نقیب اللہ اور راؤ انوار

usman-ghazi

نقیب اللہ وزیرستان سے کراچی کاروبار کرنے آیا تھا مگر یہ ایک بہانہ تھا۔۔ وہ ماڈل بننا چاہتا تھا، وہ جانتا تھا کہ وہ جاذب نظر ہے مگر اسے دنیا کو بتانا تھا

نقیب اللہ کے دوست سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے آپ سے محبت کرتا تھا، ایک بار اس کے سر کے دو بال گرگئے، اس نے دیکھا تو گھنٹوں پریشان رہا، ایسا آدمی بھلا دہشت گرد کیسے ہوسکتا ہے، وہ ہمیشہ صاف ستھرا رہا اور اس کی لاش کیچڑ سے ملی، وہ خون اور گندگی سے لت پت تھا

نجانے مرتے سمے اس نے کیا سوچا ہوگا، وہ سارے سپنے جنہیں وہ لے کر کراچی آیا تھا یا اپنی پیاری بیوی اور بچوں کا چہرہ اس کے ذہن میں آیا ہوگا، وہ لمحہ کیا ہوگا کہ جب وہ پولیس والوں کو اپنا آپ سمجھانے میں ناکامی کے بعد یہ جان چکا ہوگا کہ اب اس کا بچنا ناممکن ہے

وہ ماڈل بننا چاہتا تھا مگر وہ وزیرستان کا ایک مزدور تھا، میں نے نقیب کی مردانہ وجاہت کے قریب بھی نہ پھٹکنے والے ماڈل دیکھے ہیں، ان کو مواقع ملنا آسان ہیں کیونکہ وہ وزیرستان سے نہیں، وہ پختون نہیں مگر پہاڑوں کے مکین کے لیے چھوٹی سی کامیابی کا حصول بھی کتنا مشکل ہوتا ہے، کاش نقیب زندہ ہوتا تو آپ کو سمجھاسکتا

نقیب کا مجرم صرف راؤ انوار نہیں، یہ سماج بھی ہے جو اس کو تمام مواقع نہ دے سکا، اس کا حق اس کو نہ دے سکا، اگر وہ ماڈل بن جاتا تو شاید راؤ انوار کی دسترس سے بچ جاتا، یہ ساری قیاس آرائیاں ہیں مگر اس کے علاوہ ابھی ہم کچھ اور کر بھی تو نہیں سکتے

وزیرستان کے لوگوں کا تاثر دہشت گردی کا ہے مگر تاثر تو تاثر ہوتا ہے، شہری بابو بالخصوص پنجاب اور سندھ کے ہجرت زادے اپنے علاوہ ہر زمین زادے کا تاثر بگاڑ کر رکھتے ہیں، وزیرستانی رقص اور موسیقی کے دلدادہ خطے کے حسین ترین اور مہمان نواز لوگ ہوتے ہیں، یہ سرتاپا محبت ہوتے ہیں، ان سے بارود نہیں بلکہ مٹی کی خوش بو آتی ہے اور نقیب اسی احساس کا احیا چاہتا تھا مگر مارا گیا

قبائلیوں کو سینے سے لگائیں، سرائیکیوں اور سندھیوں کو پیار کریں، بلوچوں کو عزت دیں، گلگتیوں اور بلتستانیوں کو اجنبیت کا احساس نہ ہونے دیں، یہ ہم سے الگ نہیں، یہ ہمارا حصہ ہیں، نقیب اسی احساس کو جگا کر گیا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *