا شروع ہوگیا۔
کراچی میں مقیم اپنے ساتھیوں کی مجبوریاں بالآخر یاد آئیں تو دل ہی دل میں بہت شرمندگی محسوس ہوئی۔ خلقِ خدا کی اکثریت مگر واہ واہ کے ڈونگرے برساتی رہی۔ کئی چاہنے والوں نے مختلف ذرائع سے رابطہ کرکے پیغام دیا کہ میری صورت میں وطن عزیز میں بالآخر ”ایک شیر کا بچہ“ پیدا ہوگیا ہے جس نے لندن میں مقیم شخص کی پھیلائی دہشت کو ”مردانہ وار“ للکارنے کی جرا¿ت دکھائی ہے۔ نظر بظاہر میں اس تعریف کی وجہ سے اتراتا پھرا۔ دل مگر حقائق کو جانتے ہوئے بجھ سا گیا تھا۔ اپنے بچوں پر نگاہ ڈالتا تو اکثریہ خیال بھی آتا کہ ”موسم“ آئے تو ”نخل دار“کے لئے میں اپنا سر ہی دینے کو تیار کیوں ہوجاتا ہوں۔
زندگی بڑی قیمتی شے ہے۔ ربّ کریم نے بخش دی ہے تو اس سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ زندگی سے لطف اٹھانے کے لئے مگر ”گیدڑ“ ہونا بھی ضروری ہے۔جو شیر کی طرح پھوں پھاں نہ کرے تو سو سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔ مجھے شیر بننے کا کوئی شوق نہیں۔ اپنی ”اوقات“ میں رہتے ہوئے صرف اتنا سچ لکھنا اور بولنا چاہتا ہوں جس کی حدود طے ہیں۔ ریڈ لائن کراس نہیں کرنا چاہتا۔
لندن والے بھائی کا ”مکو“ اب چند برسوں سے ”ٹھپا“ جاچکا ہے۔ Liveنشریات کے بے تحاشہ گھنٹے اب صرف عمران خان کے جلسوں کا حق بن چکے ہیں۔ تحریک انصاف کے ”ہاکیوں والے“ سوشل میڈیا پر بھی بہت طاقت ور ہیں۔ عمران خان کے چاہنے والوں کی نظر میں یہ ہاکیوں والے مجھے ”لفافہ“ اور ہوس بھری زندگی گزارنے والا بدطینت شخص ثابت کرچکے ہیں۔ لکھنے اور ٹی وی پر بولنے کی سہولت مگر ابھی تک میسرہے اور ان دونوں کی وجہ سے میری ماہوار آمدنی بھی معقول اور مناسب ہے۔ ”فیر پچھّوں کردا پھراں ٹکور تے فیدا کی؟“والا رویہ اپنا لیا ہے۔
بدھ کے روز مگر دل وحشی نے ہر رگِ جاں سے ٹپکنا چاہا۔ مولا جٹ کا مصطفےٰ قریشی یاد آگیا جو جیل کی سلاخوں سے اپنے جسم کو رگڑتا”میرا وی کوئی دشمن ہوئے“ والی فریاد کرتا ہے۔ صد شکر کہ میرے 8سے 9بجے والے ٹی وی Slotکی باری نہیں آئی۔ میں سوٹ اور ٹائی پہنے سٹوڈیو میں بیٹھا کراچی پریس کلب سے ٹی وی سکرینوں پر Liveدکھائے مناظر کو دیکھنے کے بعد خاموشی سے بدھو کی طرح گھر لوٹ آیا۔
بدھ کی دوپہر سے ٹی وی سکرینوں پر شور برپا ہونا شروع ہوگیا تھا۔ ایم کیو ایم کے ساتھ پاکستان کا لاحقہ لگاکر اسے بچالینے کے دعوے دار فاروق ستار- جنہیں اس ملک کی خود کو ”سب پر بالادست“ کہلاتی پارلیمان میں پتنگ کے انتخابی نشان پر منتخب ہونے والوں کی ایک معقول تعداد کی حمایت بھی میسر ہے- بالآخر مصطفےٰ کمال کی ”پاک سرزمین پارٹی“ کے نام پر چلائے دھوبی گھاٹ سے رجوع کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔
مصطفےٰ کمال اور فاروق ستار نے شب 6بجے کراچی پریس کلب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا۔ تجزیے شروع ہوگئے۔ سوال یہ اٹھا کہ ”شہر کراچی“کی آواز ہونے کی دعوے دار جماعتیں ایک دوسرے میں مدغم ہوکر ”پاکستان “ کو بچانے اور سنوارنے کے سفر پر روانہ ہوں گی یا فی الوقت ایک اتحاد کی صورت کام کریں گی۔ اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے ٹی وی سکرینوں پر ہر موقعہ کی غزل منہ زبانی سنانے والے کلاکاروں نے طویل بھاشن دیئے۔ دریں اثناءLive Cutsبھی ہوتے رہے۔ فاروق بھائی کی اپنے ساتھیوں سے مشاورت۔ فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنی ہٹی پر آتے مصطفےٰ کمال۔ طے یہ ہوا کہ ان کی چلائی جماعتوں کے مابین ”شادی“ ہورہی ہے۔ فاروق ستار ”لڑکی“ والے ہوگئے۔ مصطفےٰ کمال نے ”دلہنیا“ وصول کرنا تھی۔ وہ ”دلہن“ والوں سے ملنے کافی دیر لگاکر کراچی پریس کلب تشریف لائے۔ پندرہ منٹ سے زیادہ ان کی بلٹ پروف لینڈ کروزر کو پریس کلب کی گلی میں پہنچ کر وہاں کے لان تک پہنچنے میں صرف ہوئے۔
ہمارے تمام ٹی وی نیٹ ورکس نے جن کے لئے اشتہاروں کا ایک سیکنڈ بھی آکسیجن کی طرح لازمی ہوتا ہے اپنے کیمروں کو موصوف کی آمد پر فوکس کئے رکھا۔ شیر کی آمد تھی۔ رن کانپ رہا تھا۔ پشاور سے کراچی تک پھیلے 22کروڑ عوام مصطفےٰ کمال کی آمد کو خود کو بہت ہی آزاد اور بے باک کہلاتے ٹی وی چینلوں کی سکرینوں پر دیکھنے کو مجبور تھے۔ گزرے کئی برسوں تک صرف ایک ”بھائی“ خود کو ٹی وی سکرینوں کے ذریعے ہم پر گھنٹوں مسلط رکھتا تھا۔ اب خیر سے دو بھائی ہو گئے ہیں۔ ”شہر کراچی“ کی بلّے بلّے ہو گئی۔ خدا روشنیوں کے اس شہر کی جو کئی حوالوں سے مجھے اپنے آبائی لاہور سے بھی زیادہ عزیز ہے، رونقیں دائم آباد رکھے۔
اس کالم کے قارئین مجھ سے مگر”خبر“ اور ”حقائق“ جاننا چاہتے ہیں۔ ان کا حق سرآنکھوں پر لیکن میری مجبوریوں کو ذہن میں رکھیں۔ سوال صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ بدھ کی صبح تک وہ کون سی ”انہونی“ ہو گئی تھی جس نے فاروق ستار کو مجبور کردیا کہ وہ اپنے لشکر سمیت مصطفےٰ کمال سے عفوودرگزر اور پناہ کی فریاد کرنے پر مجبور ہو گئے۔ فاروق ستار کی مشکلات کو جانتے ہوئے مجھے سوال یہ بھی اٹھانا ہے کہ مجھ ایسے عام پاکستانیوں کو ایک بیگانی شادی کا زبردستی گواہ کیوں بنایا گیا؟ اس سوال کا جواب مجھے معلوم ہے مگر گیدڑ کی زندگی سو سال تک پھیلائی جا سکتی ہے اور مجھے شیر بن کر صرف ایک دن زندہ رہنے کا ہرگز کوئی شوق نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *