سرعام پھانسیاں، بے راہ روی، گھٹن وغیرہ

yasir pirzada

جس دن اس ملک میں بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو سر عام پھانسیاں دے دی گئیں، یہ مسئلہ ختم ہو جائے گا۔‘‘
’’یہ گھناؤنے جرائم معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی، مخلوط محفلوں اور بے پردگی کی وجہ سے ہوتے ہیں، جب تک ہم ماڈرن ازم کے نام پر اس بے راہ روی کا خاتمہ نہیں کریں گے، اُس وقت تک زینب جیسی معصوم بچیاں کسی درندے کی ہوس کا شکار ہوتی رہیں گی۔‘‘
’’ہمارا معاشرہ بے حد جنسی گھٹن کا شکار ہے اور ہم نے جائز فطری خواہشات کی تکمیل بھی ناممکن بنا دی ہے جس کی وجہ سے اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں۔‘‘
معصوم زینب کے قتل کے بعد ہم سب ہڑبڑا کر یوں اٹھ بیٹھے ہیں گویا اس سے پہلے ہمارے معاشرے میں یہ واقعات نہیں ہوتے تھے، زینب کی جان کے بدلے اِس معاشرے میں جان پڑ گئی ہے، ہر کوئی خلوص نیت سے چاہتا ہے کہ ایسا دل ہلا دینے والا جرم آئندہ نہ ہو۔ مگر نہ جانے کیا نحوست چھائی ہے ہم پر، زینب کے قتل کے بعد سے بھی مسلسل اخبارات میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کی خبریں پڑھنے کو مل رہی ہیں بلکہ یوں لگ رہا ہے جیسے اِن میں یکدم اضافہ ہو گیا ہو۔ کچھ درد دل رکھنے والے دوستوں کا خیال ہے کہ ایسے مجرموں کو سرعام چوراہوں پر پھانسیاں دینے سے آئندہ کسی کی جرأت نہیں ہوگی کہ وہ ایسا اقدام کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اِس قسم کی پھانسیاں ماضی میں دی گئی تھیں اور کیا اس سے مسئلہ حل ہو گیا تھا! یادش بخیر، 1978میں پپو قتل کیس ہوا تھا، ایسے ہی ایک چھ برس کے بچے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، جو تین افراد اس جرم میں پکڑے گئے انہیں ہمارے مرد آہن جنرل ضیا نے لاہور کے شادمان چوک میں سرعام پھانسی دی تھی۔ کیا مسئلہ حل ہو گیا تھا؟ دوسری بات، جو مجرم سات آٹھ برس کی بچی کو اغوا کرتا ہے، اسے مسلسل چار پانچ دن قید میں رکھ کر اذیت کا نشانہ بناتا ہے اور اس کے پھول سے جسم کو بھنبھوڑ کر رکھ دیتا ہے (دنیا کا کوئی لفظ اس اذیت کو بیان نہیں کر سکتا جس سے وہ بچی گزری ہو گی)، کیا ایسا شخص پکڑے جانے پر اپنے لئے کسی تمغے کی امید لگائے بیٹھا ہو گا! ظاہر ہے کہ اسے اچھی طرح علم ہوگا کہ گرفت میں آنے کے بعد اسے پھانسی یا عمر قید سے کم سزا نہیں ملے گیا الّا یہ کہ وہ ذہنی مریض ہو اور اگر وہ ذہنی مریض ہو تو پھر سرعام پھانسی کا خوف اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھے گا۔ دراصل سرعام پھانسی کے ساتھ ایک مفروضہ جڑا ہے کہ اس قسم کے جتنے بھی واقعات ہوئے ’’آج تک ان کا کوئی مجرم پکڑا نہیں گیا‘‘۔ اب یہ ایک غیر ذمہ دارانہ اور سنی سنائی بات ہے، زیادہ نہیں دو مثالیں حاضر ہیں۔ اسی قصور میں بچوں کا جنسی اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا، ایف آئی آر میں جتنے ملزم نامزد ہوئے وہ تمام گرفتار ہوئے، کچھ بری ہو گئے کچھ اب بھی جیل میں ہیں۔ سیالکوٹ میں دو نوجوانوں کو ڈنڈوں سے مار مار کر سرعام قتل کر دیا گیا تھا، یہ سرعام پھانسی سے زیادہ خوفناک سزا تھی جو اُن بھائیو ں کو ڈکیتی کے جرم میں ’’فوری انصاف‘‘ کے تحت دی گئی تھی، کیا اب سیالکوٹ میں ڈکیتی کی وارداتیں نہیں ہوتیں؟؟؟ بہرحال اُس واقعے کے تمام مجرم بھی اسی وقت گرفتار کر لئے گئے تھے۔ لیکن کیا کریں، یہی سودا بکتا ہے کہ ’’آج تک کچھ نہیں ہوا!‘‘
اب کچھ بیان جنسی بے راہ روی کا ہو جائے۔ ڈپٹی نذیر احمد کی توبۃ النصوح پڑھ لیجئے، واضح ہو جائے گا کہ آج سے سو سال پہلے بھی بے راہ روی کا ماتم ایسے ہی کیا جاتا تھا۔ نظیر اکبر آبادی نے اس زمانے میں کہا تھا ’’بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں، اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا‘‘ (ویسے استاد کا یہ شعر تکرار لفظی کی بدترین مثال ہے)۔ ہر زمانے میں یہ باتیں کہی جاتی ہیں کہ زمانہ بڑا خراب ہے، اصل میں زمانہ ہمیشہ سے ہی خراب ہے، آج سے ہزار سال پہلے بھی ایسے ہی مکروہ جرائم ہوتے تھے، مسئلہ اس دلیل میں یہ ہے کہ اصل میں یہ زمانے کے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے خلاف دی جاتی ہے، جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آج کل لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے آسانی سے ایسی ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں جنہوں نے جنسی کج روی پیدا کر دی ہے تو یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنے زمانے میں کرائے کا وی سی آر لا کر وہ یہی کام سو روپے میں کرتے تھے، آج اُس وی سی آر کو کوئی پوچھتا بھی نہیں، وی سی آر سے پہلے ٹی وی شیطانی چرخہ تھا اور اُس سے پہلے ریڈیو۔ اصل میں اس دلیل کے پردے میں یہ بات چھپی ہے کہ جب معاشرے میں مخلوط اجتماعات ہوں گے، جنسی ہیجان ہوگا، فحاشی اور عریانی ہوگی تو لامحالہ اس قسم کے جرائم میں اضافہ ہو گا، اب سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے سے کہیں زیادہ مخلوط اجتماعات اور وہ سب کچھ جس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مغرب میں ہوتے ہیں مگر وہاں ایسے جرائم کی شرح ہم سے کم ہے کیونکہ وہاں لوگوں میں شعور اور اپنے حقوق سے آگاہی کہیں زیادہ ہے، وہاں ظلم کا شکار ہونے والی لڑکی کو کوئی یہ نہیں کہتا کہ تم جین اور ٹی شرٹ میں کالج جاؤ گی تو ریپ تو ہو گا، اپنے یہاں تو پہلی صفائی اُس لڑکی کو دینی پڑتی ہے جس کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ وہاں بھی بچوں کے ساتھ ایسے بھیانک جرائم ہوتے ہیں کیونکہ دنیا کی کوئی حکومت یہ گارنٹی نہیں دے سکتی کہ ایسا جرم معاشرے میں نہیں ہوگا مگر کوئی اس کا جواز یہ نہیں تراشتا کہ چونکہ مخلوط محفلوں کی وجہ سے لوگوں کے جذبات برانگیختہ ہوتے ہیں اس لئے یہ بات انہیں ایسے جنسی جرائم پر ابھارتی ہے، آخر ایک معصوم بچی کس طرح اپنی حفاظت کرے کہ کسی psychopathکے جذبات برانگیختہ نہ ہو جائیں!
دنیا میں کہیں بھی provocationکی یہ دلیل نہیں مانی جاتی، اگر میری جیب میں دس ہزار روپے ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے جذبات برانگیختہ ہو جائیں اور آپ روپے لے اڑیں۔
اس بات میں دم ہے کہ ہمارے معاشرے میں حد سے زیادہ گھٹن ہے، جائز خواہشات کی تکمیل کے مواقع بھی نہیں جن کی اسلام نے اجازت دے رکھی ہے، سو اِس گھٹن کو ختم کرنے سے ایسے مکروہ جرائم کا امکان کم ہو سکتا ہے مگر ظاہر ہے کہ یہ گھٹن بھی کسی جرم کا جواز نہیں بن سکتی۔ قانونی اور انتظامی تدابیر کرنے کے علاوہ جس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہ کہ ہمیں ماہر
نفسیات کی ضرورت ہے، ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں ایک اسامی ماہر نفسیات کی ہو جس کا کام بچے بچیوں کی کونسلنگ کرنا ہو، انہیں بتانا ہو کہ انہیں اپنی حفاظت کیسے کرنی ہے، اپنی جسمانی تبدیلیوں کو نارمل کیسے لینا ہے، لوگوں سے میل ملاپ کیسے کرنا ہے۔ ہر سال لاکھوں بچے بغیر کسی رہنمائی کے بلوغت میں داخل ہوتے ہیں اور تمام عمر احساس جرم، ندامت اور عجیب و غریب نفسیاتی امراض کا شکار رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حکومت فوری طور پر اتنی بڑی تعداد میں ماہر نفسیات بھرتی نہیں کر سکتی، مگر تمام اسکولوں کو یہ ہدایت جاری کر سکتی ہے کہ وہ مہینے میں ایک مرتبہ اپنے بچوں کے لئے کسی ماہر نفسیات کا سیشن کروائیں۔ یہ اس ملک کے بچوں پر احسان عظیم ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *