دھونس کا مقابلہ

پاکستان میں فی الوقت کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ یوں لگتا ہے کہ ہر ادارہ دوسرے ادارے کو، ہر گروہ دوسرے گروہ کو (اور اگر مبالغہ نہ سمجھا جائے تو) ہر فرد دوسرے فرد کو زیر کرنا چاہتا ہے۔ اس پر دھونس جمانا چاہتا ہے۔ جس طرح ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب کی دہائی دینے والوں نے بہتّر فرقے ایجاد کر رکھے ہیں اور ہر فرقہ پرست اپنے آپ کو جنت کا حقدار اور دوسرے کو جہنمی قرار دیتا ہے، بلکہ جہنم رسیدگی کو کارِ ثواب سمجھ کر اس میں ٹپکا پڑتا ہے، اسی طرح کا حال ہماری سیاست کا ہو گیا ہے۔ سب کی زبان پر نام آئین کا ہے، اس کی بالادستی کی قسمیں کھائی جاتی ہیں، لیکن نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ جو ہم کہتے ہیں اس پر ایمان لائو، جو ہم کر رہے ہیں اس پر تالیاں بجائو، داد و تحسین کے ڈونگرے برسائو، ہماری آنکھ کے اشارے کو حکم سمجھو، جب اور جہاں ہم چاہیں وہاں کورنش بجا لائو۔
ایک کہتا ہے کہ ہم عوام کی پیداوار ہیں، انہوں نے ہمیں اقتدار پر بٹھایا ہے۔ ہمارے حق میں باقاعدہ ووٹ ڈالے ہیں، اس لئے جو ہم کریں، وہی عوام کی منشا ہے۔ اسی میں ان کی خوش حالی کا راز مضمر ہے۔ ہماری مان کر ہی وہ ترقی کر سکتے ہیں، اس لئے ہمارے کسی اقدام پر کسی کو نظرثانی کا حق نہیں۔ ہمارے بنائے ہوئے قوانین کو کوئی میلی آنکھ سے دیکھے تو اس کی آنکھ پھوڑ دینی چاہیے۔ ہم ایک مقررہ مدت کے بعد عوام کی عدالت میں جاتے ہیں، ان کے سامنے اپنی کارگزاری پیش کرتے ہیں، وہ اگر اس پر اطمینان کا اظہار کرکے ہماری مدت میں مزید پانچ سال کا اضافہ کر دیں تو کوئی اور کون ہوتا ہے، اعتراض کرنے والا... ہم جو چاہیں گے، سو کریں گے۔ ہم ہی کو تو پتہ ہے کہ عوام کیا چاہتے ہیں۔ ان کی نبض پر ہمارا ہاتھ ہے۔ ہمارا ان کے ساتھ ہر دم کا اٹھنا بیٹھنا ہے۔ جن سے ملنے کی بھی ان کو اجازت نہیں، جو ان کی خواب گاہ تو کیا صحن میں بھی نہیں جھانک سکتے، انہیں ان کے نام پر دکان سجانے کی اجازت کیسے دے دی جائے؟
دوسری آواز ہے کہ ہم اگر نہ ہوں تو تم صحن تو کیا تہہ خانے میں بھی لمبی تان کر نہیں سو سکتے۔ دو، چار لمحے بھی سکون کا سانس نہیں لے سکتے۔ ہم ہی تو سرحدوں کی حفاظت کرتے اور دشمنوں کے دانت کھٹے کرتے ہیں۔ خون دیتے ہیں، چوٹ کھاتے ہیں، پھر بھی مسکراتے ہیں۔ سرحدوں کی تو بات رہی ایک طرف، تمہارے محلوں، گلیوں اور سڑکوں پر جو دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں۔ تمہاری جان اور تمہارے مال کے درپے ہیں، ان سے ہم ہی نے تمہیں نجات دلائی ہے۔ تمہارے سر پر سائبان ہم ہی نے نصب کیا ہے۔ اگر ہم نہ ہوں گے تو تم کہاں ہو گے؟ اگلے جہان سدھارنے سے بچ گئے تو بھی آزادانہ زندگی گزارنے کا حق تو تمہیں حاصل نہیں رہے گا، دوسروں کی غلامی سے بچنا ہے تو اپنوں کی دخل اندازی برداشت کر لو۔ ہماری سوچ کو اپنی سوچ بنا لو۔ ہمیں اپنی مرضی کرنے دو، ہم پر اعتبار کیا، ایمان رکھو۔ ہم تمہیں بلندیوں تک پہنچا دیں گے۔ تمہارا کھانا پینا، سونا جاگنا، مرنا جینا ہمارے لئے ہونا چاہیے۔ کسی کا دامن پکڑنا ہے یا گریبان، کسی سے ناتہ جوڑنا ہے یا توڑنا، کسی کی طرف ہاتھ بڑھانا ہے یا جھٹکنا، یہ ہم طے کریں گے۔
تیسری آواز سنائی دیتی ہے کہ تم اپنی جان کیوں ہلکان کئے ہوئے ہو۔ ہم پڑھے لکھے، تجربہ کار ہیں۔ آئین ہم نے گھوٹ کر پی رکھا ہے، انگریزی ہماری مضبوط ہے، ہم بہتر جانتے ہیں بلکہ ہم ہی جانتے ہیں کہ اس میں کیا لکھا ہے اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی تشریح و تعبیر ہمارا استحقاق ہے۔ ہم تنخواہ ہی اس بات کی لیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ سارے ادارے آئین کے تابع ہیں۔ ہر ایک کی حدود اس نے طے کر رکھی ہیں۔ ہر ایک کے کاموں کی وضاحت کر رکھی ہے۔ لیکن آئین ہے کیا؟ یہ تو ہم ہی بتاتے ہیں، جو ہم لکھ ڈالیں، وہی آئین ہے۔ ہمیں تو یہ بھی معلوم ہے کہ کون، کون سی بات کہاں کہاں درج ہونے سے رہ گئی ہے۔ جو بھی خلا جہاں موجود ہے، ہم اس کا ادراک رکھتے اور اسے پُر کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہیں۔ جس طرح ایک آیت پڑھ کر، یا ایک حدیث یاد کرکے کوئی مفسر یا محدث نہیں ہو سکتا، اس لئے آئین کی کسی شق پڑھنے، پڑھانے یا سنانے سے کوئی شخص آئین جاننے کا دعویدار نہیں بن سکتا۔ ہمیں بلکہ ہم ہی کو معلوم ہے آئین کی روح کیا ہے، کہاں روح کو ڈالنا ہے اور کہاں سے نکالنا ہے۔ ہمیں الفاظ پڑھ پڑھ کر نہ سنائو، ہم روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں، اس دن ہم اپنا حساب پیش کر دیں گے، فی الحال تم بے چون و چرا اپنا حساب ہمارے سامنے پیش کرو۔ اگر تمہارے باپ دادا کا حساب طلب کیا جائے تو وہ بھی چشم زدن میں حاضر کر دو...
ہر آواز میں صداقت پائی جاتی ہے، سچائی کا عنصر موجود ہے۔ انتظام چلانے والے‘ انصاف کرنے والے اور حفاظت کا حصار قائم کرنے والے سب اہم ہیں۔ ان میں سے ایک بھی نہ ہو تو ریاست کا تصور باقی نہیں رہتا۔ دل، جگر اور معدہ ہر ایک اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر اپنا اپنا کام کرے گا تو صحت برقرار رہے گی۔ اگر ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لتّے لینے لگے، دھونس جمانے لگے، اپنا اپنا احسان جتانے اور دوسروں کو نیچا دکھانے لگے، اپنا کام چھوڑ کر دوسرے کا کام سنبھالنے کے خبط میں مبتلا ہو جائے تو پھر تینوں اپنی اپنی جگہ موجود رہیں تو بھی زندگی سے محروم ہو جائیں گے اور ان کی جگہ زمین کے اوپر نہیں رہے گی؎
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
بے نظیر و با کمال
ہمارے ایک پُرمغز دوست (اور قاری) جناب طارق قریشی نے آغا شورش کاشمیری مرحوم کی ایک نظم ارسال فرمائی ہے جو انہوں نے عزیزہ عاصمہ جیلانی (بعد ازاں عاصمہ جہانگیر) کے لئے بھٹو مرحوم کے دور اقتدار کے دوران کہی تھی۔ خیال ہے عاصمہ نے جب اپنے والد ملک غلام جیلانی مرحوم کی نظر بندی کے خاتمے کے لئے کیا جانے والا مقدمہ جیتا ہوگا تواس وقت آغا صاحب نے اس نو عمر بھتیجی کے اعزاز میں یہ اہتمام کیا ہوگا۔ یہ مقدمہ تاریخ میں عاصمہ جیلانی کیس کے نام سے موسوم ہے اور اس میں جنرل یحییٰ خان کو غاصب قرار دیتے ہوئے ان کے نافذ کردہ مارشل لاء کو غیر دستوری اور غیرقانونی قرار دیا گیا تھا۔ اس نظم کا مطالعہ آج بھی لطف دے جائے گا
بنتِ جیلانی پہ ہو لطفِ خدائے ذوالجلال
مائیں ایسی بیٹیاں جنتی ہیں لیکن خال خال
رات دن میری دعا ہے بارگاہِ قدس میں
جس کے گھر بیٹی ہو، وہ بیٹی ہو ایسی خوش خصال
خطۂ پنجاب سے مایوس ہوں لیکن ابھی
آ نہیں سکتا مسلمانوں کو اے شورش، زوال
ایک اسما غیرتِ پنجاب کی للکار ہے
خوش نہاد و خوش سرشت و خوش دماغ و خوش خیال
ایک تتلی جس میں شیروں کے تہور کی جھلک
ایک کونپل جس کی آب و تاب میں سحر و جلال
ایسی چنگاری ابھی تک اپنی خاکستر میں ہے
تیز رو، شمشیرِ برّاں، بے نظیر و با کمال
دبلی پتلی ایک لڑکی شبنمی انداز کی
ہیچ اس کے روبرو لیکن پہاڑوں کا جلال
اپنی امّی کی جگرداری کا نقشِ دل پذیر
اپنے ابّا کے سیاسی ولولوں سے مالا مال
وہ کسی افتاد بے ہنگام سے ڈرتی نہیں
آ کے ڈٹ جائے سر میداں تو پھر رُکنا محال
یاد رہنا چاہیے کہ عاصمہ جہانگیر جری و بے باک سیاستدان ملک غلام جیلانی مرحوم کی بیٹی اور صداقت شعار ادیب ماہنامہ ادبی دنیا کے ایڈیٹر مولانا صلاح الدین احمد کی نواسی تھیں۔ ان دونوں حوالوں سے وہ آغا شورش مرحوم کو عزیز تھیں۔ مولانا صلاح الدین احمد نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام بدل کر صرف پاکستان رکھنے پر فیلڈ مارشل ایوب خان کی موجودگی میں صدائے احتجاج بلند کرکے پوری قوم سے خراج تحسین حاصل کیا تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *