اب کون بولے گا ؟

عامر ہزاروی

عاصمہ جہانگیر اس دنیا سے چل بسی ہیں ، عاصمہ جہانگیر حق کی صدا تھیں ، وہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھیں ، خوف انہیں چھو کر بھی نہیں گزرا تھا ، وہ کمزور جان ہونے کے باوجود طاقتوروں کے سامنے ڈٹ جاتی تھیں ، کون سا ایسا الزام ہے جو ان پر نہیں لگا ، انکا میڈیا ٹرائل کیا گیا ، انہیں دین دشمن کہا گیا ، انہیں غدار کہا گیا ، انکی کردار کشی گئی ، اہل جبہ و دستار انہیں مرزائی کہتے رہے ، اسٹیبلیشمنٹ انہیں بھارتی نواز کہتی رہی ،مگر عاصمہ جہانگیر نے کسی سے تعصب نہیں کیا -

asma jahangir

انہوں نے جس چیز کو ٹھیک سمجھا پوری قوت سے اس پر ڈٹ گئیں،عاصمہ جہانگیر کو آج کے دن بھی معاف نہ کرنے والے اہل مذہب یہ مت بھولیں کہ جب اہل جبہ و دستار خاموش ہوئے اس وقت عاصمہ بولی تھیں،یاد کریں وہ وقتجب اسامہ بن لادن کی اولاد اور بیویوں کو قید کیا گیا تو عاصمہ انکے حق کے لیے کھڑی ہو گئیں تھیں، طالبان کو جب وکیل نہیں مل رہے تھے تو عاصمہ جہانگیر نے آگے بڑھ کر انکی وکالت کی تھی، ملک اسحاق کو جب ماورائے عدالت قتل کیا گیا تو عاصمہ نے کہا تھا کہ ماورائے عدالت قتل کو سراہا نہیں جا سکتا میں اس لیے چپ نہیں رہ سکتی کہ داڑھی والے مارے جا رہے ہیں، عافیہ صدیقی کے لیے جب کوئی نہیں بول رہا تھا اس وقت عاصمہ جہانگیر کورٹ میں درخواست لیکر کھڑی تھیں ،ابھی دو روز قبل کی بات ہے وہ اسلام آباد دھرنے میں شریک ہوئیں، انہوں قبائل کا ساتھ دیا ، اور کہا میں آپ کی بہن ہوں، میں نے پہلے بھی آپ کے کیس لڑے اب بھی لڑوں گی، میں نے پہلے بھی لاپتہ افراد کے لیے آئینی و قانونی جدوجہد کی آئندہ بھی کروں گی،افسوس زندگی نے ان سے وفا نہیں کی، وہ آج چل بسی ہیں ، انکے مرنے کے بعد ان پر الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، وہ مظلوموں کی محسن تھیں، محسنوں پر الزامات نہیں لگائے جاتے_ ایک وقت آئے گا جب ہم یاد کرینگے کہ ہم نے کس ہستی کو کھویا تھا ؟ کیسی آواز تھی جو آج خاموش ہوئی ہے ، زمانہ عاصمہ جہانگیر کی مثال نہیں پیش کر سکے گا_ یہ بات کسی اور پر فٹ آئے یا نا آئے مگر عاصمہ جہانگیر پر ضرور فٹ آتی ہے، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم_

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *