سینٹ الیکشن: نتائج حسبِ توقع آئے!

ہفتے کے روز سینٹ کی خالی ہوئی 52 نشستوں کو پُر کرنے کے لئے جو انتخابی عمل ہوا مجھے اس سے حیران کن نتائج کی ہرگز توقع نہیں تھی۔ ایک لمحے کو بھی لہٰذا ٹی وی آن نہیں کیا۔ دانتوں کے طویل علاج اور بہار کے ساتھ آئی الرجی نے ویسے بھی تھکا دیا ہے۔ کافی دیر بستر میں گھسے رہ کر آرام کیا۔ عصر ہوئی تو اسلام آباد کے ایک نواحی گاﺅں چلا گیا جہاں دس کنال زمین کا ایک ٹکڑا میری بیوی کو وراثت میں ملا تھا اور میں اس ویرانے کو گلشن میں بدلنے کے لئے کئی برسوں سے بہت محنت کر رہا ہوں۔ کافی رونق لگائی ہے مگر جانوروں کے شوق نے معاشی اعتبار سے کچومر نکال دیا ہے۔ شوق دا بہرحال کوئی مل نئیں.... وہاں ہوتا ہوں تو سکون مل جاتا ہے۔ اسے یقینی بنانے کے لئے اپنے ٹیلی فون کو انٹرنیٹ سے محروم رکھتا ہوں۔ بہت قریبی لوگ ہی مجھ سے فون پر رابطہ کرسکتے ہیں۔
رات گئے گھر لوٹا۔ وائی فائی نے سوشل میڈیا سے کنکٹ کیا تو ٹویٹر پر چھائی خبروں سے پتہ چل گیا کہ نتائج وہی آئے ہیں جن کی مجھے توقع تھی۔ اپنی ”بصارت“ کی تصدیق کے بعد Peter Frankopan کی لکھی کتاب The Silk Roads اٹھا لی۔ تاریخی حقائق کو اس کتاب میں بہت مہارت کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے اس دور کے چینیوں کے One Belt One Road والے تصور تک آگیا اور اس تصور کی وجہ سے ذہنوں میں اُٹھے سوالات کے مناسب جوابات فراہم کرنے کی کوشش۔ رات گئے کسی وقت نیند آگئی۔ میں اس کے خمار میں بے سُدھ تھا کہ بستر کے ساتھ لگی میز پر Silent کئے فون کی گھوں گھوں شروع ہوگئی۔ گھبراتے ہوئے فون اُٹھایا۔ سکرین پر کوئی غیر ملکی نمبر تھا۔ ہیلو کیا تو دوسری جانب اپنا نام بتائے بغیر ایک شخص نے اطلاع دی کہ وہ تھائی لینڈ سے بات کر رہا ہے۔
محض یہ اطلاع دینے کے بعد مجھے بھاری بھر کم مغلظات سے نوازتے ہوئے موصوف نے ہذیانی کیفیات میں اعلان کیا کہ سینٹ کی نشستوں کو جیتنے کے لئے چند افراد نے لاکھوں روپے خرچ کئے۔ مجھ ایسے کالم نگار اور اینکرز جو بقول اس کے ماہانہ لاکھوں میں تنخواہ وصول کرتے ہیں خرید و فروخت (اصل الفاظ لکھنے کی تاب نہیں) کے اس عمل کو روکنے میں ناکام رہے۔ ذاتی حوالوں سے میری دہری مذمت اس لئے بھی واجب ہے کہ یہ سب دیکھتے ہوئے بھی میں (یہاں ایک موٹی گالی) جمہوریت کے گن گاتا ہوں، سیاست دانوں کو بے نقاب نہیں کرتا۔ موصوف کی مغلظات اور ہذیان ناقابلِ برداشت ہوگئیں تو میں نے فون بند کر دیا۔ اس کے بعد بھی وہ مسلسل کال ملاتا رہا۔ بالآخر تنگ آکر میں نے اپنا فون ہی بند کر ڈالا۔ اس کے بعد مگر نیند کہاں نصیب ہونا تھی۔
فوری خواہش تو یقیناً یہی تھی کہ کاش اس کالر کا کبھی سامنا ہو سکے اور میں اسے دکھا پاﺅں کہ اس عمر میں بھی کافی مناسب نوعیت کا ہذیان بکتا جھگڑالو شخص مجھ میں ابھی تک زندہ ہے۔ تھوڑا غور کرنے کے بعد مگر احساس ہوا کہ اس کو دوش کیوں دینا۔ میرے اپنے کئی نامور ساتھیوں نے مسلسل سیاپا فروشی کے ذریعے پیغام ہی یہ پھیلایا ہے کہ گنتی کے چند صحافی ہی پاکستان میں حق و صداقت کے علم بردار رہ گئے ہیں۔ باقی سب لکھنے اور بولنے والے ”چور اور لٹیرے“ سیاست دانوں سے لفافہ لینے والے ضمیر فروش ہیں۔
ہفتے کے دن سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے جو ”خصوصی نشریات“ ہماری سکرینوں پر چلائی گئی ہوں گی پیغام انہوں نے بھی یقیناً یہی دیا ہوگا کہ ایم پی ایز بک گئے.... سودے ہوئے.... جمہوریت مزید گندی ہوکر بے نقاب ہوگئی.... وغیرہ وغیرہ!
یہ بات شاید ہی کسی نے ہمت کرکے بارہا دہرائی ہوگی کہ اٹک سے رحیم یارخان تک پھیلے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں نون کے لاحقے والی مسلم لیگ (نون) نے 12 امیدوار کھڑے کئے تھے۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی وجہ سے وہ انتخاب سے چند ہی روز پہلے ”آزاد“ کر دئیے گئے۔ پنجاب اسمبلی کے اراکین کو ”سیزن“ لگانے کا بہترین موقع میسر ہو گیا۔ اس کے باوجود نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کے امیدوار ہی کامیاب ہوئے۔ اگر کوئی ”داﺅ“ چلا تو وہ صرف تحریک انصاف کے چودھری سرور کا تھا۔ برادری گرڈ اور کھلے ہاتھ سے ہوئے جوڑتوڑ۔ دوسری ترجیح کی سہولت کا ماہرانہ استعمال۔
تحریک انصاف مگر کرپشن کے خلاف جہاد کی اس ملک میں واحد علامت بھی ہے۔ اس کے سربراہ عمران خان صاحب ہیں۔ سپریم کورٹ سند یافتہ سچے اور ایمان دار۔ وہ اس ملک کے وزیر اعظم کے بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ خواہش مند نہ بھی ہوں تو لاکھوں پاکستانی بے تابی سے انہیں اس منصب پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔
خان صاحب مگر صرف جمہوری اور انتخابی عمل کے ذریعے ہی اس ملک کے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ وزیراعظم کا حتمی چناﺅ قومی اسمبلی نام کے ایک ادارے میں ہوتا ہے۔ خان صاحب مگر اس ادارے پر لعنت بھیج چکے ہیں۔ ہفتے کے روز بھی وہاں آنے کا تردد نہیں کیا۔ یہ ادارہ شاید اسی وقت پوتر کہلائے جانے کا مستحق ہوگا جب خان صاحب بھاری اکثریت کے ساتھ اس کے قائد ایوان منتخب ہوں گے۔ وہ دن آنے میں ابھی کافی دیر ہے۔ اگرچہ اس موقع پر پنجابی کا ایک محاورہ بھی یاد آگیا جو اس دن کا ذکر کرتا ہے جب کسی کبڑے کو گھوڑے بیٹھنا نصیب ہوتا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے اراکین کی بے پناہ اکثریت ”آزاد“ کئے امیدواروں کےساتھ کھڑی رہی پھر بھی قابلِ مذمت مگر اسی ایوان سے برادری گرڈ اور ذرا کھلے ہاتھ کے ساتھ ہوئے جوڑ توڑ کے ذریعے چودھری سرور سینٹ کے لئے منتخب ہو جائیں تو بھنگڑے۔ تبدیلی آئی رے کے نغمے اور اس سارے عمل سے قطعاً لاتعلق ہوا میں بدنصیب قابلِ مذمت کیونکہ میں ”جمہوریت“ اور انتخابی عمل کا اصولی طور پر احترام کرتا ہوں جسے پارسائی کے غم میں مبتلا حضرات ”دھندہ ہے پر گندا ہے یہ“ کہتے ہوئے گالیاں دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ دھندا اس وقت گندا نہیں رہتا جب اس کے ذریعے چودھری سرور ایوانِ بالا کے لئے منتخب ہو جائیں۔
”ایک زرداری سب پہ بھاری“ کی برکتوں سے بلوچستان اور سندھ سے آئے نتائج پر چراغ پا خواتین وحضرات طیش میں یہ حقیقت بھی بھول گئے کہ بلوچستان میں ”مودی کے یار“ کے لگائے ثناءاللہ زہری کو ہٹاکر قدوس بزنجو جیسا نیک پاک محب وطن وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا۔ وہ آیا تو ”گڈگورننس“ بھی آگئی۔ ایک زرداری نے ”مودی کے یاروں“ سے پاک ہوئی اس ”گڈگورننس“ ہی سے اپنا حصہ وصول کیا ہے۔
سندھ میں جو ہوااسے تفصیل سے بیان کرنے کے لئے ایک علیحدہ کالم کی ضرورت ہے۔ آج سے چند برس قبل مگر اس صوبے میں بھی ”گڈگورننس“ کو ایک آپریشن کے ذریعے متعارف کروانے کا آغاز ہوا تھا۔ صفائی ستھرائی کے اس عمل میں ایم کیو ایم تتر بتر ہوئی۔ اسے ختم کرنے کے لئے مصطفی کمال نے ڈیفنس کے ایک بنگلے میں لانڈری کی دوکان کھولی۔ اس دوکان پر رونق نہ لگی تو ایم کیو ایم کامران ٹیسوری کی مہربانی سے پی آئی بی اور بہادر آباد میں بٹ گئی۔ ”ووٹ بینک“ پاش پاش ہوگیا۔ کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا والے ماحول میں ”ایک زداری....“ شاطر کی طرح کھیلا اور اپنی جماعت کے جثے سے زیادہ بڑا حصہ وصول کر لیا۔
کمال کی ہٹی،کامران ٹیسوری کی پی آئی بی والی دوکان اور بہادر آباد کا دفتر ان تینوں نے باہم مل کر ”ووٹ بینک“ کی جو درگت بنائی ہے اس کا Blow Back مگر ہو گا۔ گولیمار، لالو کھیت اور رنچھوڑ لین جیسے علاقوں سے جواب یقیناً آئے گا۔ اس جواب کی کیا صورت ہوگی اسے تصور میں لانا فی الحال میرے لئے ممکن نہیں، جواب مگر ہر صورت آئے گا۔ مصطفی کمال، فاروق ستار اور بہادر آباد والے ختم ہوئے۔ دیکھنا ہوگا کہ ان کی جگہ کون لوگ کیسے نمودار ہوں گے۔
سیاست کو جب غیر سیاسی ادارے Manage کرنے کی کوشش کریں تو بالآخر منڈی ہی لگتی ہے۔ پارٹی نظم وضبط سے آزاد ہوئے افراد بکتے ہیں۔ Manage کرنے والے خوش ہوتے ہیں کہ سیاست بدنام ہوئی اور مجھ ایسے بدنصیب اس دھندے سے قطعی لاتعلق ہوئے بھی رات گئے تک مغلظات بکتے ٹیلی فونز سننے پر مجبور!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *