’’ریاست کا اقبال؟‘‘

انتخابات کی آمد آمد ہے، دستور کے مطابق 31 مئی کو وفاقی اور اس کے آگے پیچھے صوبائی حکومتوں نے ختم ہو جانا ہے‘ اور اس کے بعد 60 دن کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد ہونا ہے۔ امریکہ کے صدارتی انتخاب کا تو دن تک طے شدہ ہے، نومبر کے مہینے میں پہلے پیر کے بعد آنے والے منگل کو جو تاریخ بھی ہو گی امریکی قوم اسی تاریخ کو اپنا صدر منتخب کرے گی۔ (مثال کے طور پر اگر یکم نومبر کو منگل ہو، تو انتخاب اگلے منگل یعنی 8 نومبر کو ہوں گے اور اگر یکم نومبر کو پیر ہو تو الیکشن منگل دو نومبر کو ہوں گے) پارلیمانی نظام سے لطف اندوز ہونے والے ممالک میں بھی انتخابات کوئی مسئلہ نہیں رہے۔ برطانیہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا کی بات چھوڑیئے ہمارے ہمسایے بھارت میں بھی آزادی کے بعد سے اب تک انتخابات منعقد ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ہر شخص کو پتا ہوتا ہے کہ انتخابات کب اور کس طرح منعقد ہونا ہیں۔ اگر مخلوط حکومت قائم ہو اور اس میں کوئی خلل واقع ہو جائے تو عوام کی طرف رجوع کر لیا جاتا ہے۔ اگر وزیر اعظم کسی بھی وقت یہ سمجھے کہ انتخابات کا انعقاد بہتر ہو گا اور کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کرنے (یا اس پر عمل کرنے) کے لئے تازہ مینڈیٹ ضروری ہے تو اسمبلی تحلیل کر دی جاتی ہے۔ سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت بھارت میں بھی کئی بار ایسا ہو چکا ہے، اور اس طرز حکومت کی ماں برطانیہ میں بھی یہ منظر کئی بار دھرایا جا چکا ہے۔ موجودہ برطانوی وزیر اعظم نے یورپی یونین سے معاملہ کرنے کے لئے مناسب سمجھا کہ وہ تازہ مینڈیٹ حاصل کر لیں۔ ان کا خیال تھا، دارالعوام میں ان کی نشستوں میں اضافہ ہو جائے گا اور وہ نئے اعتماد کے ساتھ اپنے ایجنڈے پر عمل کر سکیں گی، اس لئے ووٹروں کو تکلیف دے دینی چاہیے۔ ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا اور ان کی پارلیمانی پوزیشن پہلے سے بھی پتلی ہو گئی، لیکن ان کے حقِ حکومت کو کسی نے چیلنج نہیں کیا، نہ ہی ان کے اندازے کی غلطی کو ان کے سیاسی کیریئر کے خاتمے کی دلیل بنایا گیا۔ وہ اطمینان سے حکومت کر رہی ہیں۔ برطانیہ میں ایسا بھی ہو چکا ہے کہ برسر اقتدار جماعت کو محض ایک ووٹ کی اکثریت حاصل تھی، لیکن حکومت پر اس کی گرفت ڈھیلی نہیں پڑی۔ بھارت میں تو یہ بھی ہو چکا ہے کہ ایک اقلیتی حکومت اس لئے برقرار رہی کہ اس کے مخالف تحریکِ عدم اعتماد لانے پر تیار نہیں تھے۔ سب کے سامنے تھا کہ مخلوط حکومت میں خلل پڑ چکا ہے اور وہ اکثریت سے محروم ہو چکی ہے، لیکن نہ صدر نے وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہا، نہ اپوزیشن نے آستینیں چڑھائیں اور گاڑی لشٹم پشٹم چلتی رہی۔
ہر پارلیمانی جمہوریت میں وزیر اعظم اقتدار کا مرکز ہوتا ہے۔ تمام ادارے رہنمائی کے لئے اس کی طرف دیکھتے اور اس کو نیچا دکھانے کو گناہِ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے ایک معتبر بھارتی صحافی (افتخارگیلانی) پاکستان آئے تو ایک استقبالیے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں وزیر اعظم کی توہین کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتیں اسے نوٹس جاری نہیں کرتیں، اسے طلب کر کے انصاف کا بول بالا کرنے کا کوئی تجربہ آج تک وہاں نہیں کیا گیا۔ عدلیہ کی بے احترامی کا کوئی تصور بھی وہاں موجود نہیں ہے۔ گیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک بار ایک چیف جسٹس سے پوچھا تھا کہ جناب اس ''ملی بھگت‘‘ کا سبب کیا ہے، تو انہوں نے ترنت جواب دیا تھا کہ ''ریاست کا اقبال‘‘... اگر ہم وزیر اعظم کو ہدف بنا لیں یا اس کے منصب کی بے توقیری کا کوئی تاثر دیں تو پھر ''ریاست کا اقبال‘‘ کیسے قائم رہے گا؟ گیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ واجپائی صاحب کے ایک وزیر قانون نے اشارتاً چیف جسٹس پر انگلی اٹھا دی تھی تو فوراً اس سے استعفیٰ طلب کر لیا گیا تھا۔ یہ تو بھارتی سیاست کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ ایک بار لوک سبھا کے سپیکر کو سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر کے (لوک سبھا کی) کارروائی کے حوالے سے استفسار کرنے کی کوشش کی تھی تو سپیکر نے نوٹس وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور یہ نوٹس عدالت کو واپس لینا پڑا تھا۔
یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے سوا کہیں بھی انتخابات سے پہلے نگران حکومت قائم کرنے کا تجربہ نہیں کیا گیا۔ بنگلہ دیش میں تو اس سے توبہ کی جا چکی ہے۔ آئین میں دوبارہ ترمیم کر کے یہ باب بند کر دیا گیا ہے، لیکن پاکستان میں نگران حکومت ہی کے ذریعے انتخابات کا انعقاد ہونا ہے۔ بھارت میں ادارے اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ انتخابی عمل میں حکومتی مداخلت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن انتخابی امور میں واحد اتھارٹی ہے اور سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کوئی عدالت اس کے کام میں دخل نہیں دیتی اور اس کے کسی اقدام کے خلاف رٹ جاری کرنے کی جسارت نہیں کر سکتی۔ بھارت میں نہ کبھی انتخابی دھاندلی کے نام پر کوئی تحریک اٹھائی گئی، نہ چیف آف آرمی سٹاف کو اس معاملے میں کوئی اظہار خیال فرمانے کی زحمت اٹھانا پڑی اور نہ ہی چیف جسٹس نے کبھی کوئی بیان جاری کیا۔
پاکستان کا باوا آدم نرالا ہے، یوں معلوم ہوتا ہے نابالغوں کی بستی میں قدم رکھ لیا گیا ہے، کسی دس سالہ بچے کی شادی کر دی گئی ہے اور اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ زوجہ محترمہ کے ساتھ معاملہ کیا کرنا ہے؟ ہر ادارہ اپنی دھونس جمانے میں لگا ہے، جہاں اختیار نامی شے کسی کے پاس آتی ہے، وہ بے قابو ہو جاتا ہے۔ اپنے اپنے ویژن کے مطابق ملک چلانے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے، عوام جن کو اس کے لئے منتخب کرتے ہیں، ان کو دھتا بنایا جاتا ہے، ان کی بے توقیری کی جاتی ہے، کبھی احتساب کے نام پر، کبھی انصاف کے نام پر اور کبھی ریاست کے مفاد کے نام پر ان کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور اس پر باچھیں کھل کھل جاتی ہیں۔ انتخابات کی آمد آمد ہے، احتسابی ادارے کی پھرتیاں دیدنی ہیں، مخصوص افراد کی طلبیاں ہو رہی ہیں، پریس ریلیزز جاری ہو رہی ہیں، ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ حکومتوں کو اپنی کارکردگی کے بارے میں اشتہار تک دینے کا حوصلہ نہیں ہو رہا، چھوٹے چھوٹے اخبارات سسکیاں لے رہے ہیں۔ چہ میگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ نگران حکومت کو آ جانے دیں، پھر دیکھئے گا، مخصوص حلقے، مخصوص افراد کو کس طرح نشانے پر رکھتے ہیں۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ نگران حکومت بجلی کے کارخانوں کو اس طرح چلائے گی کہ لوڈ شیڈنگ بڑھتی ہوئی نظر آئے، تا کہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے کے دعوے داروں کو ''نکّو‘‘ بنایا جا سکے۔ انتخابات کی تاریخ کو بھی وسوسوں کی نذر کرنے کی سعی ہو رہی ہے۔ بھارت کی معیشت کہاں پہنچ چکی، اور بنگلہ دیش کیا کمال دکھا رہا ہے، اس پر کسی کی نظر نہیں۔ بے یقینی کے سمندر میں ریاست کو غوطے لگوانے والے معاشی ترقی کے خواب بھی دیکھ رہے ہیں، گویا پائوں توڑ کر دوڑ لگانے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں۔ ''ریاست کے اقبال‘‘ کے ساتھ ایسا مذاق کسی اور ریاست میں بھی کہیں ہو رہا ہے، کسی کو ایسا کرنے کی جرات ہو سکتی ہے۔ اگر کسی کو اس کا سراغ ملے تو ہمیں ضرور لکھ بھیجئے، ہمارے صفحات حاضر ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *