ایکٹر ان لا کے بعد۔۔۔ایکٹرز ان ٹیچنگ

ایک وہ زمانہ بھی گزرا ہو گا جب تہذیب اپنی جدت اختیار کر رہی تھی، اور ایک زمانہ اب ہے بعد از جدیدیت یعنی پوسٹ مارڈنزم ۔ یہ سچ ہے کہ اس زمانے میں بہت سے بنے بنائے نظام اپنی شکل بدل رہے ہیں۔ تحقیق ایک ڈسپلن سے نکل کرایک سے زائد مضامین کو اپنے اندر سمو رہی ہے، کمپیو ٹر اور انٹرنیٹ نے  فاصلاتی دنیا تو جوڑی ہی تھی اب وقت اور زمانے کے فاصلے بھی کم ہوتے نظر آتے ہیں۔۔۔  انسان بہتر سے بہترین کے سفر پر گامزن ہے، ترقی پزیر ممالک اور ترقی یافتہ ممالک میں ایک خاص فرق جدیدیت ہے۔ پاکستان ابھی اس سفر میں ہے اور بہت سے نظام ہائے کار جب بن رہے ہوں تو ان میں توڑ پھوڑ بعد از جدیدیت نہیں بلکہ ماضی کی طرف سفر کے مترادف ہو سکتا ہے۔ سوال بہت سادہ سا پہے کیا آپ اپنی کار ایک فزکس میں ایم ایس سی کرنے والے سے ٹھیک کروا سکتے ہیں؟ یا کیا آپ اپنا علاج بائیالوجی میں ایم ایس سی کرنے والے سے کروا سکتے ہیں؟ یہ وہ شعبہ ہائے زندگی ہیں جن کے لیے پیشہ ورانہ تعلیم ہونا ضروری ہے۔ ایک ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، ڈینٹسٹ یا سائیکالوجسٹ اور سائیکائٹرسٹ اپنے اپنے شعبہ جات میں کم از کم چار سے چھ سال کی خصوصی تعلیم اور تربیت حاصل کرتے ہیں۔ وہ کام جو ایک سکول کرتا ہے، گھر پر نہیں کیا جا سکتا، وہ تعلیم جو پیشہ ورانہ  کالجزمیں دی جاتی ہے وہ سکولوں میں نہیں دی جاتی اور وہ تحقیق جو یونیورسٹیوں میں کی جاتی ہے وہ عام کالجز میں ممکن نہیں۔ جدیدیت نے ہمیں کچھ بہترین نظام ہائے زندگی دیے ہیں اور ان میں سے ایک نظام تعلیم ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی نظام اوراس کے امور میں بہتری کی گنجائش ہمہ وقت رہتی ہے لیکن بہتری کی کاوش میں نظام کو درہم برہم کرنا قطعا" سودمند نہیں ہو سکتا۔

حال ہی میں پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اساتزہ کی بھرتی کے لیے نئی پالیسیز  بننا شروع ہوئی ہیں اور اساتزہ کی آسامیوں کے اشتہارات ان پالیسیز کا ثبوت ہیں۔ نئی پالیسیز کے مطابق اساتزہ کو بغیر کسی پیشہ ورانہ تربیت کے بھرتی کیا جائے گا۔ یعنی سولہ سالہ تعلیم کے حامل افراد کو براہ راست ٹیچنگ میں آنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد سروس کے دوران ان کی ٹریننگ کی جائے گی۔ اس پالیسی کے بنانے والوں اور اس کی ترویج میں غالبا" وہی صوبائی، قومی اور بینالاقوامی ماہرین شامل ہیں جنہوں نے کروڑوں روپے لگا کر ۲۰۰۹ میں پیشہ ورانہ تربیت کے سٹیندرڈ مرتب کیے، پھر ۲۰۰۹ سے ۲۰۱۵ تک بہت سے ٹیچر ایجوکیٹرز کو پی ایچ ڈی اور ایم ایس کے لیے مزید کروڑوں روپے کے سکالرشپ دیے گئے، میں بھی ان میں سے ایک پی ایچ ڈی ہولڈر ہوں، ہمیں دنیا کی جانی مانی یونیورسٹیز میں زیر تربیت اساتزہ اور ٹیچر ایجوکیٹرز کے ساتھ پڑھنے، پڑھانے اور تحقیق کا موقع دیا گیا،اس کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر میں ٹیچر ایجوکیشن کالجز کے اساتزہ کے تربیتی پروگرامز پر بھی بہت سا وقت اور پیسہ صرف ہوا۔ بیرون ملک سے ماہرین کا آنا جانالگا رہا۔ پانچ سال کے عرصہ میں کہا یہ جانے لگا کہ ہم نے پاکستان میں ٹیچر ایجوکیشن کو ٹرانسفارم کر ڈالا ہے۔ ۲۰۱۰ میں پاکستان میں چار سالہ بی ایڈ متعارف کروایا گیا، جسے تمام ملک میں رائج کرتے کرتے چار سال لگ گئے؛ پہلے سے سولہ سالہ تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے ڈیڑھ سالہ بی ایڈ اور چودہ سالہ تعلیم کے بعد اڑھائی سالہ بی ایڈ ۲۰۱۶ میں متعارف کروائے گئے۔ ساتھ ہی خبر آئی کہ پنجاب بھر میں ٹیچر ایجوکیشن کالج ختم کر دیے جائیں گے اور وہ صرف ٹریننگ سینٹرز کا کام کریں گے۔ اس خبر سے بڑی خبر یہ آئی کہ سرے سے پیشہ ورانہ تعلیم ہی کو خیرباد کہنے پر سوچ بچار جاری ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان تمام ڈگری پروگرامز سے ٹیچرز کی کوالٹی بہتر نہیں ہو پا رہی۔ اللہ کے بندو ۲۰۱۰ سے ۲۰۱۴ کے دوران  پہلی بار آفر ہونے والے چار سالہ پروگرام کے ٹیچرز کی کوالٹی کی پیمائش ابھی ہوئی ہی کہاں ہے۔ ۲۰۱۶ میں آفر کیے جانے والے پروگرام میں پڑھنے والےتو ابھی گریجویٹ ہی نہیں ہوئے اور آپ ان کا مستقبل تاریک کرنے کے درپے ہو گئے ہیں۔

میرا سوال بہت سادہ ہے۔ اگر کسی پیشہ ورانہ تربیت سے ہم مطمئن نہ ہوں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کا سرے سے خاتمہ ہی کر دیا جائے۔ آپ کل کو میڈیکل کالج بھی بند کر دیجئے گا یہ کہہ کر کہ ڈاکٹرز صحیح طور پر اپنا کام نہیں کر رہے۔ اور مجھے کہیے گا کہ میں اپنے بچوں کا علاج ایم ایس سی بائیو سے کروا لوں کیونکہ آپ نے اسے ہسپتال میں کام کرنا سکھا دیا ہے۔ او بھائی پیشہ ورانہ تعلیم صرف ڈگری نہیں ہوتی۔ اس کے تین بنیادی حصے ہوتے ہیں ۔۔۔ علم، تحقیق اور تجربہ۔ ان تینوں کے زریعے معلومات، ہنر اور پیشہ ورانہ اخلاقیات پروان چڑھتے ہیں۔ دنیا بھر میں مختلف طریقے سے ٹیچر ٹریننگ کروائی جاتی ہے اور انہیں متبادل راستے کہا جاتا ہے لیکن یہ کہاں کی عقلمندی ہے کی ٹیچر ٹریننگ ادراے اور پروگرام ہی بند کرنے شروع کر دیے جائیں۔۔۔ شاید ہم ٹیچنگ میں ایکٹر ان لاء جیسا کوئی ماڈل متعارف کروانے جا رہے ہیں اور اس کے لیے بھی انہیں بینالاقوامی اداروں نے فنڈنگ دے دی ہو گی جنہوں نے گزشتہ ٹرانسفارمیشن کا سہرا اپنے سر باندھا تھا۔۔۔ پلیز سمجھئے یہ بچپن میں کھیلنے والا ٹیچنگ ٹیچنگ کا کھیل نہیں یہ میری آنے والی نسلوں کا سوال ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *