حسن ظفر عارف صاحب شہید ہوگئے

usman-ghazi

ایم کیوایم احتجاج کی پوزیشن میں نہیں، ان کے پاس کوئی ایک فرد نہیں جو اس بدترین ظلم کے خلاف آواز بلند کرسکے

حسن ظفر عارف کے قتل کے خلاف وہ ترقی پسند آواز بلند کررہے ہیں جنہیں ماضی میں ایم کیوایم قتل کرتی رہی ہے

جی ہاں! صرف کراچی میں 2400 ترقی پسندوں کو قتل کیا گیا، یہ وہ ہیں کہ جن کے مقدمات درج ہوئے ہیں

ترقی پسندوں کا قتل عام سن 90 سے 96 کے دوران ہوا، زیادہ تر پیپلزپارٹی کے کارکن تھے

ان میں سے جو بچ گئے ہیں، وہی پروفیسر صاحب کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، پروفیسر صاحب بھی ان بچ جانے والے لوگوں میں شامل تھے جو اس وقت ایم کیوایم کے ساتھ کھڑے ہوئے کہ جب الطاف حسین کے سارے اپنے ساتھ چھوڑگئے تھے

اس وقت کراچی میں ایم کیوایم کو ساتھی اسحاق اور حیدرآباد میں مومن خان مومن دیکھ رہے ہیں، یہ دونوں ترقی پسند ہیں اور ماضی میں ایم کیوایم کے سخت نقاد رہے ہیں، ایم کیوایم نے ان کے درجنوں ساتھیوں کو قتل کیا، اگر ایم کیوایم دوچار لوگوں کو اور زندہ چھوڑدیتی تو اس وقت ان کے ساتھ اور کھڑے ہوتے مگر قابل لوگوں کی پوری کھیپ ماردی گئی

ایم کیوایم نے 30 سال تک جن لوگوں کو تیار کیا، وہ چائنا کٹنگ کرکے کٹ لئے اور کہیں نظر نہیں آرہے، کراچی کے فٹ پاتھ، پارک اور کھیلوں کے میدان تک بیچ کر سارے بھاگ گئے اور کراچی والوں کو سندھ حکومت کے ٹرک کی سرخ بتی کے پیچھے لگادیا کہ جاؤ بیٹا ہمیں گالیاں بھی نہ دینا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *