لاہور کے کنوارے نوجوان نے دلہن کی تلاش کیلئے فیس بک پیج بنا ڈالا !

6

لاہور ۔ پاکستان میں شادی کرنے کیلئے ”رشتے والی آنٹی“ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو اچھا رشتہ تلاش کرنے کیلئے دل و جان سے محنت کرتی ہے۔  کئی سالوں سے یہی طریقہ استعمال ہوتا رہا ہے جبکہ کچھ لوگ اپنے بچے، بچیوں کی شادی کیلئے خود ہی یہ ذمہ داری اٹھاتے ہیں اور رشتے کی تلاش کرتے ہیں لیکن لاہور کے ایک لڑکے نے پرانے اور روائتی طریقوں سے ہٹ کر کچھ آزمانے اور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خود ہی تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔

ریان مرزا نے کسی میرج بیورو سے رابطہ کیا اور نہ ہی اخبار میں اشتہارات دئیے بلکہ فیس بک پر ایک پیج بنا ڈالا جو انتہائی دلچسپ ہے۔ اس نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا ” اسلام و علیکم۔۔۔ میں لاہور کا رہائشی 30 سالہ لڑکا ہوں۔ قد 5 فٹ 8 انچ ہے اور سنی ہوں۔ کنوارہ ہوں اور ایم بی اے تک تعلیم حاصل کی جبکہ 65ہزار روپے ماہانہ کماتا ہوں۔ محنتی ہوں اور میری فیملی کی نیٹ ورتھ پراپرٹی کی وجہ سے 3 کروڑ روپے تک ہے۔
ایک خوبصورت شیف لڑکی کی تلاش ہے جس کی عمر 30 سال یا اس سے کم ہو جبکہ قد بھی مجھ سے چھوٹا ہو، 5 فٹ 3 انچ مناسب ہے۔ نوکری کر رہی ہو تاکہ اسے کھانوں کا تجربہ ہو، یا پھر بزنس فیملی سے تعلق رکھتی ہو اور کاروبار کا تجربہ ہو تاکہ بزنس شروع کرنے پر ابتدائی نقصان سے بچا جا سکے۔
دونوں طرف سے کچھ رقم اکٹھی ہو(میں نے کچھ پیسے بچا رکھے ہیں) اور ہم جہیز اور پرتعیش شادی پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے کاروبار شروع کر سکیں کیونکہ میں ایک کامیاب فوڈ کمپنی بنانے کا جذبہ رکھتا ہوں۔ جہیز کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بزنس سے حاصل ہونے والی رقم سے میں خود کچھ چیزیں خرید لوں گا جو گھر پر نہیں ہیں۔ مجھے پیسے دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ شادی کے بعد اگر آپ کی بیٹی کو مناسب لگے تو اسے دیدیں یا سرمایہ کاری کر دیں۔“

ریاز مرزا نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لوگوں کو بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ کیساتھ مل کر کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے اور یہ بھی بتایا کہ وہ ایسی لڑکی کی تلاش میں کیوں ہے جو اچھے کھانے بنا سکتی ہو۔۔۔

ریان نے لکھا ”میں نے اپنی پوسٹ پر ایک شیف لڑکی جسے کھانوں کا تجربہ ہو، کے بارے میں اس لئے لکھا تاکہ وہ کھانے پکانے اور اس سے متعلق معاملات کو دیکھ سکے اور میں خریداری اور دیگر معاملات کو دیکھ سکوں۔
اگر اسے فوڈ انڈسٹری کا تجربہ نہیں ہے لیکن کسی کاروباری فیملی سے تعلق رکھتی ہے تو بھی اس کا تجربہ ہمیں اس نقصان سے بچا سکتا ہے جس کا سامنا عموماً کھانے پینے کا کاروبار شروع ہونے والے افراد کو کرنا پڑتا ہے۔
میں ایک کمپنی میں ’پروکیورمنٹ سپیشلسٹ‘ کے طور پر کام کرتا ہوں۔ میں صحیح شخص مثال کے طور پر ملٹی نیشنل کمپنیز میں منیجرز کے طور پر جاب کرنے والی لڑکیوں کو پروپوزل دکھاﺅں گا۔ لیکن مجھے ایک ایسی لڑکی کی ضرورت ہے جو مجھے اور خود کو مکمل کرے اور فوڈ کمپنی بنانے سے متعلق میرے جیسا عزم کرے، تاکہ ہم اکٹھے کام کرتے ہوئے مشترکہ کامیابی کی جانب بڑھیں۔“

ہم میں سے تقریباً تمام لوگ ہی سوشل میڈیا پر بہت سا وقت گزارتے ہیں مگر ریان مرزا نے سوشل میڈیا کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کرنے کا سوچا اور یہ دیکھنا بھی بہت ہی دلچسپ ہو گا کہ وہ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے اور کیا اس کا یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے کہ نہیں:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *