سری دیوی- پاکستانیوں کے لیے انسپائریشن

علینہ بابر

ایک ایسی نسل کے لیے جو اسلامائزیشن اور مارشل لاء کی صعوبتوں کے بیچ پل رہی تھی، سری دیوی اس ملک کے لوگوں کے لیے ایک امید کی علامت تھیں۔ پہلے پہلے پیار کی پہلی رات یاد رہے گیی پھولوں کے اس شہر کی ملاقات یاد رہے گی کاش یہاں ساری عمر، یوں ہی جائے بیت متوا آگے آگے چلیں ہم، پیچھے پیچھے پریت متوا طیارہ میں ہلاکت سے قبل جنرل ضیا سے خلاصی کی امید ناگن فلم سے پیدا ہوئی تھی۔ شاید اس دور میں بھارت کے علاوہ ساری دنیا نے پہلی بار امریش پوری کو اپنے مخالفین کوڈرانے کےلیے آنکھیں حد سے زیادہ موٹی کرتے دیکھا ہو لیکن 80 کی دہائی کے ہر شخص نے یہ مناظر دیکھ رکھے تھے۔ ہم ایک ایسی دہائی میں تھے جس میں صرف مایوسی تھی لیکن اس زمانہ میں واحد امید اس خاتون سے جڑی تھی جس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ اسی سال بے نظیر وطن واپس آئی تھیں جس سال ناگنہ فلم ریلیز ہوئی تھی اس لیے اگر کسی بچے نے بے نظیر کو سری دیوی جیسا سمجھ لیا ہو تو اس کی یہ غلطی قابل معافی ہے۔ کچھ تبدیلی واقع ہو رہی تھی اور جب ہماری ہیرو بے نظیر بھٹو واپس آئیں تو ہم سری دیوی کے ناگنہ کے ساونڈ ٹریک کے ساتھ
بے نظیر کی شکل میں اپنی آخری امید دیکھنے لگے تھے۔  2016 میں اے دل ہے مشکل فلم نے پاکستانیوں کے دل جیتے لیکن کوئی بھی فلم یا کردار سری دیوی کی اس پرانی یاد کو دھندلا نہ سکا جس میں وہ پیلی ساڑھی میں نمودار ہو کر سب کو اپنا گرویدہ بنا لینے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ دنیا بھر نے بھلے ہی اپنی نظریں کرن جوہر اور یش چوپڑا کی اس نئی فلم کی طرف موڑ لی ہوں لیکن اس مارشل لاء کے دور میں امید کی اس کرن نے پاکستان کے ہر ٹین ایجر کے دل
پر ایک گہرا اثر چھوڑا تھا اور ایک نئی امید دی تھی جو اس کے بعد دیکھنے کو نہیں ملی۔ 1989 میں پہلی بار ہمیں ضیا سے نجات کا سال ملا اور اسی سال چاندنی فلم بھی ریلیز ہوئی۔ جوانی اور ٹین ایج کے مستی کے یہ دن اتفاقا ملک کے مارشل لاء اور ظلم و ستم کے خاتمہ کے بھی دن قرار پائے۔  جس طرح جمہوریت ایک اچھی چیز ہے اس طرح کسی کے ساتھ آئس کریم شئیر کرنا بھی ایک اچھی بات ہے۔ چاندنی فلم کا ہیرو ایک عام سے علاقے کا عام شہری ہے لیکن جب وہ شہر میں جاتی ہیں اور ان کی دوست ان کے ساتھ کپڑوں کی الماری شئیر کرتی ہے تو اس سے اسے اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ جب چاندنی فلم ریلیز ہوئی تب ہم پاکستانی چاہتے تھے کہ کوئی ہماری کہانی کو آواز بنا کر دنیا میں پھیلا دے اور چاندنی فلم نے ایسا ہی کیا۔ چاندنی دیکھ کر ہمیں احساس ہونے لگا کہ ہم بہتر زندگی کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔  چاندنی نے ایسا جادو کیا جو تعلیمی ادارے کئی نسلوں تک نہ کر پائیں۔ اس فلم کے ذریعے شلوار قمیض کو ترویج دی گئی اور اسے سکولوں میں یونیفارم کے طور پر بھی بھی متعارف کروا یا جانے لگا۔۔ جب ہم سوئس ایلپس اور جنسی حساسیت کو پہلی بار محسوس کرنے لگے تھے تو اس وقت سفید شلوار قمیض نے ہمیں اچھا محسوس کرنے کا موقع دیا۔ جب ہم اس فلم کے جادو سے لطف اندوز ہو رہے تھے تو ہمارے ہی ملک کی ایک نوجوان اور خوبصورت خاتون دنیا بھر میں ہماری نمائندگی کرنے لگی تھی۔  پچھلے کئی سال میں ہماری زندگی میں جو اچھے اور برے وقت آئے اور میرے بے نظیر بھٹو سے تعلقات میں اتار چڑھاوآیا تو اس کے ساتھ ساتھ میرے زہن میں 1989کی یادیں بھی تازہ رہیں۔ اس کے بعد اگرچہ مجھے سری دیوی کی کچھ فلمیں اچھی نہیں بھی لگیں لیکن پھر بھی میں کبھی بے نظیر بھٹو اور سری دیوی کا 80ء کی دہائی کا سفر بھول نہیں پائی۔ ان دونوں خواتین میں خوبصورتی کے علاوہ جو چیز دل کو بہانے والی تھی وہ کچھ کر دکھانے کا جذبہ تھا۔ 1992 میں جب سری دیوی خود بے نظیر بن کر خدا گواہ فلم میں نمودار ہوئیں اور اس کے پہلے پہل ہی سر زمین ہندوستان کو ہمارا سلام کے جملے سے جب فلم کا آغاز ہوا تو میرے سری دیوی کے لیے جذبات میں بہت تبدیلی آ گئی۔  اس طرح دبئی سے سری دیوی کی موت کی خبر ایسی خبر ہے جس کے شاک سے نکلنے میں ہمیں ایک عرصہ لگے گا۔ میں اپنے دوستوں کو بتاتی ہوں کہ سری دیوی ہمارے کلچر کی ایک حسین یاد گار ہیں۔ ان کی والدہ کا غلط آپریشن ہی وہ پہلا واقعہ تھا جب ہمیں معلوم ہوا کہ طب کی میڈیکل کی دنیا میں کیسے کرپشن کی جاتی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ سری دیوی کے بارے میں میرا ہر ریفرنس کس انداز میں ختم ہو گا: زندہ ہے سری دیوی زندہ ہے۔

source : https://theprint.in

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *