عطا الحق قاسمی کا اصل قصور

عقیل انجم اعوان

aqeel anjum awan
عطاء الحق قاسمی صاحب ہمارے ادبی اور قومی ہیرو ہیں ۔ یہ قوم چاہ کر بھی ان کی ادبی خدمات کو فراموش نہیں کر سکتی لیکن کبھی کبھی حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ آدمی اصل اور نقل کی پہچان بھول جاتا ہے اور ایک بہت بڑے لیجنڈ کو ہیرے سے پتھر بنانے کی سعی کرتاہے۔ اس قوم کی انتہا درجے کی بدقسمتی ہے کہ یہ ہیرو کو رول دیتی ہے اور جب تک ہیرو کوخاک میں نہ ملا دے، اس کو چین نہیں آتا۔ صحیح کو غلط ثابت کرنا ہماری عادت بن چکی ہے ہم میں اتنی اہلیت ہی نہیں رہی کہ ہم غلط اورصحیح کا فیصلہ کر پائیں۔ ظاہر میں جو چیزیں دکھائی دے رہی ہوتی ہیں لوگ انہیں ہی سچ سمجھتے ہیں چاہے وہ کتنی ہی جھوٹی، ملمع اور ریاکاری سے بھری ہو۔ اس میں ملاوٹ اور بناوٹ ہو، مکر بازی ہو، آلودگی اور زہرناکی ہو، لیکن سب لوگ ظاہردیکھتے ہیں باطن نہیں دیکھتے اور یہی حال ہمارے کچھ نام نہاد دانشوروں کا ہے۔ ان کو قاسمی صاحب میں برائیاں ہی نظر آتی ہیں لیکن قاسمی صاحب ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان پر آج تک جتنے بھی الزامات لگے سب جھوٹ ثابت ہوئے اور ان الزامات سے بھی وہ سرخرو ہو کرنکلیں گے۔
اب آتے ہیں اس طرف کے قاسمی صاحب کا اصل قصور کیا ہے قاسمی صاحب نے پی ٹی وی کو دوبارہ حقیقی ادیبوں ، شاعروں اور ادب دوستوں کے لئے اوپن کیا تھا ۔میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے قاسمی صاحب کو کہا کہ پی ٹی وی کے لئے ڈرامہ لکھنا چاہتے ہیں ، قاسمی صاحب نے کہا آپ ون لائنر بنا کر بھجوا دیں ، میں متعلقہ سیکشن کو بھجوا دیتا ہوں لیکن اگر چیز کام کی ہوئی تب ہی کام شروع ہو سکے گا ۔ اس سے پہلے تو لوگوں کو راستہ ہی نہیں ملتا تھا ۔ اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پی ٹی وی کی ابھی اتنی اوقات نہیں کہ و ہ فرد واحد کو 27 کروڑ دے سکتا ۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ الزام بھی درست ہے کیونکہ اس سے قبل عطا الحق قاسمی پر الحمرا سمیت دیگر ادوار میں لگنے والے ایسے الزامات جعلی ثابت ہوئے ہیں ۔ عطا الحق قاسمی انسان ہی ہیں ۔ شخصی کمزوریاں ان میں بھی ہوں گی لیکن ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ انہوں نے اپنے ہر عہدے کو ادب اور ثقافت کے فروغ کے لئے استعمال کیا ہے ۔وہ جہاں گئے وہاں ادیبوں اور شاعروں کے لئے راستے بناتے گئے ۔ کتاب کلچر کو بھی انہوں نے فروغ دیا ۔ پی ٹی وی کے پروگرام میں کتب اور ادیبوں کا تعارف بھی ان کے دور میں مسلسل ہوتا رہا ۔ کتنے ادیب ہیں جن کے کاموں کوسامنے لایا گیا اور اب وہی دوست قاسمی صاحب کی کردار کشی میں سب سے آگے نظر آتے ہیں۔عطا الحق قاسمی سے نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم عطا الحق قاسمی کے فن مزاح نگاری کا انکار نہیں کر سکتے ۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ نے ان کی کتب نہیں پڑھیں ۔
دوسری طرف جس شخص کی وجہ سے پی ٹی وی ایک بار پھر زندہ ہو رہا تھا ہم اس کی کردار کشی کر رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان سے پہلے محمد مالک ، ڈاکٹر شاہد مسعود اور دیگر جید صحافی و ادیب پی ٹی وی میں اہم عہدوں پر فائز ہوئے ۔ ان کے دور میں پی ٹی وی کا کہاں ذکر ہوا ؟ کیا فائدہ ہوا ؟ انہوں نے کتنے جینوئن ادیبوں ، شاعروں ، صحافیوں کو پی ٹی وی میں جگہ دی یا ان کو راستہ دیا ۔ انہوں نے کتنے تخلیق کاروں پر پی ٹی وی کا دروازہ کھولا ، ان کے دور میں کیا تبدیلی آئی تھی ؟ معذرت چاہتا ہوں لیکن اگر قاسمی صاحب بھی انہی کی طرح اپنی ذات میں مگن رہتے اور کسی کو لفٹ نہ کرواتے تو شاید ان کی کردار کشی نہ ہوتی ۔ ان کا جرم یہ بھی تو ہے کہ ٹکے ٹکے کے قلمکاروں پر پی ٹی وی کے دروازے کھول دیئے تھے کہ شاید اسی بہانے پی ٹی وی کو اچھا کانٹنٹ ملنے لگے ۔اگر کسی ادارے کو بنانا اور سنوارنا جرم ہے تو قاسمی صاحب مجرم ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *