مَرن دا شوق

میاں نواز شریف گزشتہ 32سال sohail warraichسے پاکستانی سیاست کے بڑے شہسوار رہے ہیں طویل عرصے تک پنجاب پر حکمرانی کی اور پھر تین مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہو کر نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ جس دن سے وہ وزارت عظمیٰ سے ہٹےہیں اس دن سے زبردست مزاحمتی سیاست کر رہے ہیں جی ٹی روڈ پر ریلی کا فیصلہ ہو یا پارٹی کا سربراہ بننے کا حربہ یہ ان کی ماہرانہ سیاست کا ثبوت ہیں لیکن دوسری طرف اگر ان کی قانونی جنگ کا تجزیہ کیا جائے تو وہ اس میں مکمل طور پر ناکام نظر آتےہیں جب سے پاناما کا معاملہ سامنے آیا ہے اس کے حوالے سے جتنے بھی فیصلے کئے ان میں خامیاں اور فاش غلطیاں نظر آتی ہیں۔ اور کبھی کبھی تو مسلم لیگ ن کے ان فیصلوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف اقتدار کے بام عروج پر پہنچنے کے بعد اپنے کیریئر کا گولڈن خاتمہ چاہتے ہیں۔ منیر نیازی نے کہا تھا کہ ’’کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی‘‘ ایک وقت آتا ہے کہ جب شہر ظالم ہو جائے تو مظلوم کو بھی مرنے کا شوق پیدا ہوجاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ’’تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں‘‘ نواز شریف ستائش کی تمنا اور صلے سے بے پرواہ ہو کر امر ہونے کی جانب گامزن ہیں بار بار کی قانونی شکستیں ان کے عزم کو کمزور نہیں کررہی بلکہ اس سے تو ان کا مشن پورا ہو رہا ہے۔
آیئے ذرا نواز شریف کے ذہن کا جائزہ لیں اور دیکھیں وہاں کیا کشمکش چل رہی ہے پاناما کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کافیصلہ نہیں آیا تھا مگر جے آئی ٹی رپورٹ آ چکی تھی ۔سب کو نظر آ رہا تھا کہ نواز شریف رخصت ہونے والے ہیں مگر خود میاں نواز شریف کو کامل یقین تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا یہ تجاہل عارفانہ تھا، توکل کا مظاہرہ تھا یا پھر وہی ’’مرن دا شوق؟‘‘ کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف نے پاناما انکوائری سپریم کورٹ میں کروانے کی پیش کش کی تو چودھری نثار علی نے اس سے منع کیا یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وزیر داخلہ نے پاناما کے حوالے سےپارلیمان میںبیان دینے اور بچوں کے انٹرویو دلوانے پربھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ یہ بات بھی انتہا ئی باوثوق ذرائع سے کہی گئی ہے کہ جب سپریم کورٹ نے دو فوجی افسروں سمیت جے آئی ٹی بنائی تو پیغام آیا کہ آپ اسے چیلنج کردیں مگر اسے چیلنج نہ کیا گیا نہ ہی اس پر احتجاج کیا گیا خود فوج چاہتی تھی کہ اس کے افسران کو جے آئی ٹی کا حصہ نہ بنایا جائے اور اس حوالے سے عدالت عظمیٰ کو خط لکھنا چاہتی تھی کہ اس کے افسران کو متنازعہ امور میں ملوث نہ کیا جائے مگر قانونی ماہرین نے کہا کہ ایسا کرنا توہین عدالت ہوگا۔ یہ بھی سچ ہے کہ قانونی ٹیم کے سامنے یہ معاملہ آیا کہ جے آئی ٹی کا بائیکاٹ کرنا بہتر ہوگا یا نہیںتو قانونی ٹیم نے انکوائری میں شامل ہونے پر زور دیا۔ اب یہ تجزیہ کرنا بالکل درست ہوگا کہ قانونی ٹیم کا یہ مشورہ ماننا نواز شریف کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ قانونی ٹیم نواز شریف کو قانونی خودکشی کی طرف دھکیلتی رہی۔ جے آئی ٹی کو بیرون ملک سے دستاویزات منگوانے کے لئے میوچل اسسٹنٹس قرار داد کی ضرورت تھی میاں نواز شریف نے خود کابینہ کی سربراہی کرتے ہوئے جے آئی ٹی کو اپنے خلاف بیرون ملک سے دستاویزات منگوانے کی اجازت دی، اسے ’’مرن دا شوق‘‘ کے علاوہ کیا کہیں گے؟ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ مقدمے کوطول دینے سے نواز شریف کا بہت نقصان ہوا قانونی ٹیم عقل مندی سے کام لیتی تو یہ معاملہ چیف جسٹس جمالی ہی کے دور میں ختم ہوجاتا مگر قانونی ٹیم نے حالات کا صحیح اندازہ نہ لگایااور یہ سنہری موقع ضائع کردیا۔ قطری خط کے معاملے پر بھی قانونی ٹیم کا اندازہ مکمل طور پر غلط ثابت ہوا۔ قانونی ٹیم کا خیال تھا کہ قطری خط پیش ہوتے ہی منی ٹریل کا مسئلہ حل ہو جائے گا مگر قانونی ٹیم کی یہ رائے غلط ثابت ہوئی اسی طرح وٹس ایپ پیغام کے ذریعے جے آئی ٹی بنانے کے معاملے پر جو احتجاج ہونا چاہیے تھا وہ نہ ہو سکا اور یہ معاملہ جے آئی ٹی کی کارروائی میں حاضر ہونے سے دب گیا۔ پھر اسی قانونی ٹیم نے نظرثانی درخواست دائر کرکے ایک نئی چارج شیٹ لگوالی جب انہیں اندازہ تھا کہ نتیجہ ایسا ہی ہوگا تو پھر یہ نظرثانی درخواست دائر کیوں کی؟ یہی قانونی ٹیم تھی جس نے میاں نواز شریف کو خطرے کا احساس تک نہیں ہونے دیا انہیں یہی یقین دلاتے رہے کہ فیصلہ آپ کے خلاف آ ہی نہیں سکتا۔ حد تو یہ ہے کہ قانونی ٹیم کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ فیصلے سے میاں نواز شریف کی حکومت کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ ان کا اندازہ تھا کہ نہ میاں نواز شریف نااہل ہوں گے اور نہ کوئی مانیٹرنگ جج مقرر ہوگا۔ ان کا خیال تھا کہ زیادہ سے زیادہ نیب کو ہدایت کی جائے گی نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات احتساب عدالتوں میں بھیج دیئے جائیں، نواز شریف کو جب نااہلی، مانیٹرنگ جج اور مقدمات کےفیصلے کے لئے چھ ماہ کی میعاد کا پتہ چلا تو انہیں فیصلے پر شدید حیرانی ہوئی۔
کہا جاتا ہے کہ نواز شریف نے پاکستان کی بہترین قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کی ہیں لیکن پے در پے قانونی جنگ ہارنے کے بعد ایک نئی اور تازہ اپروچ کی ضرورت ہے۔ نواز شریف کا سیاسی مقدمہ بہت زبردست ہے مگر قانونی مقدمہ بہت کمزور ہے۔ نہ صرف یہ کہ ان کے وکلا کی ٹیم فاضل جج صاحبان کو متاثر کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ عوامی تاثر میں بھی وہ منی ٹریل کو ثابت نہیں کرسکے۔ ظاہر ہے کہ ہر کوئی اپنے بھلے میں بہتر سوچتا ہے لیکن اگر کسی معاملے میں بار بار ناکامی ہو رہی ہو تو اسے دوسرے طریقے سے سلجھانے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔ قانونی ٹیم بدل کر دیکھیں ہوسکتا ہے کہ کوئی نئی قانونی راہ بھی نکل آئے۔
نواز شریف آج کل ’’مرن دا شوق‘‘ کے جس جوش و جنون میں ہیں اس سے ان کے حریفوں کو ڈرنا چاہیے جب کسی سیاستدان میں یہ جذبہ پیدا ہو جائے تو پھر وہ اکبر بگتی یا ذوالفقار علی بھٹو بن سکتا ہے وہ اپنی زندگی اور موت سے ماورا ہو کر جنگ لڑتا ہے بظاہر وہ جنگ ہار جاتا ہے اسے عملی طور پر شکست ہو جاتی ہے مگر یہی شکست اسے اخلاقی اور سیاسی سطح دلا دیتی ہے وہ تاریخ میں امر ہو جاتا ہے جبکہ اسے مخالف تاریخ میں ولن ٹھہرائے جاتے ہیں۔
آئیں ذرا رک کر ہم سب سوچیں ، کیا ہم پھر ایک نیا بگتی یا نیا بھٹو بنانا چاہتے ہیں، کیا ہم دوبارہ سہروردی یا نون جیسا سلوک کرنا چاہتے ہیں، کیاہم پھر سے وہی کچھ کرنا چاہتے ہیں جو 70سال ہوتا رہا ہے یا پھر اس بار ایسا نہیں ہونے دینا چاہیے؟؟؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *