قاضی واجد اور عاصمہ جہانگیر

مرزا یاسین بیگ

mirza yaseen baig

قاضی واجد اور عاصمہ جہانگیر 87 اور 66 سال کی عمر میں دنیا سے چلےگئے . ان دونوں کا یوں اچانک چلےجانا فن و قانون کا ناقابل تلافی نقصان ہے . قاضی جی نے اپنے پیچھے سینکڑوں ایسے ڈرامے چھوڑے جن میں ان کی اداکاری ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہے گی . وہ کیریکٹر ایکٹر تھے . کردار مزاحیہ ہو یا سنجیدہ , منفی ہو یا مثبت وہ نگینے کی طرح جڑجاتے تھے . صداکاری میں بھی ان کا ایک منفرد اور اعلیٰ مقام تھا .

qaعاصمہ جہانگیر نے خاتون وکلاء میں وہ مقام حاصل کیا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھاگیا . وہ ایک ایسی دبنگ وکیل اور انسانی حقوق کی بلند آہنگ آواز تھیں جس نے پاکستان میں ہمیشہ آمریت اور ظلم کے خلاف اگلی صف میں کھڑے ہوکر جنگ لڑی . وہ عورتوں بچوں کے حقوق کے حوالے سے اپنے جرات مندانہ کردار کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پہچانی جاتی تھیں . ضیاء و مشرف آمریت کے خلاف ان کی تگ ودو پر انھیں کئ عالمی اعزازات سے بھی نوازاگیا . وہ ملک کے رجعت پسند عناصر کو بہت کھٹکتی تھیں . انھیں بےشمار دھمکیاں بھی ملتی رہیں . عاصمہ جہانگیر نے مردوں سے بھی زیادہ مردانگی دکھائ اور ظلم و آمریت کے خلاف ہمیشہ سر اٹھاکر بولا . ان کے اچانک رخصت ہوجانے سے انسانی حقوق کی کوششوں کو سخت دھچکہ پہنچا ہے .
یہی زندگی ہے , یہی سانسوں کا سفر ہے . ہم ابھی ہیں اور ابھی نہیں . کام وہ کیجئے جو مرنے کے بعد آپ کے کتبے کو نیک نامی سے پُر رکھے .

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *