عدلیہ کا مشن کیا ہے؟

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار ایک مشن پر ہیں۔ وہ ملک کو کرپٹ سیاستدانوں سے بچانا اور عوام کو ہارمون فری دودھ مہیا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: میرا مقصد ملک کے عوام کو صاف ہوا، صاف پانی اور خالص دودھ مہیا کرناہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے وکلا سے بھی مدد کی اپیل کی۔ اس کے علاوہ ان کے کاموں کی لسٹ میں ہیپا ٹائٹس اور کینسر کے خلاف لڑنا اور فصلوں کی صحیح قیمت پر فروخت بھی شامل ہے۔ ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سپر پاور نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی مالی چین کے مقابلے میں سگریٹ پینے کےلیے زیادہ فرصت نکالتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ عدلیہ پاکستان کے لیے بابا رحمت کے کردار کی حامل ہے اور اس کی دیانت پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔  گاوں کے بڑے سٹھیا جاتے ہیں لیکن یہ الفاظ ہم چیف جسٹس کے بارے میں استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ایک بہت بڑا جرم ہے جسے عدالت کی توہین کا نام دیا جاتا ہے۔ اس جرم کی پاداش میں ایک سابقہ سینیٹر جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔ بہت جلد 2 حکومتی وزرا بھی ایسے ہی نتائج کا سامنا کر سکتے ہیں۔ تینوں سیاستدانوں کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔ اسی لیے ثاقب نثار اپنےساتھیوں کو ہدایت کر رہے ہیں کہ وہ عدالت میں ججز کا کام ایک نوکری کے طور پر نہیں بلکہ ایک جذبہ سے کریں۔ جولائی2017 میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو کرپشن کے الزامات پر وزارت عظمی سے نا اہل کر دیا۔ پھچلے ہفتے ایک بینچ نے جس کے سربراہ چیف جسٹس خود تھے نواز شریف کو پارٹی صدارت سے نا اہل قرار دیا اور ان کے پارٹی ٹکٹ کے حوالے سے فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیے۔ کہا جاتا ہے کہ ججز کو خود نہیں بولنا چاہیے بلکہ ان کے فیصلوں کی گونج سنائی دینی چاہیے۔ لیکن پاکستان کے ججز نہ صرف انصاف کرنا چاہتے ہیں بلکہ یہ سننا اور دیکھنا بھی چاہتے ہیں کہ انہوں نے کیا کارنامہ کیا ہے۔ نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس کے فیصلے میں ایک جج آصف سعید کھوسہ نے میریو پوزو کے ناول سے حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ہر بڑی رقم کے پیچھے کوئی جرم چھپا ہوتا ہے۔  کچھ ججز ایسے بھی ہیں جنہیں اپنی آواز سننے کا بہت شوق ہے اس لیے وہ عدالت کو بھی ٹالک شو جیسا بنا دیتے ہیں۔ موجودہ سپریم کورٹ کا ایجنڈا ٹیلیویژن پروگراموں پر منحصر نظر آتا ہے۔ بڑی خبروں پر فوری طور پر سپریم کورٹ از خود نوٹس لیتی ہے اور اس کے بعد اس کیس کی سماعت کے ذریعے ججز ہیڈ لائن میں اپنا نام لکھواتے ہیں اور اس کے لیے عجیب و غریب بیانات اور لطیفے تک بیان کرتے ہیں۔ پچھلے سال ایک جج نے حکومت کو سسیلین مافیا سے تشبیہ دی۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ثاقب نثار نے 12 کے قریب صحافیوں کو عدالت آ کر ریپ کیس کی کاروائی میں شرکت کی دعوت دی۔ ان کا مقصد ان صحافیوں کی رائے لینا تھا کہ جس اینکر نے خبر اڑائی ہے اس کے خلاف کیا کاروائی ہونی چاہیے۔ جب مظلوم بچی کا والد رونے لگا تو چیف جسٹس نے اسے اپنا ذاتی موبائل نمبر دیا اور کہا کہ وہ کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر براہ راست چیف جسٹس سے مدد مانگ سکتے ہیں۔  لیکن جو ججز مسیحا کر کردار ادا کرتے ہیں وہ اس ملک میں بہت خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ جب کوئی آرمی جرنیل حکومت پر قابض ہوتا ہے تو وہ ججز سے از سر نو حلف لیتا ہے اور ججز اس کی بات مان بھی لیتے ہیں۔ پھر یہ ججز آئین کی ایسی تشریح کرتے ہیں جس کے مطابق جرنیل کے اقدامات کو جواز بخشا جا سکے۔ اگر انہیں اس کا کوئی راستہ قانون میں نہ ملے تو وہ خود سے کوئی نیا طریقہ ایجاد کر لیتے
ہیں۔ 1954 میں مارشل لاء کے جواز کے لیے نظریہ ضرورت کا نظریہ ایجاد کیا گیا۔ اس کی لاجک یہ تھی کہ جنرل کے تحت پوری فوج ہے تو اس حالت میں آپ ہم ججزسے کیا توقع رکھتے ہیں؟  اس کے علاوہ بھی پاکستان کی عدلیہ جرنیلوں کی آلہ کار بنتی رہی ہے۔ عدلیہ نے 1979 میں ایک منتخب وزیر اعظم کو مشکوک الزامات پر پھانسی چڑھا دیا اور یہی راستہ بے نظیر کےلیے بھی اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔  کئی بار ججز اور جرنیلوں کے بیچ بھی چپقلش ہو جاتی ہے لیکن اس کا نتیجہ بھی عوام کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔ 2007 میں جنرل مشرف نے کچھ سینئر ججز کو ڈس مس کر کے انہیں نظر بند کر دیا۔ انہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بھی استعفی دینے کا کہا۔ ثاقب نثار کی طرح چوہدری افتخار بھی پاکستان کو بدلنا اور سیاستدانوں کو سکھانا چاہتے تھے کہ ملک کیسے چلایا جاتا ہے۔ انہوں نے استعفی سے انکار کر دیا اور مشرف نے زبردستی انہیں عہدہ سے ہٹا دیا۔ وکلا چیف جسٹس کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ایک ملک گیر تحریک شروع ہوئی جس کا نتیجہ مشرف کی اقتدار سے محرومی کی صورت میں نکلا۔ چوہدری افتخار بحال ہو گئے لیکن انہوں نے واپس آ کر ایک بنچ کے زریعے اپنے بیٹے کو کرپشن کیس سے بری کرا دیا۔  اس کے باوجود بہت سے ایسے معاملات ہیں جن پر سپریم کورٹ کی نظر کبھی نہیں پڑتی۔ پاکستان کی اہم خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر الزام ہے کہ اس نے 1990 کے الیکشن میں دھاندلی کے لیے سیاسی پارٹیوں میں کروڑوں ڈالر کی رقم بانٹی۔ اس معاملے میں جو کیس درج کیا گیا وہ کئی سال سے التوا کا شکار ہے۔ خفیہ ایجنسی کی طرف سے افراد کو لاپتہ کرنے اور ان پر تشدد کے ہزاروں کیسز کو بھی عدالتوں میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔  مشرف نے سر عام اعتراف کیا ہے کہ ان کے خلاف کیسز میں فوج نے مداخلت کر کے
انہیں ضمانت دلوائی۔ اگرچہ آئین توڑنے کے الزام کے باوجود مشرف دبئی میں ایک آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس کے باوجود نواز شریف کے بر عکس انہیں کبھی پارٹی صدارت سے علیحدگی کا نہیں کہا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ نواز شریف نے عدلیہ کے اس فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ممکن ہو تو میرا نام بھی چھین لو۔ کیونکہ سارے فیصلے تو صرف نواز شریف کے خلاف ہی آنے ہیں۔ ان کی بات میں وزن ہے۔ نثار بینچ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ پیشن کا مظاہرہ کریں گے لیکن یہ پیشن جانبدارانہ ہو گا۔ بہتر یہ ہے کہ پاکستان کی عدالتوں کے جج اپنے کام سے کام رکھیں اور اپنے فیصلوں میں قانون کی کتابوں کو حوالہ دیں نہ کہ دی گارڈ فادر ناول کا۔

source :
https://mobile.nytimes.com/2018/03/01/opinion/pakistan-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *