نیب ریفرنس، سکریپ دبئی نہیں، شارجہ سے جدہ لے جایا گیا: واجد ضیاء کا بیان

اسلام آباد:  شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز میں وکیل صفائی خواجہ حارث کی واجد ضیاء پر جرح جاری ہے۔ خواجہ حارث نے کہا ہم جو کام کر رہے ہیں کافی مینٹل ہے۔ نیب پراسکیوٹر نے خواجہ حارث کو مینٹل کہتے ہوئے کہا کہ آپکی عمر کا تقاضہ ہے، واجد ضیاء نے بھی خواجہ حارث کو ہدایات دینے سے منع کر دیا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز، کیپٹن صفدر اور واجد ضیاء عدالت پیش ہوئے۔ واجد ضیاء پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح شروع کی تو واجد ضیاء نے بتایا کہ کہ سپریم کورٹ کو ملنے والی تمام درخواستوں کے جائزے کے بعد جے آئی ٹی نے تفتیش شروع کی۔ شریف خاندان کے جواب میں جیری فری میں کا خط موجود تھا، جس میں جیرمی فیری مین نے حسن نواز کی کومبر گروپ، نیلسن اینڈ نیسکول سے متعلق ٹرسٹ ڈیڈ پر 2 جنوری 2006 میں دستخط کی تصدیق کی اور کہا ہم نے براہ راست نہیں بلکہ سلوسٹر کے ذریعے جیرمی فیری مین سے رابطہ کیا، جے آئی ٹی کا سوالنامہ بھیجنھے پر اتفاق ہوا لیکن انہیں پاکستان آنے کا بھی نہیں کہا تھا۔خواجہ حارث کے گلف سٹیل سے متعلق سوال پر واجد ضیا نے بتایا کہ ہماری تفتیش اور دستاویزات کے مطابق گلف سٹیل مل 1978 میں بنی، کنٹریکٹ کی تصدیق کرائے بغیر اسکے مندرجات کو تسلیم کیا، اس مل کے معاہدے کے گواہ عبدالوہاب سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا، 1980 کے معاہدے کے نوٹرائز پاکستانی قونصلر منصور حسین سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ واجد ضیاء نے بتایا کہ جے آئی ٹی کے پاس ایسی کوئی دستاویزات نہیں جس پر سپریم کورٹ کی مہر ہو، بولے کچھ مزید کہنا چاہتا ہوں جس پر معزز جج نے یہ کہہ دیا کہ اب آپ اور نہ بولیں۔ خواجہ حارث کے سکریپ مشین کے سوال پر واجد ضیاء نے بتایا کہ سکریپ مشینری دبئی سے جدہ بھجوانے والا خط جے آئی ٹی نے دیکھا تھا، سکریپ شارجہ سے جدہ گیا، یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ سکریپ نہیں، استعمال شدہ مشینری تھی۔ عدالت نے واجد ضیاء کی جرح جاری رکھتے ہوئے کیس کی سماعت پیر کی صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *